پرانک ایک بے ہودہ مذاق - محمد فیصل شہزاد

گذشتہ دنوں لاہور میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ ایک نوجوان رانا زہیر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ لاہور وائنز کے لیے پرانک (Prank) کر رہا تھا۔ وہ ’’بھوت‘‘ کا بہروپ دھارے آتے جاتے لوگوں کو ڈرا رہا تھا۔ کئی لوگوں کو وہ ڈرا چکا تھا، تاہم ایک نوجوان کو ڈرانے کی کوشش میں وہ اپنی جان گنوا بیٹھا۔

نوجوان ’’بھوت‘‘ کے اچانک سامنے آنے پر ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا، مگر ’’بھوت‘‘ نے اس ڈر سے لطف لینے پر بس نہیں کیا، بلکہ اس نوجوان کا پیچھا ہی لے لیا اور تعاقب کرتا ہوا اُس سے جا لپٹا۔

نوجوان نے خوف کی شدت میں جیب سے پستول نکالا اور ’’بھوت‘‘ پر فائر کھول دیا۔ کئی گولیاں مذاق کرنے والے نوجوان کے سر میں لگیں اور وہ موقع ہی پر دَم توڑ گیا۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ مقتول نوجوان کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا مجھ سے اجازت لے کر ’’پرانک‘‘ پر گیا تھا، وہ لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرتا تھا، مگر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا!

فائرنگ کرنے والے نوجوان نے مگر کہا: ’’بھوت‘‘ کے اچانک سامنے آ جانے سے وہ سخت خوف زدہ ہو گیا تھا اور بھاگ رہا تھا، مگر ’’بھوت‘‘ تو اس کے پیچھے ہی لگ گیا، تب خوف اور گھبراہٹ کی شدت میں، مجھے ’’بھوت‘‘ کو گولی مارنے کے سوا اور کچھ نہیں سوجھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے ساتھ شرارت کی جا رہی ہے، میں نے تو ایک بھوت پر اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی، مقتول کو تو میں جانتا تک نہ تھا۔

انٹرنیٹ جدید سائنس کی وہ ایجاد ہے، جس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اس سے کلی یا جزوی طور پر متاثر نہ ہوا ہو، مگر اُس کا سب سے بڑا نقصان جو ہمیں نظر آتا ہے، وہ میڈیا جیسے انتہائی اہم اور حساس شعبے کا ہر کس و ناکس کی دسترس میں پہنچ جانا ہے۔ اس حوالے سے ہمہ جہت گفتگو بہت طویل ہو سکتی ہے، آج ہم مگر صرف لفظ ’’پرانک‘‘ (Prank) پر کچھ بات کریں گے۔

پرانک کا اردو ترجمہ کیا جائے تو وہ عملی مذاق یا شرارت ہو سکتا ہے۔ آج نوجوانوں کے بہت سے گروپ ہیں جو سوشل میڈیا پر پرانک کے نام پر عام لوگوں کو عمر و جنس سے قطع نظر پریشان کرتے اور اُن کا ساری دنیا کے سامنے مضحکہ اڑاتے نظر آتے ہیں۔ یہ مذاق ہمیشہ تذلیل کا پہلو تو لیے ہوئے ہی ہوتا ہے، مگر کبھی کبھار تو اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے کہ دیکھ کر ہنسنے کی بجائے ناگفتنی نکل جاتی ہے۔

کسی پارک میں بیٹھے ہوئے آدمی پر گرم چائے، تھوک یا کیچڑ پھینک کر بھاگ جانے یا کسی کو دھکا دے کر گرا دینے اور پھر بھاگ جانے کوکیا مزاح کہا جا سکتا ہے؟ کسی کو اچانک بری طرح ڈرا دینا، یہ جانے بغیر کہ وہ دل کا مریض تو نہیں، کیا محض مذاق کہلایا جا سکتا ہے؟

ایسے بے ہودہ مذاق طرفین کے لیے جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اِس واقعے سمیت دنیا بھر میں واقعات سامنے آئے ہیں۔

اُن کا نشانہ بننے والے محض راہ گیر ہی نہیں، بلکہ گھریلو پردہ دار خواتین اور بزرگ شہری بھی ہوتے ہیں، جنھیں یہ نوجوان اپنی اوچھی حرکتوں سے سخت زچ کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ کسی انتہائی اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں… اور تب یہ تیزی سے پینترا بدلتے ہوئے کہتے ہیں کہ جناب! یہ تو محض مذاق تھا، پھر خفیہ کیمرے کی طرف ہاتھ ہلا دینے کا ’’اعزاز‘‘ انھیں عطا فرما کرگویا ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شریف لوگ اتنی تذلیل کروا کر بھی خون کے گھونٹ بھرتے، مگر بادِل ناخواستہ مسکراتے ہوئے اپنی راہ لیتے ہیں کہ اس کے سوا بےچارے شاید اور کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

سوال یہ ہے کہ اِن نوجوانوں کوآخر کس نے حق دیا ہے کہ وہ محض سستی شہرت اور کچھ رقم حاصل کرنے کے لیے سرِ عام لوگوں کو اپنے بے ہودہ مذاق کا نشانہ بنائیں، اُن کی تذلیل کریں، خوف زدہ اور ہراساں کریں، پھر طرفہ تماشا یہ کہ اس انتہائی بدتہذیبی کو اپنی ’’قومی خدمت‘‘ باور کرانے کی حماقت بھی کریں۔

چلیے فرض کر لیتے ہیں کہ اُن کا مقصد پہلے درجے میں پیسہ اور شہرت نہیں ہو گی، بلکہ پریشان حال عوام کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرنا ہو گا، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ازروئے شریعت کسی کی تذلیل کر کے، کسی اور کو ہنسانا کیا جائز ہے؟!

ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی حرکتوں کی حوصلہ افزائی کسی بھی صورت نہیں کی جا سکتی۔ خصوصاً لاہور کے محولہ بالا سانحے سے تو اس کی انتہا درجے کی سنگینی بھی ثابت ہو گئی ہے، جسے مرحوم نوجوان کے والد محترم کا یہ بیان مزید سنگین بنا رہا ہے کہ ان کا بیٹا اُن کی اجازت لے کر لوگوں کا مذاق اڑانے، انھیں ڈرانے گیا تھا۔

ہمیں رانا زہیر بھائی کی جوان مرگی کا بے حد افسوس ہے، اللہ اس کی مغفرت کرے، مگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ کوئی اور نوجوان کبھی ایسے سانحے کا شکار نہ ہو۔

افسوس! ہم نے مغرب کی نقالی میں اس کی پھٹی ہوئی جینز ہی نہیں، ہر پھٹیچر شے کو گلے لگا لیا ہے۔جی ہاں! یہ(Prank) نامی بے ہودگی بھی مغرب سے ہی درآمد ہوئی ہے۔

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.