اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سورج مغرب سے طلوع ہوگا - ابو محمد مصعب

پہلے بھی کئی مرتبہ عرض کر چکا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں ہوں کہ اگر ہمارے (یعنی مسلمانوں کے) کرتوت یہی رہے جو اس وقت ہیں، تو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا سورج اب کی بار، مشرق سے نہیں بلکہ مغرب سے طلوع ہوگا۔

اللہ کی کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کوئی قوم اس کی چہیتی اور لاڈلی ہے۔ انسانوں کے انفرادی اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے لیکن تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے اللہ نے زمین ہی پر کر دیے ہیں۔ وہ بھی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر۔

ہم بحیثیتِ امت، بڑے بلنڈرز کے مرتکب ہوئے ہیں اور اب بھی اپنی روش بدلنے کو ہرگز تیار نہیں۔ معدودے چند، ہم، اوپر سے نیچے تک خرابیوں میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ یوں، نہ دین کے رہے ہیں اور نہ دنیا کے۔ ایک بوجھ ہے جو زمین اپنی پشت پر لیے پھر رہی ہے۔

شاید کچھ لوگ اسے مایوسی کہیں یا منفی اور محدود سوچ قرار دیں لیکن قومی و اجتماعی معاملات میں، سیاسی فیصلہ سازی اور کردار میں، ہم نے مایوس ہی کیا ہے۔ (کلا لما یقضِ ما امرہ۔ ہرگز نہیں، انسان نے وہ نہیں کیا جو اسے کرنے کا حکم دیا گیا تھا)۔

اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کا کام کسی سے بھی لے لیا کرتا ہے۔ وہ خود قرآن میں کہتا ہے کہ اللہ اس چیز پر قادر ہے کہ تمہیں مٹا کر، تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے۔

مغربی اقوام میں ایک کروڑ برائیاں ہوں گی، لیکن جس طرح کچھ خاص خوبیوں کی بنا پر اللہ نے سرزمینِ مکہ اور عرب قومِ کو اسلام کے لیے منتخب کیا، آج اسی طرح نشاۃِ ثانیہ کے لیے اقوامِ مغرب ہم سے زیادہ میرٹ پر پوری اترتی ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جو مغربی اقوام میں ہم سے زیادہ بلکہ بدرجہءِ اُتم موجود ہیں۔

۱۔ حق پرستی : ایک بار جب ان پر حق واضح ہو جائے تو قبول کرنے میں دیر نہیں کرتے، کجا یہ کہ سالہا سال، باطل کے پیروکار رہیں۔

۲۔ بڑی سماجی برائیوں سے نفرت: وہ جھوٹ کرپشن، دھوکہ بازی، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ، جعلی سازی کو اس لیے ناپسند نہیں کرتے کہ یہ چیزیں قانوناََ منع ہیں بلکہ وہ ان چیزوں کو اخلاقاََ برا سمجھتے ہیں، اسی لیے آپ کو وہاں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، دو نمبر چیزوں کی فروخت، کاروبار میں دھوکہ بازی اور جعل سازی کم ہی ملے گی۔ (استثنا ہر جگہ ملتا ہے)۔

۳۔ شخصیت پرستی سے محفوظ: حکومت سازی کے لیے وہ شخصیات کے بجائے، پارٹیوں اور سیاستدانوں کو میرٹ پر ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے یہاں کوئی بھٹو نہیں جو کبھی نہ مرے، نہ ہی ان کے یہاں قومی دولت میں لوٹنے والے، ’شیر‘ قرار دیے جاتے ہیں۔ یقین جانیں اگر عمران خان اور اس کی پارٹی وہاں ہوتی اور جو کچھ وہ اس قوم کے ساتھ کر رہے ہیں، وہاں کرتے تو آج، گورے ان کے پتلے جلا رہے ہوتے اور گردن میں رسیاں ڈال کر ان کو گلیوں میں گھسیٹ رہے ہوتے ۔ (فرانس اور امریکہ کی تازہ مثالیں سامنے ہیں)۔ یہ ہماری قوم کا ہی جگرا ہے کہ وہ ’’الو‘‘ بن کر بھی پشیمان نہیں ہوتی بلکہ اِتراتی اور نہال ہوتی ہے۔

۴۔ قول و عمل میں فرد کی آزادی: قول و عمل کی جو آزادی مغرب نے اپنے شہریوں کو دی ہے اس کا عشر عشیر بھی ہمارے یہاں نہیں۔ گو کہ ایسی مادرپدر آزادی بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ بھی ماننا چاہیے کہ جس طرح مادرپدر آزادی بری چیز ہے اسی طرح اندھادھند پابندی بھی درست نہیں۔ حق، ان دونوں انتہاؤں کے مابین ہے۔ مغرب، اس لیے مادرپدر آزاد ہے کہ اسے اب تک اللہ کے دین کا اور اس کی حدود کا علم نہیں، جس دن یہ شعور ان کو مل گیا، مادرپدر آزادی، اتنے جھٹ پٹ میں مشروط آزادی سے بدل جائے گی کہ آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا۔

۵۔ وقت کی قدر، محنت، انہماک، جستجو، مقصد سے لگن: یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ یورپی اقوام کی دؤرِ حاضر میں ترقی کا اصل راز یہی صفات ہیں۔ اور ہم ان صفات سے کلیتاََ تہی دامن ہیں۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں ظہر کے وقت دوکانیں کھلتی ہوں گی۔ لیکن یہ کراچی ہے ، دنیا کا پانچواں بڑا شہر۔ جہاں ایک طرف مساجد سے ظہر کے آذانیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں تو دوسری جانب دوکانوں کے شٹر اوپر اٹھ رہے ہوتے ہیں۔

تحریر کی طوالت کے باعث اس گفتگو کو یہیں ختم کرت ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اگر ہم نے دنیا میں کوئی قابلِ عزت مقام پانا ہے اور اللہ کے حضور بھی سرخرو ہونا ہے تو پھر ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔ اپنی کمزوریوں کا پر قابو پانا ہوگا، سچا حق پرست بننا ہوگا، دو نمبر لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں کے بجائے میرٹ پر (یعنی صالحیت اور صلاحیت کی بنیاد پر) اپنی سیاسی قیادتیں چننی ہوں گی۔ ورنہ ایسے مٹیں گے کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں۔


خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا