ڈپریشن کا علاج کیا ہے؟ سکون کیسے حاصل ہو؟ عصمت اسامہ

ہمارے اسلاف کا دور بھی کیا سنہرا دور تھا جب لوگ مل جل کے رہتے تھے۔ سب بیٹے، ان کی اولادیں ایک ہی دادا جان کے سایہ رحمت میں پروان چڑھتی تھیں۔ بچے اکٹھے کھیلتے اور پڑھتے تھے۔ خوشیاں بھی سانجھی تھیں اور دکھ بھی۔ ہمسائے کو "ماں جایا" کہا جاتا تھا۔ محلے کی بیٹی گزرتی تو بیٹے راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ دن کا آغاز اذان فجر اور تلاوت سے ہوتا تھا، شام کو محلوں میں چوپالیں یا بیٹھکیں سج جاتیں۔ ہر ایک کے مسئلہ کا حل نکالا جاتا۔ معیار زندگی اتنا بلند نہ تھا، نہ ایسی ٹینشن تھی۔ سادگی، معصومیت اور اپنائیت جیسے گھٹی میں تھی، لوگ صبر و توکل، ایثار و قربانی کے خوگر تھے۔ مہمان کو زبردستی روکا جاتا اور اصرار کر کے کھلایا پلایا جاتا تھا۔ درختوں پہ چڑیوں کے گھونسلے گرائے نہیں جاتے تھے۔ وقت میں برکت تھی اور گھروں میں سکون تھا۔

اب تو وہ زمانے نہیں رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ساری خوبصورتیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ ہر کوئی اپنی مصروفیت میں مگن ہے۔ کسی کے پاس دوسرے کے لیے وقت نہیں ہے یا شاید ترجیحات بدل گئی ہیں۔ کوئی کسی کے لیے وقت نکالنا ہی نہیں چاہتا۔ میری ذات، میری زندگی، میرے کام، بس اسی دائرے میں ہر انسان قید ہو کے رہ گیا ہے۔ ٹچ موبائل نے جہاں بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اپنوں کو اپنوں سے دور بھی کردیا ہے۔ اب کوئی کسی کی خبر رکھنے کے لیے اس کے گھر جانے کے بجائے ایک ایموجی بھیج دینے کو کافی سمجھتا ہے۔ مشکل وقت میں کوئی کسی کے کام نہیں آتا، ہر بندہ اپنی جنگ تنہا لڑ رہا ہے۔ والدین اور بچوں میں جنریشن گیپ آ چکا ہے۔ وہ ادب، لحاظ اور مروت جو ہمارے بڑوں نے ہمیں سکھایا تھا، وہ قصہ پارینہ ہو چکا ہے، اب بچے والدین کے آگے سر نہیں جھکاتے، بلکہ والدین کو بچوں کی ضد کے آگے ہار ماننا پڑتی ہے (الاماشاءاللہ)۔ پہلے تعلیمی اداروں کی توجہ کردار سازی پر ہوتی تھی، اب تعلیم نے کاروبار کا روپ دھار لیا ہے۔ موبائل کلچر اور سکریننگ نے اخلاقی اقدار و خاندانی روایات کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ اسلامی تہذیب پر کفر کا کلچر حملہ آور ہے۔ مادہ پرستی، خودغرضی اور سٹیٹس کی کشمکش نے نفسیاتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کا ہر تیسرا فرد ڈیپریشن میں مبتلا ہے۔ گزشتہ سال میں پانچ میڈیکل سٹوڈینٹس کی خودکشی کی خبروں نے ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان قابل ترین طلبہ نے اپنی زندگی کو ختم کر ڈالا، جنھوں نے دکھی انسانیت کا مسیحا بننا تھا۔
بقول شاعر


میں سب سے ملتا رہا ہنس کے اس طرح کہ مجھے

کسی نے دیکھا نہیں ٹوٹتے بکھرتے ہوئے

میں اس گھرانے کا چشم و چراغ ہوں جس کی

حیات گزری ہے خوابوں میں رنگ بھرتے ہوئے


مہنگائی اور بے روزگاری نے ایسی بھوک پیدا کردی ہے کہ دستر خوان چھوٹے ہوگئے ہیں یا شاید دل تنگ ہوگئے ہیں۔ دوست اپنے دوست کو قرض دینے پہ تیار نہیں۔ خودغرضی، مادہ پرستی، بےلگام خواہشات، رقابت، نفرت مقابلہ بازی، دوسرے کو نیچا دکھانا، کو -ایجوکیشن اور نظام تعلیم کے نقائص، میڈیا کا پیدا کردہ ہیجان، یہ سب عوامل ہیں ڈیپریشن اور ذہنی دباؤ میں اضافے کے، یہی ساری برائیاں ذہنی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ خاص طور پر ٹین ایجرز اور نوجوان بہت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ ذہنی تناؤ ہی خودکشی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ہر گھر میں ڈیپریشن ہے۔

