پاکستان میں کامیاب سیاست اور اُم نصرت فائونڈیشن- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وزیر پٹرولیم غلام سرور اپنی ڈگری کے جعلی ہونے کے کیس سے بری ہو گئے ہیں۔ اینٹی کرپشن نے ان کے خلاف مقدمہ جھوٹا قرار دیدیا۔ اینٹی کرپشن کے سینئر جج نے انہیں بری کیا ہے۔ اب جھوٹا مقدمہ کرنے والے آدمی پر مقدمہ چلایا جائے اور سخت کارروائی کی جائے۔ 44 سال پرانا یہ مقدمہ صرف سیاسی بنیادوں پر درج کرایا گیا تھا۔ جھوٹے مقدمے کی پیروی کرنے والے شخص کے انجام سے دوسرے لوگوں کو عبرت ہوگی کہ اس طرح کسی کو بدنام کرنے اور پریشان کرنے کی سزا کیا ہوتی ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ اس طرح کے مقدمے کیلئے ایسی کارروائی کی جائے کہ آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت نہ کر سکے۔ کئی لوگ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے الیکشن جیت کر عرصۂ اقتدار بہت آرام سے گزار لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی الیکشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کے خلاف تو کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک میں جو سیاسی نظام چلایا جا رہا ہے‘ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرف کسی نے توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔

آجکل بہت سرگرم سیاستدان رحمن ملک کتاب کے مصنف ہو گئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے حوالے سے عمران خان بیانات دیتے رہتے ہیں۔ انہیں رحمن ملک نے مشورہ دیا ہے کہ وہ مودی کے بارے میں ان کی کتاب پڑھیں۔ میں نے بھی وہ کتاب نہیں پڑھی۔ اکثر سیاستدانوں نے ایک کتاب بھی پوری نہیں پڑھی ہوگی۔ شکر ہے کہ رحمن ملک نے اپنی کتاب تو پڑھی ہوگی۔ میں ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میں نے سنا ہے کہ وہ زرداری صاحب پر بھی ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ مگر ابھی ان کو بلاول زرداری نے منع کر دیا ہے۔ آجکل پیپلزپارٹی والوں کے اصل لیڈر بلاول زرداری ہیں مگر اصلی لیڈر خود آصف زرداری ہیں۔

رحمن ملک نے دعویٰ کیا ہے اور وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ مودی نے پاکستان کو دولخت کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ یہ تو مودی نے بھی سابق مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں خود کہا تھا۔ رحمن ملک یہ بھی بتائیں کہ بھٹو صاحب نے پاکستان کو دولخت کرنے میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ اس کی صرف یہ دلیل ہے کہ بھٹو کبھی بھی متحدہ پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔

خود ہم نے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا ہوتا تو تاریخ میں یہ بدنامی ہمارے ذمہ نہ ہوتی کہ ہم بھارت سے جنگ ہار گئے تھے۔ بھارت مغربی پاکستان (پاکستان) کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ہم اس کیلئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کے شکرگزار ہیں۔

بھٹو صاحب نے ایٹم بم کی بنیاد رکھی کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ پاکستان میں مشرقی پاکستان شامل نہیںہے۔ میرے خیال میں اگر آغاز ہی میں مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا جاتا تو اس کا نام بھی بنگلہ دیش نہ ہوتا۔ مشرقی پاکستان ہوتا اور وہ ایک نمایاں اسلامی ملک ہوتا۔ حسینہ واجد کبھی اس خطے کی وزیراعظم نہ ہوتی۔ شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کا وزیراعظم نہیں بننا چاہتا تھا۔

اسے بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان سے رہا کرکے وہاں بھیجا تاکہ وہ بنگلہ دیش کا وزیراعظم بنے۔ اس کے پاس اکثریت تھی۔ وہ پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا تھا مگر بھٹو صاحب کو یہ منظور نہ تھا۔ وہ مغربی پاکستان کو پاکستان بنا کے وزیراعظم بن سکتا تھا اور بننا چاہتا تھا۔ اس کے بعد ہی آصف زرداری صدر پاکستان بنے تھے۔ مجھے بھٹو کے وزیراعظم پاکستان بننے اور زرداری صاحب کے صدر بننے میں کوئی فرق نہیں لگتا۔ اب وہ بلاول زرداری کو سب سے کم عمر وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں۔

وہ کمال کے موقع شناس آدمی یعنی ذہین آدمی ہیں۔ انہوں نے بلاول کا نام بلاول بھٹو زرداری رکھ دیا ہے۔ وہ اپنی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو بہت پسند کرتے ہیں اور پروموٹ کررہے ہیں مگر میرا خیال ہے کہ بختاور بھٹو زرداری زیادہ اہل ہیں۔ بیٹی آصفہ سے ان کی محبت ہے کہ اس کا نام آصف سے آصفہ ہے۔انہوں نے بھٹو اور زرداری قوم کو بڑی دانائی سے اور سیاسی ہنرمندی سے اکٹھا کر دیا ہے۔ آصف زرداری صاحب پاکستان کے کامیاب ترین سیاستدان ہیں۔

آج صبح سویرے میری اہلیہ رفعت خانم میرے ساتھ اُم نصرت فائونڈیشن گئیں۔ وہاں تھیلسیمیا کے مریض بچوں کو تازہ خون مفت لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی بھلائی اور نیکی کا کام ہے۔ بے آسرا غریب بچوں کیلئے یہ بہت عظیم جذبہ ہے کہ روزانہ چھ سات بچوں کو خون دیا جاتا ہے۔

لوگوں کی طرف سے تعاون کیا جاتا ہے۔ خواتین و حضرات خود یہاں تشریف لاتے ہیںاور اپنی آنکھوں سے یہ ساری کارکردگی دیکھتے ہیں۔ اب ماہ رمضان سے پہلے مخیر حضرات خصوصی تعاون کریں۔

اُم نصرت فائونڈیشن کی صدر فائونڈیشن مائرہ بی بی صبح سے ہی دفتر میں موجود ہوتی ہیں اور سارے معاملات کی نگرانی کرتی ہیں۔ ان کے شوہر عمر خالد بھی اس ضمن میں مسلسل محنت کرتے ہیں۔ عمر کے والد خالد مفتی بھی وہاں اکثر اوقات جاتے ہیں۔ وہ بہت اچھے جذبے کے آدمی ہیں۔ میں ان سے مذاق مذاق میں کہتا ہوں آپ نے زندگی بھر کوئی فتویٰ تو دیا نہیں اور مفتی کہلاتے ہیں۔