وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ - عائشہ یاسین

عورت نصف انسانیت ہے۔ عورت کے تصور سے ہی کائنات میں رنگ و بو ہے۔ عورت مختلف اور منفرد خصائل و صفات کی مالکہ، فہم و فراست، عود و مشک گلاب سے بہتر عزت وقار میں عرفہ و شفقت رحمت سے اس کا ہر خاکہ رنگین و مزین ہے۔ علامہ اقبال نے نہ جانے کس ترنگ میں آکر اپنے ایک مصرع میں وجود زن کو کائنات کی تصویر میں رنگ قرار دیا۔ بس ہم ان کے اسی ایک مصرع کو پکڑ کر کچھ ایسے بیٹھ گئے کہ زن بےچاری کو شمع محفل بنا کر ہی دم لیا۔ کیا شاہراہوں پر لگے قد آدم بل بورڈز اور کیا ٹیلی وژن پر چلنے والے الم غلم اشیاء کے اشتہار' ان سب میں عورت ہی سے رنگ آمیزی کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ مصرع ہر خاص و عام فہم کا شخص اس طرح استعمال کرتا ہے کہ جیسے عورت فقط ایک نمائشی شے ہے جس کی قدر و قیمت محض اس کے حسن اور زیبائش سے ممکن ہے۔ دراصل ہم بھول گئے کہ اس مصرع کو کہنے والا کون ہے اور دوسرا مصرع اس کی کیا وضاحت کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک عورت کی تعریف وہی ہے جو مذہب اسلام میں ہے۔ یہاں ہم نے اپنی سوچ کے مطابق معنی اخذ کر کے پہلے مصرع کو عام کیا اور دوسرے مصرع کو سراسر فراموش کر دیا۔ کیا یہ اقبال کے ساتھ زیادتی نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ صنف نسواں کی توہین ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم جس صنف کو فقط حسن کی علامت مان رہے ہیں اور دل ربائی اور ستائشی نازیبا القابات سے نواز رہے ہیں تو کیا یہ عورت آپ کے لیے فقط ایک عورت ہی ہے؟ نہیں، یہ فقط عورت نہیں بلکہ اس سے جڑے کئی مقدس رشتے آپ سے جڑے ہوئے ہیں جو پاکیزگی کی مثال ہیں۔

عورت، اگر ماں ہےتو جنت، بیوی کے روپ میں راحت، بہن کی صورت میں غیرت اور بیٹی کی شکل میں رحمت ہوتی ہے۔ عورت کائنات کا وہ جز ہے جس نے تخلیق کو مکمل کیا۔ ہم نے اقبال کے نکتہ فکر کو بھول کر اس کو اشتہار کا سامان بنا ڈالا اور ہم عورتوں کی کم عقلی کہ مرد نے اس کی صلاحیت کو پسپا کرنے کے لیے جو لقب چنا، ہم نے اپنے گلے کا ہار بنا لیا۔ جبکہ ہم نے اقبال کے شعر کو پورا پڑھنا تک گوارا نہ کیا کہ وہ مفکر شاعر عورت کی عظمت کو کن پہلو سے اجاگر کرنے کی بات کر رہا ہے۔ یہاں اقبال نے حسن کی اصطلاح ظاہری حسن کے لیے نہیں بلکہ عورت کے باطنی حسن کے لیے استعمال کی ہے۔ جس میں عورت کی اخلاقیات، آداب، سلیقہ شعاری، صبر وتحمل، اطاعت گزاری، حسن وزیبائش، ناز و ادا، قناعت، شرم حیا، متانت سازی اور سب سے اہم اس کی نازک مزاجی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے عورت کو حسن و زیبائش کے معنی سے آگے جانے ہی نہ دیا۔ ہر محفل، ہر ادارے اور ہر میدان میں عورت نے رنگ برنگی لباس زیب تن کر کے اپنی ذہانت اور رواداری مٹاکر خود کو اپنے پیروں تلے خود روند ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں:   اکیسویں صدی اور مسلمان عورت - ام محمد عبداللہ

