بھارت کا متعصبانہ نظام انصاف - رانا اعجاز حسین چوہان

گزشتہ دنوں بھارت کا نظام انصاف اس وقت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا جب ریاست کی جانب سے انتہائی کمزور ترین تفتیش کے باعث عدالت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث انتہاپسند ملزموں کو بری کردیا۔ بلاشبہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت بھارتی حکمرانوں کی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت کی واضع عکاسی ہے۔

واضح رہے کہ 2007ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دلی سے چل کربھارت کے آخری سٹیشن اٹاری کی طرف بڑھ رہی تھی کہ نصف شب کے قریب جب ٹرین ہریانہ کے شہر پانی پت کے دیوانی گاؤں کے نزدیک پہنچی تو اس کے ایک کمپارٹمنٹ میں بم دھماکہ ہوا، اس دھماکے سے دو بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اس بدترین دہشت گردی میں 68 افراد زندہ جل کر شہید ہوگئے تھے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں این آئی اے نے عدالت میں یہ دلائل دیے تھے کہ اس دھماکے میں پاکستانی مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا ہے، این آئی اے نے اس مقدمے میں سوامی اسیم آنند سمیت بعض ہندو انتہاپسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ سوامی اسیم آنند کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایک شدت پسند تنظیم ’’ابیھنو بھارت‘‘ سے ہے۔ سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے ایک سنیل جوشی جسے2007 ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ تین دیگر ملزمان سندیپ ڈانگے، رام چندر کلسانگرا اور امیت تاحال مفرور ہیں۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے اس طویل مقدمے میں تقریباً 300 گواہ تھے، دوران سماعت مقدمے میں 224 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، اس مقدمہ میں پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل نے بھی عدالت کے روبرو گواہی دینے کے لیے پیش ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برس میں اس مقدمے میں 30 سے زیادہ گواہ منحرف ہوئے، جبکہ سماعت کے دوران گزشتہ تین برسوں میں درجنوں سرکاری گواہ بھی منحرف ہوگئے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ بھارتی سرکار کی جانب سے چاروں ملوث ملزموں کو بری کرانے کے لیے منظم کوششیں کی گئیں، حالانکہ اس بہیمانہ واقعہ میں چوالیس نہتے بے گناہ پاکستانی شہید ہوگئے تھے۔ گزشتہ دنوں عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی گواہی کی درخواست بھی رد کر دی۔ عدالت کی جانب سے سوامی آسیم آنند عرف نبا کمار، کیس کے مرکزی ملزم کمال چوہان، راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو رہا کر دیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کا استغاثہ ملزمان کا دھماکے میں ملوث ہونا ثابت نہیں کر سکا۔ اس سے پہلے پنچ کولہ کی ایک خصوصی عدالت نے بھی پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ایغور مسلمان، کوئی پرسانِ حال نہیں - مسعود ابدالی

دہشت گردی کے واقع کے گیارہ برس بعد یہ فیصلہ انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جس نے بھارتی عدالتوں کا شرمناک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کے دوغلے پن اور منافقانہ رویے کی بھی نشاندہی کرتا ہے جس کے تحت ایک طرف وہ پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کرتا اور دوسری جانب ان دہشت گردوں کو بری کرواتا ہے جنہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشت گردی کا کھلے عام اقرار کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے پاکستان میں متعین بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ پاکستان طلب کر کے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث تمام ملزمان کو بری کرنے کے فیصلہ پر ان سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کے ملزمان کی بریت انتہائی قابل مذمت ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں جو چوالیس پاکستانی جو شہید ہوئے تھے ان کے خاندانوں کو کیا جواب دیا جائے ؟ یہ بھارت کا انتہائی قدم ہے،دہشت گردی کے اس واقع میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کی طرف سے انتہا پسند تنظیموں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ بھارت کی طرف سے بدترین دہشت گردی میں شریک جرم ملزموں کو بری کرانے کی مسلسل کوششیں ، تعصب اور بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا ہے جبکہ خود بھارت دہشت گردی کا اعتراف کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ بلاشبہ بھارتی حکام کی کوششوں کے باعث ایسے سانحہ کے ملزمان رہا ہوئے جس میں چوالیس پاکستانی شہری زندہ جل گئے تھے۔ اس فیصلے نے جہاں بھارتی ریاست کی جانب سے انتہاء پسند تنظیموں کی سرپرستی کو بے نقاب کیا ہے وہاں بھارتی نظام انصاف کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے ، جس سے بھارت کی منافقت اور دہرا معیار کھل کر دنیا کے سامنے واضع ہوگیا ہے۔