تین عورتیں تین کہانیاں - نیر تاباں

•» میری شادی کو آٹھ ماہ ہوئے ہیں۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں، گولڈ میڈلسٹ ہوں، ہمیشہ ہر ایک کی منظورِ نظر رہی ہوں ۔ لیکن میرے شوہر آئے دن کسی نہ کسی بات پر خفا ہوتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، بےعزتی کرتے ہیں۔ غلطی انکی بھی ہو تو میں ہی ان سے معافیاں مانگتی ہوں تا کہ ان کا موڈ اچھا ہو جائے۔ پانچ وقت کے نمازی ہیں، ہر ایک کے ساتھ بہت اچھا اخلاق ہے انکا، میرے ساتھ لیکن ایسے ہیں کہ بات بات پر اکھڑنا، مجھے ہر وقت ایک خوف رہتا ہے کہ کب کس بات پر بےعزتی کر دیں گے۔ میرا سارا کانفیڈنس ختم ہو گیا ہے۔ کام سے واپس آ کے کالز، فون، کمپیوٹر اور پھر وہیں کمپیوٹر روم میں سو جاتے ہیں۔

•» میری شادی کو دو سال ہوئے ہیں ۔ مالی اعتبار سے میرے شوہر ہم سے کافی کم تھے لیکن حافظِ قرآن تھے اس لئے ابو نے رشتہ کر دیا ۔ مجھے تھوڑی مشکل تو ہوتی ہے گھر کے کاموں میں لیکن کبھی کوئی شکوہ زبان پر نہیں لائی۔ میرے سسرال والے بہت اچھے ہیں۔ چند ماہ کا ایک بیٹا ہے۔ جاب سے آ کر میاں رات گئے تک فون میں لگے رہتے ہیں۔ میرا دل کرتا ہے کہ کبھی میری تعریف کر دیں، کبھی باتیں کریں، کبھی کوئی چاکلیٹ وغیرہ یا کوئی پھول لیتے آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ ایک نگاہِ غلط تک نہیں ڈالتے مجھ پر۔ میرا اندر ٹوٹتا جا رہا ہے اور مسلسل بےوقعتی کی وجہ سے میرا کانفیڈنس کم ہو رہا ہے۔ اندر شدید اداسی ہے۔ سمجھ نہیں‌ آتا کہ اس مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور اداسی کے ساتھ بچے کی بہترین شخصیت کی تعمیر کیسے کروں گی؟!
•» میری شادی کو نو سال ہوئے ہیں۔ بچہ نہیں ہے۔ شوہر لیٹ نائٹ کام سے واپس آتے ہیں اور بس اپنی ذات میں بند رہتے ہیں۔ پیسے کے علاوہ میری کوئی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ میں خود جاب کرتی ہوں اور شوہر سے زیادہ کماتی ہوں۔ اپنے گھر کے ساتھ اپنی بیوہ بہن اور اپنے ایک دیور اور ساس سسر کا خرچہ بھی اٹھا رہی ہوں۔ میں شوہر سے دو ٹوک بات بھی کر چکی ہوں کہ اگر اسکی بےتوجہی برقرار رہی تو میں اس سے علیحدگی لے لوں گی۔ میری اب بس ہو چکی ہے۔ اس شدید ڈیپریشن میں میری ملاقات ایک بندے سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   *ٹکور* عظمی ظفر

شادی سے پہلے وہ ہمارے گھر کے اوپر والے پورشن میں کرائے پر رہتا تھا۔ فیس بک پر اس نے مجھے ڈھونڈا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا اس سے یوں باتیں کرنا غلط ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کل کو مجھے اپنائے گا یا نہیں لیکن میں اب مزید اپنی ضروریات کا گلا نہیں گھونٹ سکتی۔ میں نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تین عورتیں، تین کہانیاں تو سب نے ہی سن رکھا ہے لیکن متعدد خواتین کی ایک ہی کہانی سنیے۔ حقیقی زندگی کے ان حقیقی کرداروں سے ملئے۔ یہ تین مختلف کردار سہی, کہانی کی جزئیات میں فرق سہی مسئلہ سب کا ایک ہی ہے! شوہر کی بےتوجہی! سب کو شوہر سے یہی شکوہ ہے کہ پیسے کے علاوہ کوئی اور ضرورت پوری نہیں کرتے۔ بات بات پر بےعزتی کرنا جنکا مشغلہ ہے۔ کیا وجہ ہے؟ جو عورت گھر میں بیٹھی پورا دن آپکا انتظار کرتی ہے، آپکے گھر والوں کے ساتھ بہترین پیش آنے کی کوشش کرتی ہے، آپکی غیر موجودگی میں آپکے گھر اور بچے کا خیال رکھتی ہے، کیا وہ محبت کے دو بول deserve نہیں کرتی؟ پیسے کی اہمیت سے مجھے انکار نہیں لیکن کیا جذبات کی کوئی اہمیت نہیں؟ چاہنا اور چاہے جانے کی خواہش کرنا کیا غلط ہے؟ کیا یہ واقعی کتابی باتیں ہیں؟ بیس پچیس سال سب سے بچا کر اپنا آپ آپکے لئے سنبھال رکھتی ہے اور آپ اسکے ساتھ یہ کرتے ہیں؟

چھپ کر افیئر چلانے والی لڑکیوں کی اگر کھوج لگائیں تو ہمیشہ انکا مسئلہ چاہت کی کمی ہی نکلے گا۔ ماں باپ کے گھر میں ہوں یا شوہر والی ہوں۔ جب وہ کوئی غلط اقدام اٹھا لیتی ہیں تو بری بنتی ہیں لیکن انکو اس حد تک پہنچانے والا کون ہے؟ لہجے میں گھلی تلخی معاف کیجیے گا لیکن ان سوالوں کو اٹھانا ضروری ہے۔ بیوی کے کہے 'لو یو' کو شوہر کا 'لو یو ٹو' کیوں نصیب نہیں ہوتا؟ میں ان بہنوں کو کہتی ہوں کہ آپ انسانوں سے توقع نہ رکھیں، اللہ کی خاطر کرتی جائیں۔ اس سے تعریف اور اپروول نہ چاہیں، اپنے لیئے سجیں، وہ محبت کا اظہار نہیں کرتا تو بھی آپ کرتی رہیں، لیکن کیا یہ سب پریکٹیکلی ممکن ہے؟ ایسی محبت تو رب ہی کر سکتا ہے کہ ہم اپنے آپ میں گم رہیں لیکن وہ ہماری ہر نافرمانی کے باوجود ہم سے محبت کئے جائے، کئے چلے جائے۔ یا پھر ماں باپ ہوتے ہیں جو ہماری بےرخی کے باوجود بےلوث محبت لٹائے چلے جاتے ہیں، دعائیں دیتے جاتے ہیں۔ باقی سب رشتوں میں گِو اینڈ ٹیک ہے۔ آپ ایک بار، دو بار، پچاس بار انہیں ٹھکرئیں اور ایک وقت آئے گا جب آپ انہیں کھو دیں گے۔ رشتہ باقی بھی رہ گیا تو محبت اور عزت مفقود ہو گی۔ نہ کیجیئے! خدارا ایسا نہ کیجیے! یہ نازک آبگینے ہیں، انکے ساتھ محبت سے پیش آٸیے

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.