عورت ایک ستر ہے - رقیہ فاروقی

میں ہما کے تسلسل کے ساتھ بہتے ہوئے آنسوو ں کو دیکھ رہی تھی۔ گھمبیر آواز میں اس کی التجا میرے دل کو زخمی کر رہی تھی۔ باجی! میری شادی کے سلسلے مناسب رشتے کے لیے رہنمائی کر دیجئے۔ میں بیس سال سے پارلر میں کام کر کر کے تھک گئی ہوں۔ میں باہر کی دنیا سے عاجز آگئی ہوں۔ میں نے حیرانگی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پوچھے بنا رہ نہ پائی۔ کیا واقعی! تم آزادی کو لات مار کر اپنی اصل کی طرف لوٹنا چاہتی ہو؟

وہ تو گویا پھٹ ہی پڑی ۔ ایک ترنگ میں بولتی ہی چلی گئی۔ باجی! آپ کو کیا معلوم؟ جو عورت گھر سے باہر قدم نکالتی ہے۔ اسے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کسی ادارے میں ملازمت ہو تو آنرز کی جھڑکیاں تو روز مرہ کی بات ہے اس کے علاوہ تنخواہوں کے حصول میں جان توڑ کوششیں ہوں یا ٹھٹھرتی صبحوں میں سواری کا جان لیوا انتظار۔ ہر رخ اس صنف نازک پر گراں ہے۔ اس لیے میں چاہتی ہوں کہ میں نکاح کے بندھن میں بندھ کر کسی محافظ کی حفاظت کے مضبوط حصار میں پناہ لے لوں۔ اس کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوا کہ اصل کو کون بدل سکتا ہے؟ کیا چند پوسٹر کے ذریعے سے عورت کی فطرت کو بدلا جا سکتا ہے۔ بالکل بھی نہیں، عورت کی اصل پردہ ہے۔ اس لیے اسے چھپنے میں ہی راحت ملتی ہے۔ جس قدر وہ عیاں ہوتی ہے، اسی قدر بے سکون ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر یہ بے سکونی اس کے لیے جان کا روگ بن جاتی ہے لیکن اس کو آزادی کے خواب دکھا کر ایک ایسا حیوان بنا دیا جاتا ہے، جو محض خواہشات نفسانی کی تکمیل کا ذریعہ ہو۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اسلام نے عورت کو بہت عزت دی ہے مگر اس عزت کے مقام کو پانے کے لیے اس کے گرد ایک حصار باندھ دیا ہے۔ چاہے وہ شوہر کی صورت میں ہو یا کسی بھی محرم کی صورت میں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمت، جرات اور عورت - زرین آصف

اس سے باہر نکل کر تو ایک خوفناک جنگل ہے۔ جہاں ہر قدم پر شیطان تاک میں ہے۔ ادھر اس کا پاو ں پھسلا ، ادھر پستیوں کے پاتال میں اترتے جھٹ بھی نہیں لگتا ہے۔ پھر عورت ہی مطعون ٹھہرتی ہے۔ ساری زندگی اس کا گناہ زمانہ یاد رکھتا ہے۔ وہ اپنا تشخص کھو بیٹھتی ہے لیکن فہم کی آنکھ کھلنے تک تباہی کے وہ در وا ہو چکے ہوتے ہیں جن کے پٹ کو دھکیلنے کے لیے مدتوں کی توانائیاں درکار ہوتی ہیں۔ پھر سوچتے سمجھتے اور جانتے بوجھتے کتنی معصوم لڑکیاں زندہ لاشوں میں بدل جاتی ہے۔ جہاں آنکھیں دیکھتی ہیں، لیکن رنگوں کی جھلک معدوم ہو جاتی ہے۔اے بنت حوا! تم تو شرم کا استعارہ ہو اپنے دامن کو سنبھال لو۔ تمھیں تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نازک آبگینے کی مانند فرمایا ہے۔ تمھارا جھوٹا پانی پی کر جاہلیت کے تاثرات کو مٹا دیا ہے۔ تمھارے لیے محرم رشتوں کو محافظ بنایا ہے۔ اتنے احسانات کی ناقدری مت کرو۔ چند ٹکوں کی خاطر نکاح جیسے مقدس رشتے کی توہین مت کرو۔ نام نہاد آزادی میں کتنادور جاو ں گی؟ خیال کرنا۔ کہیں واپسی کے دروازے بند نہ ہو جائیں، پھر تم ویرانوں میں کسی بدروح کی طرح بھٹک جاو ۔ اس سے پہلے ہی اسلام کے دیے ہوئے مقام کو پہچانو اور اپنی اصل کی طرف لوٹ آو ۔ جو تمھارے نام کا مطب ہے۔ ہاں! بے حیائی سے تائب ہو کر ستر کی طرف لوٹ آو۔