سمجھیں یا سمجھائیں - نثار موسیٰ

انسان کی فطرت میں حکم دینا ایک جبلت کے طورپر موجود ہے ۔ انسان یہ سمجھتا ہےکہ وہ سمجھا سکتا ہے۔کسی بھی انسان کو جو اس کی رعیت میں ہوخواہ وہ پھر اس کی اولاد میں سے ہو ،ملازم ہو،دوست ہو الغرض ہر انسان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو سمجھائے ،نصیحت کرے۔
اوردوسری طرف انسان سمجھنے سے اکثر پہلو تہی کرتاہے ۔کوشش نہیں کرتا کہ وہ دوسروں کو سمجھے۔دوسروں کے نقطہ نظر ،شخصیت ،زاویہ نگاہ ،سوچ وفکر کو سمجھے۔

اکثر اوقات والدین اور خاص کر اساتذہ اکرام کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر بات بچوں کو سمجھائیں۔اس کوشش کےدوران بسا اوقات طاقت کا استعمال اور زبردستی ،ناراضگی اور غصہ شامل ہوجاتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے اپنے والدین سے اور طلبہ اپنے ٹیچرز سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
اگر ہم کوشش کریں کہ سمجھانے سےپہلے بچوں کو سمجھیں ان کے خیالات ،سوچ وفکر،پسندو ناپسند، صلاحیتیں اور آنے والے دنوں کے خواب کیا ہیں؟ وہ کس طرح سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ؟ کن کن چیزوں سے ان کو کوئی دلچسپی ہے اور کن کن چیزوں سے ان کو دلچسپی نہیں ہے۔
ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ آپ کی وہ بات پسند نہیں کرتے جو ان کی شخصی آزادی ،ان کے شوق اور ذوق کے خلاف ہوتی ہے۔ اگر ہم سمجھانا چھوڑ کر سمجھنے والے سفر پر روانہ ہوجائیں تو بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی کیوں کہ ان کو یہ محسوس ہونا شروع ہوجائے گا کہ کوئی ہے جو ان کی سنتا ہے ۔ان کو ان کی شخصیت اور شوق دلچسپیوں کے ساتھ قبول کرتا ہے۔
یاد رکھیں ! سمجھانے والے اکثر اپنی پسند وناپسند شوق اور شخصیتیں بچوں کے اوپر تھونپ رہے ہوتے ہیں اور بچے کسی دوسرے کی شخصیت اپنی شخصیت سمجھ کر قبول کریں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟غور و فکر کریں تو پتہ چلے گا اور یہ بات عام مشاہد ہ میں بھی آئی ہے کہ تعلقات میں دوریاں اس وقت پیدا ہوجاتی ہیں جہاں ہم دوسروں کو قبول کرنے کے بجائے ہم فتح کرنا شروع کردیتے ہیں اور اسی فتح سے سرشار ہوکر اپنی طاقت کا لوہا منواتے ہیں۔طاقت جسم فتح کرسکتی ہے، زیر کرسکتی ہے،جھکا سکتی ہے جبکہ قبولیت کے لیے دوسروں کی صلاحیتوں پر اعتماد اور سمجھانا،دلوں کو فتح کرنا اور دیرپا تعلق کی بنیاد بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

ہمارے بچے ہم سے یہ توقع اور امید کرتے ہیں کہ ہم انہیں سمجھانے کے بجائے سمجھنا شروع کردیں تاکہ ان کو اپنی شخصیتوں ،صلاحیتوں،قابلیتوں کو آزادی کے ساتھ اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع مل سکے۔
یادرکھیں! ”سمجھانا “حکم ہے اور ” سمجھنا “ حکمت ہے۔”حکم“ طاقت اور” حکمت“ محبت ہے۔ حکم میں غصہ اور حکمت میں پیار ہوتاہے۔
”حکمت “مشکل کام ہے کیوں کہ ہم دوسروں کے نقطہ نظر پرباریک بینی سے غورفکر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمدردانہ طریقے سے اس کی اہمیت کے مطابق معاملہ کر رہےہوتے ہیں۔ حکمت ہمیں صبر کے راستے پر لگاتی ہے اور صبر کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سامنے والے آپ کو دل سے قبول کرنے لگتے ہیں کیونکہ آپ دلچسپی سے کسی کو اپنا وقت اور توجہ دے رہے ہو تے ہیں۔ آج کے عہد میں وقت اور توجہ سے بڈھ کر کوہی اور چیز کیا ہو سکتی ہے۔ لو گوں کو سمجھنے کےلیئے کچھ وقت اور تھوڈا سا توجہ ضرور دیں تاکہ آپ بھی وقت اور توجہ مل سکے۔
”حکمت“ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کی زندگی خوبصورت اس وقت ہوتی ہے جب ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، مدد، راستہ اور ایک دوسرے کو سہولت فراہم کرنا شروع کردے۔ بچوں کو سمجھیں ان کی زندگی کے خوبصورت لمحات میں آپ کی شفقت، محبت اور قبولیت سے چار چاند لگ سکتے ہیں اور ہمارے بچوں کو یہ خوبصورت زندگی اسکول، گھر، معاشرے اور مملکت میں ضرور ملنا چاہییے۔
جب آپ بچوں کو سمجھنا شروع کردیں گے تو وہ لازمی طور پر آپ کے پاس سمجھنے کے لیے آئیں گے۔