ٹیکس جرمانہ یا کار ثواب؟ ارشاد احمد عارف

ایک ایسا ملک ٹیکسوں کے حصول میں ناکام کیوں؟ جس کے عوام کی فیاضی اور ایثار کا زمانہ معترف ہے 2005ء میں خوفناک زلزلہ آیا اور 2010ء میں بدترین سیلاب نے خیبر پختونخواہ ‘ پنجاب اور سندھ کو لپیٹ میں لیا تو عوام کے جذبہ ایثار و فیاضی نے دنیا کو حیران کیا‘ میں زلزلے کے کم و بیش دو اڑھائی ہفتہ بعد آزاد کشمیر گیا تو مری سے کوہالہ تک امدادی سازو سامان سے لدے کنٹینروں ٹرکوں اور ویگنوں کی قطار نظر آئی ۔مظفر آباد‘ باغ‘ بالا کوٹ اور جن دیگر مقامات پر جانے کا موقع ملا ‘امدادی کیمپوں میں اشیائے خورو نوش‘ کپڑوں ‘ ادویات‘ تعمیراتی سامان اور ضرورت کی دیگر چیزوں کی بہتات تھی مگر لینے والوں کا بے تحاشہ رش نہ کسی زباں پر شکوہ و شکائت ‘کہ یہ نہیں ملا‘ وہ نہیں ملا۔ یہی دولت مند‘ سخی اور خدا ترس اصحاب ثروت مگر‘ پورا ٹیکس نہیں دیتے اور الاماشاء اللہ رشوت دے کر ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ایک سبب تو یہ ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں نے کبھی عوام کیا‘ اچھے خاصے پڑھے لکھے طبقے کو یہ باور ہی نہیں کرایا کہ ٹیکس دینا کیوں ضروری ہے؟ ٹیکس کو لوگ قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں نہ اسے سیاستدانوں‘ دانشوروں اور علماء نے صدقہ و خیرات کی طرح کار ثواب بتلایا۔ یہاں مسجد‘ دینی مدرسہ اور یتیم خانہ بنانا کارثواب ہے مگر سکول‘ ہسپتال‘ صاف پانی کے پلانٹ اور سڑک کی تعمیر نہیں۔

ٹیکس ایک جرمانہ ہے جو لوگ طوعاً وکرہاً ادا کرتے اور ہر دم پچھتاتے ہیں کہ موٹر سائیکل کا ٹوکن ٹیکس نہ دینا پڑتا تو آج اس رقم سے کڑاہی گوشت یا چرسی تکے کے مزے اڑاتے۔ دوسری وجہ ٹیکس گزاروں سے حکومت اور ایف بی آر کا غیر دوستانہ رویہ ہے۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ریاستی خزانے میں اپنی محنت مشقت کی کمائی کا ایک حصہ جمع کرانے والے مجرم ہیں جبکہ سرکاری وسائل سے تنخواہ اور دیگر جائز و ناجائز مراعات کی شکل میں مستفید ہونے والے معزز و محترم۔ برسوں قبل قبائلی علاقوں میں جانا ہوا تو پتہ چلا کہ یہاں بعض ایک روپے اور دو روپے کے ملک ہیں جنہیں سرکار دربار میں پذیرائی حاصل ہے۔ ماتھا ٹھنکا کہ ایک روپے دو‘ روپے کے ملک چہ معنی؟ بتایا گیا کہ انگریز دور میں چونکہ عزت کا معیار یہ تھا کہ کوئی شخص حکومت سے کتنا وظیفہ لیتا ہے‘ تو چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے سردار بھی ملک کہلانے کے شوق میں ایک دو روپے ماہانہ وظیفہ پر راضی ہو گئے اور وہ آج بھی اس پر راضی ہیں پولیٹیکل ایجنٹ اوردوسرے سرکاری اہلکاروں سے ملاقات اور تھپکی ان کی اصل آمدن و اوقات ہے جو ایک دو روپے کی وصولی کے بغیر ممکن نہیں۔

یہی ذہنیت ہے جس نے ہمارے حکمرانوں کو عالمی سامراج اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا باجگزار بنایا اور بالآخر ہم اقتصادی و معاشی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے پر مجبور ہوئے۔ حالت یہ ہے کہ ہم سالانہ دو ارب ڈالر حاصل کرنے کے لئے آئی ایم ایف کی ہر جائزو ناجائز شرط ماننے پر مجبور ہیں۔ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے روبرو کشکول لے کر کھڑے ہیں اپنے باپ کے سامنے کبھی ہاتھ نہ پھیلانے والا وزیر اعظم عمران خان قوم و ملک کی خاطر دوست ممالک کے سربراہوں اور آئی ایم ایف کے اہلکاروں کے نخرے برداشت کر رہاہے۔ عزت نفس اور انا کی قربانی دے کر ان کی منت سماجت کر رہا ہے‘ مگر وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے بابو ٹیکس چوروں کے لئے سزا اور ٹیکس گزاروں کے لئے جزا کا نظام وضع کرنے پر تیار ہیں نہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اٹھارہ ارب انیس ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیجنے کے عوض عزت اور مراعات دینے پر آمادہ ۔