میں یہاں مرد کو قصوروار نہیں ٹھہراتی، کیونکہ مرد نے وہی کیا جو عورت کو اچھا لگا۔ آج کی عورت نے خود قبول کیا کہ اس کے ظاہری نقش و نگار، چال ڈھال اور انداز دل ربانہ کو آج کا مرد نہ صرف سراہے بلکہ اس پر پری زاد کی مہر بھی لگادے۔ شاید اسی لیے سیانے عورت کو کم عقل اور بیوقوف گردانتے ہیں کہ عورت نے اپنے مقام کو پہچاننے کے بجائے خود کو دوسروں کے ہاتھوں کھیلنے دیا۔ جبکہ حسن وہ نہیں جو دکھائی دے بلکہ اصل حسن سیرت اور عقلمندی سے مشروط ہے۔ کچھ نہیں تو تھوڑا وقت نکال کر آج کی عورت اگر تاریخ اسلام پر نظر ڈال لے تو اس کو اپنا اصل مقام پینافلکس یا کسی زمین پر پڑے پان، چھالیہ یا کسی کمپنی کے اشیاء کے ڈبے کے بجائے تاریخ ساز ناموں میں نظر آئے۔ کون کہتا ہے کہ عورت صرف اپنے ظاہری پیکر کا شاہکار ہے۔ عورت تو عقل و فہم میں وہ مقام رکھتی ہے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا۔ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا پر وحی آئی اور آپ گھبرا گئے تو دانائی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ نبوت کے مدارج سے گزر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کی پہلی تاجر خاتون بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ تھیں۔ اسی طرح حضرت عائشہ کی فصاحت و بلاغت سے کون واقف نہیں کہ اسلام و فقہ کے تمام مسائل پر آپ کو کمال حاصل تھا اور بڑے سے بڑے صحابہ اکرام آپ سے رہنمائی طلب کرتے تھے۔ ایسی کئی مثالیں ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عورت کی مامتا ہی اس کائنات کا حسن ہے کہ رب تعالی نے اپنی محبت کو ماں کی محبت کی مثال سے بیان کیا۔ عورت کی عظمت کا مشاہدہ تب کیا جا سکتا ہےجب اللہ تعالی نے حج و عمرہ میں عورت کی سنت کو عبادت کا لازمی جز قرار دیا۔ سعی کی ادائیگی وہ عمل ہے جس میں ماں کی بے قراری کو عبادت کا درجہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نقاب ہٹاؤ چہروں سے! - سائرہ نعیم

ضرورت صرف اور صرف سوچنے اور سمجھنے کی ہے۔ ہمارے اسلام نے ہرگز عورت کو مرد سے کم تر نہیں بنایا۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہونے کا مطلب ہی عورت کی عزت کو بالا تر کرنا ہے۔ اللہ نے ہر وہ کام جو محنت و مشقت پر مبنی ہے مرد کی ذمہ داری بنائی۔ عورت کو تحفظ دینے کے غرض سے مرد کو کفالت کرنے کا حکم دیا۔ علم و تدریس کو کبھی ممنوع نہیں ٹھہرایا بلکہ عورت اور مرد کے حدود مقرر کیے۔ یہ حدود کا اطلاق ہرگز کسی ایک صنف کو کم تر اور کمزور ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک صحتمند معاشرے کی افزائش کے لیے اصول و ضوابط کا لاگو کرنا ضروری تھا، مگر ہم نے اسلام کے حدود و قیود کو اپنی محدود سوچ کی نظر کردیا اور اسلام کا نظریہ حیات کو پامال کر ڈالا۔

آج جس نفسا نفسی کے دور سے ہم گزر رہے ہیں اس کی تمام تر تباہی کا براہ راست تعلق ہمارے اپنے عقائد کی بے ترتیبی کی وجہ سے ہے۔ہم نے اسلام کو اپنی روح تک اترنے ہی نہیں دیا نہ اس کی منطق و حکمت جان پائے اور نہ اس میں موجود مقررہ کردہ حقوق کا پاس کر پائے۔ نتیجتا جس معاشرے کو بہترین اسلامی و فلاحی معاشرے کی شکل اختیار کرنی تھی وہ کئی دھڑوں میں بکھر گیا اور آزادی کے نام پر عورت کو غلط سمت موڑ دیا گیا۔آزادی محض اپنے حسن و زیبائش کی نمائش اور ادب و آداب کی پامالی طے پائی۔اب بھی وقت نہیں گزرا کہ اقبال کے شعر کو مکمل کیا جائے، اس میں پنہاں رموز پر غور کیا جائے اور اس کے اصل معنی کو سمجھا جائے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کا حسن عورت کے دم سے ہے۔