رمضان المبارک اور اس کے تقاضے - بنت طاہر قریشی

الحمدللہ ماہ صیام،ماہ رمضان ایک بار پھر سے ہم پراپنی بھرپور رحمتوں،برکتوں اور انعامات کے ساتھ سایہ فگن ہے۔اس مبارک مہینے کے فضائل و برکات آیات مبارکہ کے ساتھ ساتھ احادیث صحیحہ میں بھی کثرت کے ساتھ وارد ہوئے ہیں،
چنانچہ حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ آپﷺکا ارشاد مبارک نقل فرماتے ہیں کہ: "اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ ماہ رمضان کے کیا فضائل و برکات ہیں تو ان کی تمنا ہوتی کہ پورا سال رمضان ہی رہتا"(شعب الایمان 313/3)
ایک اور حدیث مبارکہ میں رمضان کی اہمیت و فضائل کچھ ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں: " تمہارے پاس برکتوں والا مہینہ آ گیا ہے، اس میں اﷲ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے۔ رحمت نازل فرماتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے۔

اس مہینہ میں اﷲ تعالیٰ نیکی کی طرف تمہاری ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی عملی کوششوں کو دیکھتا ہے اور تمہاری وجہ سے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔ لہٰذا تم اپنے قلب و باطن سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نیکی پیش کرو کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس ماہ میں بھی اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیا گیا"(الترغیب الترہیب 2/60)
اسی طرح رمضان المبارک کے روزوں کے متعلق بھی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں،چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، آقاﷺ کا ارشاد روایت فرماتے ہیں:
"جوشخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے گا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے " (بخاری ومسلم)
دوسری طرف اس ماہ عظیم کے دینی و دنیاوی ہردو اعتبار سے کچھ تقاضے بھی ہیں جن کو بحسن و خوبی پورا کرنا نا صرف بطور مسلمان ہم پر واجب ہے بلکہ بطور عباداللہ اور بحیثیت ایک انسان ہونے کے ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ بطور مسلمان ماہ مبارک کا ہم سے تقاضا اور ہماری ذمہ داری:
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے: "رمضان اللہ کا مہینہ ہے" چنانچہ بحیثیت مسلمان ہونے کے ہماری دینی ذمہ داری ہے اس ماہ مبارک کو ٹھیک ایسے ہی گزارنے کا اہتمام کیا جائے جیسا کہ اللہ رب العزت چاہتے ہیں ،اور اللہ اپنی چاہت قرآن مجید میں یوں بیان فرماتا ہے کہ : "تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے چاہیئے کہ وہ پورے روزے رکھے،البتہ جوبیمار ہویا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے،اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں ، وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اوراللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائياں بیان کرو اوراس کا شکربیان کرو(البقرہ 185)

یہ بھی پڑھیں:   گرمی کا موسم ، رمضان اور بادام کی سردائی

لہذا ہم پر فرض ہےکہ کسی بھی اشد مجبوری کے علاوہ ہمیں رمضان کے روزے نہیں چھوڑنے چاہئیں،تاکہ ہم رمضان کی ناقدری کےساتھ ساتھ اللہ کی ناراضی جیسے عظیم گناہ سے بھی بچ سکیں۔ اسی طرح بحیثیت امت محمدیہﷺ کےایک فرد کے ہماری دینی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم اس عظیم مہینے کا ایسا ہی استقبال کریں،اور اس کو اسی طرح گزارنے کا اہتمام کریں جیسا کہ ہمارے پیارے پیغمبرﷺ اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیھم اجمعین گزارا کرتے تھے، اور ہمارے پیارے پیغمبرﷺ رمضان کا استقبال و اہتمام کیسے فرماتے تھے، آئیے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاکی روایت کردہ حدیث مبارکہ سے جانتے ہیں:
’’جب ماہ رمضان شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا، آپﷺ کی نمازوں میں اضافہ ہوجاتا، اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کرتے اور اس کا خوف طاری رکھتے"(، شعب الايمان: 3625)
اسی طرح دیگر احادیث صحیحہ بھی بتاتی ہیں کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ کی عبادات کے ساتھ ساتھ سخاوت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم تو کچھ یوں ہے کہ آپﷺ کی سخاوت رمضان میں تیز ہوا کے جھونکوں سے بھی بڑھ جاتی، یعنی خوب کثرت سےسخاوت فرماتے،اسی طرح ماہ رمضان میں آپﷺ قیدیوں کوبھی رہائی عطافرماتے تھے،لہذا ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم حضورﷺ کے امتی ہونےکی حیثیت سےماہ رمضان میں ان تمام اعمال کااہتمام کرنے کی پوری کوشش کریں جوہمارے پیغمبرﷺ نےاپنی امت کو تعلیم کرنے کی غرض سےبطور خاص اس ماہ میں کیے۔

بطور عباداللہ ماہ رمضان میں ہماری دنیاوی ذمہ داریاں : بطورعباداللہ ماہ رمضان میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خصوصی طورپر اللہ کےبندوں کےساتھ اچھامعاملہ رکھیں،اپنی زبان اورہاتھ کو اذیت رسانی سےمحفوظ رکھیں،کوئی جھگڑا کرےتوجوابا اس سے ناجھگڑیں بلکہ فرمان آقاﷺ کے بموجب نرمی سے"انا صائم"(میں روزے سے ہوں،یعنی تم سے جھگڑاکرکے اپنےروزے کا اجر ضائع نہیں کروں گا) کہہ کر جھگڑے کے مقام سے دور ہٹ جائیں،صدقات وخیرات کاخوب اہتمام کریں کیونکہ یہ پیارےآقاﷺ کی سنت بھی ہے اور غریبوں سے ہمدردی بھی،تاکہ وہ بھی دیگر افراد کی طرح رمضان کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکیں،روزےداروں (خصوصا غریب اور مسافر روزے داروں)کوافطار کروائیں کیونکہ احادیث مبارکہ میں روزہ افطار کروانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے,اپنےروزے دار ملازموں کےکاموں میں تخفیف کریں،ہوسکے توان کےکاموں میں ان کا ہاتھ بٹائیں یہ تمام وہ اعمال ہیں جوہم پرواجب تونہیں لیکن بحیثیت عباداللہ ہونےکی ان کی ادائیگی ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم پر لازم ہے کہ ہم سب اپنی دینی اور دنیاوی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کی کوشش کریں تاکہ اللہ رب العزت کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کو بھی حاصل کرنے والے بن جائیں ۔ دعا ہے کہ باری تعالی ہمیں رمضان کے بابرکت مہینےکوٹھیک انہی معنوں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائےجیسا کہ اس ماہ مبارک کا حق اور اللہ رب العزت کاحکم ہے،آمین۔