8 ماہ میں ٹیکس کلیکشن میں 233.2 ارب روپے کے خسارے کا سامنا

پریشان کن صورتحال میں حکومت نے ایف بی آر کے آغاز سے اب تک کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس خسارہ دکھایا ہے کیونکہ بڑھتا ہوا یہ خسارہ جون 2019ء تک 485.9 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اعدادو شمار کےمطابق ایف بی آر اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس خسارے کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ خطرہ بھی ہے کہ ملک کا بجٹ خسارہ گزشتہ سال پی ایم ایل (ن) کی زیرقیادت حکومت میں ریکارڈشدہ جی ڈی پی 6.6 فیصد کے برعکس موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کے 7 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ لہذا پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت موجودہ مالی سال میں معاشی محاذ پر نئے ریکارڈز بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

اتوار کو سامنے آنے والے اور حکومت کے ساتھ شیئر کیے گئے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر کے ریونیو میں کمی کا رجحان موجودہ مالی سال کے باقی کے چار ماہ (مارچ-جون) کے دوران جاری رہ سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ چار ماہ کے دوران ٹیکس خسارہ 252.7 ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔ پہلے آٹھ ماہ (جولائی-فروری) میں ایف بی آر کو پہلے ہی 233.2 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے اور آئندہ چارماہ کیلئے ظاہر کیے گئے 252.7 ارب روپے کے خسارے سے پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت کے پہلے سال کے دوران کُل خسارہ 485.9 ارب روپے کی تاریخی سطح کو چھو سکتا ہے۔

تمام اہم ٹیکسز کا تجزیہ جو حکومت کے ساتھ شیئر کیا گیا اس سے انکشاف ہوتا ہے کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کا کُل ٹیکس خسارہ پورے موجودہ مالی سال کے لیے 434 ارب روپے ظاہر کیا گیا ہے جبکہ کسٹم ڈیوٹی کلیکشن کی مد میں خسارہ 50 ارب روپے تک متوقع ہے، لہذا 30 جون 2019ء تک کُل خسارہ 485.9 ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔

انکم ٹیکس:
موجودہ مالی سال میں ریونیو شارٹ فال میں خسارے کی سات وجوہات بتائی گئی ہیں۔
1- تنخواہوں پر ٹیکس کی کم کی گئی شرح: فنانس ایکٹ 2018ء میں سیلری انکم پر ٹیکس کی شرح کو حیران کُن حد تک کم کر دیا گیا تھا اور ایک ہی بار میں اس کی حد 4 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ تک کر دی گئی تھی۔ اِن تبدیلیوں سے مختلف سرکاری اور نجی وِد ہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعےجمع ہونے والے وِد ہولڈنگ ٹیکسز میں کافی کمی ہوئی۔ اِن تبدیلیوں کے ریونیو پر اثر کی وجہ سے اب تک موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی – فروری) میں 32.4 ارب روپےکا نقصان ہوا اور اس بات کی توقع ہے کہ مکمل مالی سال کے لیے ریونیو کا نقصان 50 ارب روپے تک ہوگا۔

2- ٹیلی کام سیکٹر: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیلی کام سبسکرائبرز پر نافذ شدہ وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس کے نتیجے میں انکم ٹیکس آرڈیننس2001ء کے سیکشن 236 کے تحت ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہوا جو موجودہ مالی سال میں اب تک 34 ارب روپے تک ہے۔ مکمل موجودہ مالی سال کے دوران ٹیلی کام سیکٹر سے کل نقصان کا تخمینہ تقریباً 55ارب روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت سے چند سوال - عالم خان

3- کم کیے گئے سرکاری اخراجات: پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام) میں کمی کے باعث انکم ٹیکس آرڈیننس2001ء کی سیکشن 153 کے تحت کنٹریکٹر، سپلائرز اور سروس پروائیڈرز سے ہونے والی ریوینیو کلیکشن میں بہت زیادہ کمی ہوئی ہے۔ اب تک موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران مالی خسارہ 54 ارب روپے تک ہے اور اس مد میں پورے مالی سال کے لئے کُل خسارہ 80 ارب روپے تک متوقع ہے۔

