قیوم وانی بے باک وکیل، بے بدل قائد - اشفاق پرواز

اساتذہ کو قومی معمار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ علم و دانشمندی کا راز انھی میں مضمر ہے۔ قومیں تب تک کامیاب قرار نہیں دی جا سکتیں جب تک کہ اس کے اساتذہ اپنے پیشے کے تئیں محنت، خلوص، لگن اور دلچسپی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اساتذہ ہی قوموں کو عروج دلاتے ہیں کیونکہ نئی پود کی آبیاری و تخم ریزی کا ذمہ انھی کے ہاتھ ہوتا ہے۔

ستم ظریفی سے ریاست جموں و کشمیر دنیا کی بالعموم اور برصغیر کی بالخصوص واحد ایسی ریاست ہے جہاں اساتذہ کو اپنی تنخواہ حاصل کرنے کی خاطر سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑتا ہے اور مہینوں تک بھوک ہڑتال پہ بیٹھ کر ہی انہیں اپنا حق ادا کیا جاتا ہے۔ قارئین کرام اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ ریاست کے اساتذہ کرام بالخصوص سروشکشا ابھیان کے تحت کام کرنے والے معلمین روز اول سے ہی سرینگر اور جموں سے شائع ہونے والے اخبارات کی شہ سرخیاں بنے بیٹھے ہیں۔ ہر بار اخبارات کے متعدد صفحات ان کی داستانوں سے بھرے پڑے ہوتے تھے۔ تالے چڑھاؤ، کام چھوڑ، سکرٹریٹ گھیراؤ جیسی سرخیاں آج بھی قارئیں کی زبان زد عام ہوں گی۔ میں بحیثیت ایک لکھاری ہر وقت ان اقدامات کی طرف داری کرتا تھا کیونکہ مسائل کے سدباب کا یہی ایک واحد راستہ تھا۔

جب سے ایس ایس اے اسکیم وقوع پزیز ہوئی، عین اسی وقت سے اس کے تحت بھرتی ہوئے اساتذہ کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے کی خاطر چند انجمنوں کی ولادت ہوئی۔ ٹیچرز فورم، آر۔ ای۔ ٹی فورم اور پھر ای جیک، اس کے بعد ٹی جیک جیسی تنظیمیں اساتذہ کے مسائل کو کم کرنے کے لیے میدان میں کود پڑیں۔ اس دوران ہم نے لیڈران کا سیلاب دیکھا۔ ہم نے ان انجمنوں کو آپسی تضاد کا شکار ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور بار بار اساتذہ کا ایک انجمن سے دوسری انجمن میں شمولیت اختیار کرنا بھی نظروں سے اوجھل نہیں رہا۔

اساتذہ انجمنون میں سے ٹیچرز فورم، ٹی۔ جیک اور ای۔ جیک کے بے باک اور بے بدل قائد عبدالقیوم وانی محتاج تعارف نہیں ہیں۔ آپ ٹنگمرگ کی ایک شاہکار ہستی ہیں۔ آپ کی ولادت 6 جولائی 1960ء کو وسن، تحصیل کارہامہ میں ہوئی۔ حال ہی میں موصوف اچانک اپنی تمام پوزیشنوں سے مستعفی ہوگئے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہوگئے۔ سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں قیوم صاحب نے سرکاری ملازمت سے استعفی دے دیا اور مذکورہ پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس میں موقع پر ہی موصوف کو بارہ مولہ حلقے سے پارلیمنٹ امیدوار الیکشن لڑنے کا منڈیٹ بھی دیا گیا۔ راقم الحروف نے ایک نشست کے دوران قیوم صاحب سے یہ سوال کیا کہ وہ سیاست کا حصہ کیوں بنے؟ سوال کے جواب میں موصوف نے کہا کہ انھوں نے ملازمین کی حد درجہ خدمت کی ہے، اب وہ ایک عام انسان کی تمناؤں پر بھی اترنے کی کوشش کریں گے، اور عوام کی آواز بنیں گے۔

قائدانہ صلاحیتوں سے مزین عبدالقیوم وانی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ اختلاف کرنا جائز ہے۔ لیکن آپ ایک بار قیوم صاحب سے بات کریں، ان کے ارادوں کو جانیں، ان کو غور سے سنیں تو آپ کو بلاشبہ قیوم صاحب سے لازوال محبت ہوگی۔ وہ آپ کو بولنے کا موقع دیں گے اور آپ کو اپنے اولاد کی طرح محبت دیں گے۔ وہ آپ کو عزت سے سرفراز کریں گے۔

اساتذہ صاحبان کے مسائل حل کرنے کی خاطر موصوف تقریباً ایک مہینے تک بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ سال 2017ء میں قیوم صاحب نے ایک بہت بڑے Blood Donation Camp کا انعقاد کیا جس میں موصوف نے خون کے 700 پوائنٹ جمع کیے۔ مختلف مقدمات کے تحت موصوف کو حوالہ زندان بھی کیا گیا لیکن آپ نے کبھی ہار نہیں مانی اور نہ ہی کبھی منزل سے لڑ کھڑائے۔ آسیہ نیلوفر قتل و عصمت دری کے خلاف آپ نے بھرپور احتجاج کیا۔ وانی اس وقت بھی پیچھے نہیں بیٹھے جب آصفہ کی آبرو ریزی اور موت واقع ہوئی۔ انھوں نے ہزاروں اساتذہ صاحبان کو سڑکوں پر لایا اور اپنا احتجاج درج کرایا۔

یہ سب یہاں ہی نہیں رکتا۔ قارئین کرام اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ حال ہی میں ریاست کی سب سے بڑی دینی، سماجی و سیاسی جماعت ’’جماعت اسلامی جموں کشمیر‘‘ پر دہلی حکومت نے پانچ سالہ پابندی عائد کر دی۔ پابندی کے فوراً بعد جماعت کے وابستگان کا کریک ڈاون شروع کیا گیا اور شمال سے جنوب تک سینکڑوں وابستگان کو مختلف تھانوں میں قید کیا گیا۔ اسی اثنا میں دوسری جانب سرکاری عہدیداران نے جماعت کی پراپرٹی کو سر بمہر کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ جماعت کے زیر انتظام اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بڑی مدت تک یہاں کے قلم کار، دانشور، سیاست دان، مذہبی رہنما اور سماجی کارکنان بےزبان ہوگئے۔ عبدالقیوم وانی ایسے پہلے سیاست داں ثابت ہوئے جنھوں نے خاموشی توڑ دی اور اس فیصلے کے خلاف لال چوک میں برستی بارش میں اپنے کارکنان سمیت احتجاج کیا۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت کے زیر انتظام اسکولوں نے روز اول سے ہی ریاست کے تعلیمی ڈھانچے کو مستحکم کیا۔ بیان میں انھوں نے جماعت کی سماجی خدمات کو بھی سراہا۔ الغرض عبدالقیوم وانی ایک قائد اور ایک کارواں ہیں۔ وہ عزیمت کا کوہ گراں اور عظمت کا نشان ہیں۔