کون نہیں جانتا کہ آئی ایم ایف ہمیں سوا تین سال کے عرصے میں صرف چھ ارب ڈالر ادھار دیگا‘ ہماری کل سالانہ برآمدات اسحق ڈار کی تباہ کن پالیسیوں کے سبب پچیس ارب ڈالر سے گھٹ کر بیس ارب ڈالر رہ گئی ہیں جبکہ اوورسیز پاکستانی اپنی محنت کی کمائی کسی طمع اور لالچ‘ شرط اور نخرے کے بغیر اندرون ملک بھیجتے ہیں مگر ہمارے ریاستی ادارے‘ بیرون ملک سفارت خانے اور ہوائی اڈوں پر سرکاری اہلکار ان سے بدترین سلوک کرتے اور ہرگز نہیں شرماتے۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے اوورسیز پاکستانیوں کی طرف عمران خان‘ حکومت پاکستان اور وزارت خزانہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے لکھا ہے’’میرا پہلا سوال یہ ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ ڈالرز کون دیتا ہے؟ 1۔آئی ایم ایف؟ نہیں وہ صرف چھ ارب ڈالر دیگا اوروہ بھی ناقابل برداشت شرائط پر‘ بائیس کروڑ عوام کی سیاسی آزادی اور خودمختاری گروی رکھ کر۔ 2۔ امریکہ؟ نہیں وہ اب بلین نہیں ملینز میں امداد دیتا ہے اور وہ بھی ہماری حاکمیت اعلیٰ کے عوض‘ قومی توہین و تذلیل کا کوئی موقع ضائع کئے بغیر۔ 3۔ چین اور سی پیک؟ نہیں سی پیک کا تو پورا پراجیکٹ ہی پینتالیس ارب ڈالر کا ہے جس میں قرضے اور سودی سرمایہ کاری دونوں شامل۔

تو پھر کون ہے جو ہمیں سب سے زیادہ ڈالر دیتا ہے؟‘‘ ’’وہ بیرون ملک پاکستانی ہیں‘ محنت کش اورجذبہ حب الوطنی سے سرشار بے لوث پاکستانی ‘پچھلے دس مہینوں میں انہوں نے اپنے ملک میں اٹھارہ ارب ڈالر بھیجے ہیں ان کی کوئی شرط نہ احسان جتلانے کا مزاج۔ میرے خیال میں سمندر پارپاکستانی محنت کش ہمارے حقیقی محسن اور وی وی آئی پی ہیں‘ ان کے اس جذبے اور ایثار کی قدر نہ کر کے ہم اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان میں ٹی وی چینلز پر صبح و شام ملک کو لوٹنے والوں کا تذکرہ ہوتا ہے‘ مصنوعی محسنوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے مگر مجال ہے کہ کسی نے بیرون ملک پاکستانی محنت کشوں پر کوئی ٹاک شو کیا ہو۔ ان میں سے کسی کو حکومت نے قومی اعزاز سے نوازا ہو؟ کیا ان کو ایوان صدر‘ وزیر اعظم ہائوس‘ گورنر ہائوس اور سی ایم ہائوس میں کسی قومی تقریب میں مدعو کیا گیا؟ ہم کمانے والوں اور دینے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور لوٹ مار کرنے والوں کو معزز جان کر سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ میری ان تجاویز پر غور کریں اور اللہ توفیق دے تو عمل کریں۔ 1۔ ہر اس سمندر پار پاکستانی کو وی آئی پی کارڈ جاری کیا جائے جو زرمبادلہ کی صورت میں مخصوص رقم بذریعہ بنک پاکستان بھیجے انہیں ہوائی اڈوں اور سرکاری دفاتر میں پروٹوکول دیا جائے۔

پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے ان کے ساتھ احترام سے پیش آئیں۔ 2۔ انہیں ایوان صدر‘ وزیر اعظم ہائوس وغیرہ کی سرکاری تقریبات میں مدعو کیا جائے۔ 3۔ عمر رسیدہ پاکستانیوں کے بچوں کی اندرون ملک فنی‘ تکنیکی اور اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ بچے بھی پاکستان سے جڑے اور اپنے والدین کی طرح پاکستان کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہیں‘‘ عمران خان نے اپوزیشن کے دنوں میں سمندر پار پاکستانیوں کو سنہرے خواب دکھائے تھے۔ ان کی نئی معاشی ٹیم کا فرض ہے کہ وہ ان خوابوں کی تعبیر کو یقینی بنائے اور ٹیکسوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے جہاں ترغیب‘ دبائو اور سزا و جزاکے بارے میں سوچا جا رہا ہے وہاں دانشوروں ‘ تجزیہ کاروں‘ ٹی وی اینکرز‘ علمائ‘ شعرا‘ ادیبوں کے ذریعے ایک بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے جس میں عوام بالخصوص امیر طبقے کو ٹیکس بطور جرمانہ وہرجانہ نہیں بلکہ کار ثواب ادائیگی پر آمادہ کیا جائے ؎ نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا پُل بنا چاہ بنا‘ مسجد و تالاب بنا دولت مند طبقے کو اگر قائل کر لیا جائے کہ ان کے خون پسینے کی کمائی قومی خزانے میں جا کر حکمرانوں عوامی نمائندوں اور سرکاری افسروں کی عیاشیوں پر خرچ نہیں ہو گی‘ لٹیروںکے بیرون ملک اثاثوں اور بنک بیلنس میں اضافے کا باعث نہیں بنے گی بلکہ تعلیمی اداروں‘ ہسپتالوں ‘ مساجد و مدارس ‘ پلوں‘ پانی کے تالابوں کی تعمیر اور یتیموں‘ بیوائوں کمزور طبقات کو بنیادی انسانی سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ ہو گی تو قومی آفات کے موقع پر امداد کے ڈھیر لگانے‘ شوکت خانم کینسر ہسپتال‘ جیسے اداروں کو اربوں روپے فراہم کرنے والے اہل خیرٹیکسوں کی ادائیگی میں بھی لیت و لعل نہیں کریں گے یہ کام مگر وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے بابو کبھی نہیں کریں گے ان کا مزاج ہے نہ نظریہ و عقیدہ ۔ عمران خان خود ہی آگے بڑھے تو شاید کوئی پیش رفت ہو۔