4- درآمدات میں کمی: درآمدات میں کمی کے باعث انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 148کے تحت ٹیکس کٹوتی میں کمی موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 11 ارب روپے تک ہوئی ہے اور جون 2019ء کے اختتام تک کل مالی خسارہ 16 ارب روپے تک متوقع ہے۔

5- فائلرز کی جانب سے کیش نکلوانے پر ٹیکس کا خاتمہ: انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 231A میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کے باعث چار ماہ (مارچ- جون) تک مالی خسارہ 5 ارب روپے تک متوقع تھا۔

6- بینکنگ سیکٹر کی جانب سے منافع میں کمی: کمرشل بینکوں کی جانب سے منافع میں کمی کا نتیجہ منافع لینے والوں سے ٹیکس میں کمی کی صورت میں نکلا اور پہلےآٹھ ماہ میں اس کا ریونیو پر اثر 16 ارب روپے تک ہے۔ سالانہ خسارہ 25 ارب روپے تک متوقع ہے۔

7- ایمنسٹی سکیم کے تحت ادائیگیوں کا نتیجہ: گزشتہ مالی سال 2017-18 میں ایمنسٹی سکیم کے تحت ادائیگی پر ٹیکس 120 ارب روپے تک رہا جو صرف ایک بار کا عمل تھا اور رواں سال یہ متوقع نہیں ہے۔

سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی:
پہلے آٹھ ماہ کے دوران یکم جولائی 2018ء سے فروری 2019ء تک سیلز ٹیکس ڈومیسٹک کلیشن ٹیکس (نیٹ) 407.1 ارب روپے کے متوقع ہدف کے برعکس 373.15 ارب روپے تک رہا۔ تاہم بجٹ 2019ء میں سیلز ٹیکس غور شدہ پالیسی کے فیصلے کے مطابق سیلز ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی تھی جس کا نتیجہ پی او ایل پراڈکٹس، فرٹیلازر، فرٹیلائزر کیلئے فیڈگیس اور نان فائیلرز کیلئے کار بُکنگ پر پابندی کے بعد 38.1 ارب روپے کے ریلیف کی صورت میں نکلا۔

پٹرولیم پراڈکٹس:
پالیسی فیصلے کے طور پر سہولت کاری کیلئے ایل این جی کا استعمال اور فرنس آئل کی درآمد روک دی گئی تھی۔ مقامی ریفائنریز کے پاس فرنس آئل کیلئے زیادہ سٹوریج کی گنجائش نہیں ہے اور انھیں خام تیل کی صفائی کو کم کرنا پڑا۔ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل اینڈ فرنس آئل کا استعمال 9.1 ایم ٹی (2017ء) سے کم ہو کر 2018ء میں 6.5 ایم ٹی ہو گیا۔ موٹر سپیرٹ کا استعمال بھی تقریباً ایسا ہی ہے۔ مارچ سے جون 2018ء تک ایم ایس اور ایچ ایس ڈی پر اوسطً سیلز ٹیکس کی شرح بالترتیب تقریباً 16فیصد اور 25.2 فیصد تھی جو اب 17 فیصد کے سٹینڈرڈ ریٹ پر ہے اور جون 2019ء کے اختتام تک یہی رہنے کی توقع ہے۔ تمام پی او ایل پراڈکٹس پر کلیکشن 21 فیصد تک کم ہوئی کیونکہ گزشتہ مالی سال کے موجودہ عرصے کے دوران حاصل ہونے والے 166.5 ارب روپے کے برعکس موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران اس سے 131.4 ارب روپے حاصل ہوئے۔ ایم ایس میں رُکے ہوئے اضافے کے ساتھ ہائی سپیڈ ڈیزل کےاستعمال میں کمی اور اوسطً سیلز ٹیکس کی شرح میں 25.2 فیصد سے17 فیصد تک کے فرق کا نتیجہ پی او ایل سیکٹر سے موجودہ مالی سال کے باقی چار ماہ (مارچ- جون) میں 17 ارب روپے تک کم کلیکشن کی صورت میں نکلے گا۔ اب تک فروری 2019ء تک درآمدات پر سیلز ٹیکس کی مد میں 29 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے اور جون 2019ء تک اس مد میں کُل خسارہ 44 ارب روپے کی سطح تک ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تاجروں کی ہڑتال اور ٹیکس، حقیقت کیا ہے؟ ابن فاضل

