پاکستان سے محبت کرنے والے - ڈاکٹر محمد عثمان آفریدی

وہ غریب معصوم بچی میرے پاس آکر کہنے لگی، "انکل انکل مجھے پچاس روپے دو!"۔ میں نے پوچھا پچاس روپے کا کیا کرنا ہے؟ تو وہ کہنے لگی آج 23 مارچ ہے تو جھنڈا خریدنا ہے۔ میں نے پوچھا "کھانا کھایا ہے؟" کہنے لگی "انکل! دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو، عجب چیز ہے لذت آشنائی''

محبت عجیب چیز ہے ۔چاہے جس سے بھی ہو، جب بھی ہو بندے کو تمام دوسرے غموں سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ محبت امیری، غریبی، ذات پات یا اس طرح کے کسی بھی دائرے سے بندے کو آزاد کر دیتا ہے۔ انسان کو فرش سے عرش پہ پہنچا دیتا ہے۔

ریاست ہے ماں جیسی والی بات آپ نے نہیں سنی؟ اب ماں کسی غریب کی ہو یا امیر کی، مزدور کی ہو یا افسر کی، بلوچی، سندھی کی ہو یا سرائیکی بولنے والے کی ہو یا کشمیری کی ہو یا گلگت و بلتستان والوں کی، پنجابی اور پٹھان کی ہو جب بھی انسان کو درد ہوتا ہے، تکلیف اور مصیبت میں ان کو ماں کی یاد آتی ہے۔ اللہ کے بعد شاید سب سے زیادہ ماں کو ہی پکارا جاتا ہے۔ جب تک ماں ہے یعنی کہ دیس ہے تو ہماری پہچان ہے۔

ماں سے بھی بھلا کوئی ناراض ہو سکتا ہے۔ ماں کے بچوں میں ناراضگی اور اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ آپ الزام ماں پہ لگا کر ماں کو برا بھلا کہنا شروع کر دو ، اور اسی ناراضگی میں ماں کو بھی کیا کوئی تقسیم کرتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے دوسری ریاستیں بھی اپنے شہریوں کے لیے ماں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسروں کے عقیدت و محبت کا بھی احترام کرنا چاہیے۔

وہ معصوم بچی بولتی گئی اور میں حیران تھا کہ کہ سڑک پر پچاس روپے مانگنے والی ایک چھوٹی پچی کو اتنی باتیں کس نے سکھائی۔ پھر اچانک خیال آیا "محبت" ملک سے محبت نے ہی ان کو سکھایا۔ محبت ہی تو ایک لافانی جذبہ ہے۔