ویسے تو یہ زندگی ہے ہی امتحان گاہ، کوئ غم، صدمہ، جاب چھوٹ جانا، کوئی بیماری، کسی کا دھوکہ دے جانا، کسی عزیز رشتہ دار کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی امتحان میں ناکامی جیسے حالات سے ہم گزرتے ہیں لیکن کچھ لوگ صدمہ کو سہہ جاتے ہیں جبکہ کچھ غم کو دل پہ لگا لیتے ہیں۔ اداسی و پریشانی جب طویل ہو جائے، انسان خود کو بالکل اکیلا سمجھ رہا ہو، اسے اپنے مسائل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ مل رہا ہو یا حالات اس کے قابو سے باہر ہو جائیں تو پھر ڈیپریشن کا مرض پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انسان خوف اور مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سونے، جاگنے، کھانے پینے کے معمولات خراب ہو جاتے ہیں، جسمانی کمزوری، بے خوابی، اپنی بےقدری، خالی پن کا احساس، دنیا اندھیر لگنا، کوئی نجات کا راستہ نظر نہ آنا، تنہائی پسند ہو جانا، خود کو الزام دینا، خود ترسی، اعصابی تناؤ، سردرد، معدے کے مسائل، چڑچڑاپن، لڑنا جھگڑنا، چیزیں توڑنا ... یہ سب ڈیپریشن کی علامات ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اس وقت دنیا میں ڈیپریشن میں مبتلا افراد کی تعداد 350 ملین سے زائد ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق، یہ ڈیپریشن اگر اس طرح بڑھتی رہی تو 2030ء میں معذوری کی دوسری بڑی وجہ بن جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی گناہ ہے - انصر محمود بابر

یہ بہت اہم اور حساس موضوع ہے جس پہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید کسی کے دکھ کا درماں کرسکوں، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا ساری انسانیت کو بچا لیا۔ Psychology says : "Depression is not a sign of weakness ,it means ,you have been strong for far too long !" ماہرین کہتے ہیں کہ جیسے جسمانی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے، ویسے ہی ذہنی بیماریوں کا مداوا بھی کیا جاسکتا ہے۔ علاج کے لیے ماہر نفسیات بھی موجود ہیں اور کچھ عملی تدابیر ہیں، جن سے لائف سٹائل کو بدل کے، سوچ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

There is no health ,without mental health. کچھ لوگوں کے خیال میں ڈیپریشن کی بیماری، ایمان میں کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن عملی صورتحال اس نظریے کی تائید نہیں کرتی۔ یہ الگ بات ہے کہ مضبوط ایمان ہمیں مایوسی سے بچاتا ہے لیکن تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بڑے مضبوط ایمان والے بھی حالات کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے کرتے کسی وقت ڈیپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

اس بات کو بالیقین سمجھنے کے لیے تاریخ کے ایک سنہرے دور کے اوراق پلٹتے ہیں ... بہت توجہ سے دیکھیے گا... "ایک عظیم الشان کردار کا انسان، ایک پہاڑ پہ کھڑا یہ سوچ رہا ہے کہ وہ اس پہاڑ سے کود کے اپنی جان دے دے...!" جانتے ہیں یہ ہستی کون ہے؟ یہ افضل البشر، سید الانبیاء، آقائے دوجہاں ہیں .. صلی اللہ علیہ وسلم! فداک امی و ابی ... میں قربان جاؤں ... آقا نے ایسا سوچا؟ کیوں کہ وحی الہی کے نزول کے بعد کچھ وقت کے لیے وحی آنا رک گئی تھی۔ کتب میں لکھا ہے تقریبا دو یا تین سال تک وحی الہی نازل نہ ہوئی تو کفار کو طنز و استہزا کے تیر چلانے کا بہانہ مل گیا، انھوں نے کہنا شروع کر دیا کہ (نعوذ باللہ) محمد (ص) کے رب نے اسے چھوڑ دیا ہے اور ناراض ہو گیا ہے، لیکن رب العالمین نے اپنے حبیب کو چھوڑا تو نہیں تھا۔ سورہ والضحی' نازل کردی گئی: ترجمہ: "قسم ہے ضحی' (سورج نکلنے کے وقت) کی اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے، آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے، نہ بیزار ہوا ہے اور البتہ آخرت کی زندگی بہتر ہے آپ کے لیے اس پہلی (دنیا کی زندگی) سے اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے، کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم، پھر ٹھکانہ دیا، پھر پایا آپ کو بےخبر، پس رہنمائی کی، پھر پایا اس نے آپ کو ضرورت مند، پس مالدار کر دیا۔ پس نہ سختی کیجیے گا یتیم پر، اور نہ جھڑکیے گا مانگنے والے کو اور جو آپ پر اپنے رب کی نعمت ہے اس کا اظہار کیجیے گا!" سورہ والضحی' آج بھی ہمارے لیے روشنی ہے۔

اب آتے ہیں ذہنی تناؤ اور ڈیپریشن کے علاج کے لیے کچھ عملی تدابیر کی طرف۔ یہ تدابیر ماہرین نفسیات کی بیان کردہ ہیں لیکن اگر مرض اتنا شدید ہو کہ میڈیسن کے بغیر ٹھیک نہ ہوتا ہو تو پھر سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ وگرنہ یہ فرسٹ ایڈ جیسی تدابیر بھی فائدہ دے جاتی ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی گناہ ہے - انصر محمود بابر