قدرتی گیس: پالیسی اقدامات کا نتیجہ پہلے آٹھ ماہ میں ریونیو کلیکشن میں کمی کی صورت میں نکلا اور موجودہ مالی سال کے باقی چار ماہ کے دوران بھی یہی رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔

(i) تمام فرٹیلائیزرز پر جی ایس ٹی کی 17 فیصد ( 3% ویلیو ایڈیشن ٹیکس) سے 12 فیصد تک کم شرح اور نتیجتاً فرٹیلائزرز پلانٹس کو قدرتی گیس کی فراہمی میں سیلز ٹیکس کی 5 فیصد تک کمی۔

(ii) فیڈ سٹاک کے طور پر فرٹیلائزرز تیار کرنے والوں کی جانب سے ایل این جی پر سیلز ٹیکس کو فنانس بل 2018ء میں چھوٹ دی گئی۔

(iii) سیلز ٹیکس سپیشل پروسیجر2007ء کے رول 58 بی کے تحت ایل این جی کی درآمد پر واجب الادا 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کو ختم کر دیا گیا۔ سیلز ٹیکس کلیکشن میں ایف بی آر کی قدرتی گیس پر اب تک 26.5 فیصد تک منفی گروتھ ہوئی ہے، کیونکہ ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 19.2 ارب روپے کے مقابلےمیں موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کےدوران 14.1 ارب روپے جمع کیے ہیں۔ موجودہ مالی سال کے باقی عرصے کے دوران 2.6 ارب روپے کا اضافی خسارہ متوقع ہے۔

آٹو موبائل اور موٹرسائیکل: اب تک پہلے آٹھ ماہ کے دوران موٹر وہیکل اور موٹرسائیکلوں پر سیلزٹیکس کلیکشن بالترتیب 3ارب روپے اور ایک ارب روپے تک کم ہوا ہے۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ڈومیسٹک: درآمدات کے مرحلے پر ایف ای ڈی کھانے والے تیل کی درآمد پر جمع کی جاتی ہے۔ ڈومیسٹک بیس کا تعلق تمباکو، سیمنٹ، ایئرلائنز، مشروبات اور سوڈا واٹر وغیرہ سے ہے۔ گزشتہ سال کے پہلے آٹھ ماہ کےدوران 114 ارب روپے کے برعکس موجودہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ایف ای ڈی کلیکشن 129 ارب روپے تک ہے جو ایک 13فیصد کی مثبت گروتھ ہے۔

کسٹم ڈیوٹی: اب تک ایف بی آر نے کسٹم ڈیوٹی کی صورت میں موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کےدوران 444 ارب روپے جمع کیے ہیں اور انھیں باقی کے چار ماہ (مارچ-جون) کے دوران 291 ارب روپے جمع کرنے ہیں، تاکہ 30 جون 2019ء تک وہ اپنے بورڈ پر طے شدہ 735 ارب روپے کا ہدف دکھا سکیں۔ باقی کے چار ماہ کے دوران 291 ارب روپے کے مطلوبہ ہدف کے برعکس ایف بی آر کی جانب سے 241 ارب روپے جمع کرنے کا امکان ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسٹم ڈیوٹی کلیکشن کی مد میں کم ہوتی ہوئی درآمدات کے باعث اِسے 50 ارب روپے خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