* ڈیپریشن میں مبتلا فرد کو تنہا نہ چھوڑیں، اسے احساس دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں، اسے محبت اور نرمی سےڈیل کریں، اس کے مسائل اور احساسات کو سنیں۔ بعض اوقات صرف کسی کو سنا دینے سے جی ہلکا ہو جاتا ہے اور ایک کندھا مل جائے تو رو لینے سے دماغ سے گرد و غبار نکل جاتا ہے! انگلینڈ میں سرجری کے ایک اعلی امتحان کے دوران جب سوال پوچھا گیا کہ صدمہ کی شدید کیفیت میں مریض کا سب سے پہلا علاج کیا کیا جائے؟ تو اس کا جواب یہ ملا "Words of comfort" یعنی تسلی و اطمینان کے چند الفاظ! حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس کی اجل کو مہلت دو (یعنی اسے امید اور حوصلہ دو) کیونکہ ایسا کرنے سے اس کو نفسیاتی حوصلہ ملے گا۔"-(ابن ماجہ )-

* اسے اس کی ذات کے خول اور منفی سوچوں، احساس کمتری یا صدمہ سے نکالنے کے لیے کسی حد تک اس کا ماحول تبدیل کردیں۔ اسے کسی پارک میں لے جائیں، فطرت کا مشاہدہ کرنے، دھوپ اور ہوا کو محسوس کرنے سے، سبز گھاس پہ چلنے سے طبیعت میں تازگی آتی ہے۔ بات کا موضوع بھی بدل دینا چاہیے۔ آسمان کے بدلتے رنگ، پھولوں کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ .. یہ سب مثبت سوچ پیدا کرتے ہیں۔ مریض اگر کسی موضوع پر بات کرنے سے کترائے تو وہ بات نہ کی جائے۔

* چہل قدمی، واک، جاگنگ، دوڑ لگانا، ہلکی پھلکی ورزش، تازہ ہوا میں گہرے سانس لینے کی مشق کرنا بھی ذہنی دباؤ کو نارمل کرنے میں اہم ہے۔

* ایک مفید ٹپ چھوٹے معصوم بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے ساتھ مل کے کھیلنا، ان کی باتیں سننے سے انسان فطرت کی طرف واپس آجاتا ہے۔

* غذا سے علاج کریں۔ جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ، ایسے چائنیز کھانے جن میں اجینو موتو ڈالا گیا ہو ... ہارمونز میں تبدیلی لاتے اور ڈیریشن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس تازہ سبزیاں، پھل، دالیں، پھلیاں او ڈرائی فروٹ دماغ اور جسم میں ایسے کیمیائی مادے پیدا کرتے ہیں جو خوش رہنے کے لیے ضروری ہیں۔

* ماضی کے دکھوں اور مسقبل کے خوف سے نجات کے لیے زمانہ حال میں رہنا سیکھیں۔ کہا جاتا ہے کہ "جو اپنے چائے کے کپ کا لطف نہیں اٹھا سکتا، وہ محل میں بھی خوش نہیں رہے گا!"

* ہر انسان کے حالات اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں، لہذا اپنا موازنہ کسی کے ساتھ نہ کریں۔ نہ تو اپنے جج بنیں نہ کسی اور کے۔ والدین اپنے بچوں کو مطلوبہ رزلٹ نہ آنے پر انھیں معاف کردیا کریں کیونکہ آپ کے بچے کی جان، اس کے گریڈ سے زیادہ اہم ہے اور دوسری بات "we cant teach a fish ,how to climb on a tree !"

* فیملی، رشتے دار، دوست احباب بھی خوشی اور سکون کا ذریعہ بن سکتے ہیں اگر ہم ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوں اور ان کی بے لوث مدد کر دیا کریں۔ ان کے ظلم و زیادتی کو معاف کرنا بھی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ بقول شاعر


یہی عادت تو ہے سعدی سکون قلب کا باعث

میں نفرت بھول جاتا ہوں محبت بانٹ دیتا ہوں !


* مشغلے اور تخلیقی سرگرمیاں بھی خوشی پیدا کرتی ہیں۔

* قرآن سے ڈیپریشن کا علاج کریں۔ سورہ رحمان کی تلاوت سے کئی امراض سے شفا ملتی ہے۔ مسجد اور نماز سے باطنی قوت حاصل ہوتی ہے۔

* سورہ یوسف میں ہمارے لیے امیدوں کا سبق ہے ... گمشدہ لوگ مل جاتے ہیں، بچھڑے ہوئے عزیز مل جاتے ہیں، کھوئی ہوئی بینائی واپس آ جاتی ہے، قحط کے بعد خوشالی کا دور آسکتا ہے، کوئی کسی کے نصیب کی بادشاہی نہیں چھین سکتا، کوئی کسی کے کردار پہ الزام لگا کے اس کی عظمت کو گھٹا نہیں سکتا، دشمن اپنی دشمنی سےباز آسکتے ہیں .... حالات بدل سکتے ہیں!


لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے