ترک نسل کی اصل کیا ہے؟

کچھ تاریخ دان ترک نسل کی اصل یعنی حقیقت کے بارے میں حیران ہیں۔ ان اہل علم کے اقوال اور خطبوں کے تحت ایک قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ ترک بلاد فارس کی عجمی قوم ہے، اور بعض تاریخ دان ان کی خلافت کے نام "عثمانیہ” سے دلیل پکڑتے ہوئے ان کو عرب مانتے ہیں۔ بلکہ کچھ اہل علم نے تو اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ ان کی بنیاد مشرق وسطٰی سے ہے، کیونکہ ان کی لغتِ عثمانیہ فارسی الفاظ سے بھرپور ہے، مثلا ھافت، سبزی، خوش اور بعض نے ان کے عربی ہونے پر دلیل ان کی زبان میں موجود فصیح عربی کلمات کی موجودگی سے لی ہے، جس کو عثمانی لوگ بہت طول دیتے ہیں اور ان الفاظ کی کوئی حد نہیں ہے جیسے کتاب، قلم، ساعہ، دقیقہ وغیرہ۔

لیکن محققین علماء کے ایک گروہ نے ترک نسل کی تاریخ اور لغت کی کتابوں سے اس ترک مسلم گروہ کے مشرق وسطیٰ کے مغلیہ ہونے پر اصرار کیا ہے اور یہ چند وجوہات کی بنا پر خلاف واقع قول ہے، کیونکہ ترک قوم کی آنکھیں، جلد اور ان کا کامل الخلقت ہونا مغلیہ قوم کی مشہور ہییت سے بہت مختلف ہے۔

آخر ترک نسل کی اصل کیا ہے؟
ترک ایک قابل رائے قوم ہے، بہت سے علاقوں کو جمع کرنی والی ہے، جو کہ اناطولیہ کے پہاڑوں کی وسعتوں میں شامل ہیں۔ آج کا جمہوریہ ترکی عرب اور مغربی دنیا سے ہجرت اور آنے جانے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اپنی تاریخ میں بھی یہ علاقہ دعوت، تجارت اور سیاست کی وجہ سے اہم گردانا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قسطنطنیہ کی فتح کو ایک عظیم فتح کے طور پر مسلمانوں کے ذہن میں بٹھا دیا تھا۔ ترکی کا یہ مقام آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔ ایک زمانہ گزرنے کے باوجود آج بھی یہ مشرق اور مغرب کی جمہوریت کے لیے ایک برتن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے علماء یہ بات ثابت کرنے سے عاجز ہو چکے ہیں کہ اس زمین پر پہلا قبیلہ کون سا آباد ہوا، لیکن فی الحال تمام علماء نے وافیدیا کی فکر پر اکتفا کر لیا ہے کہ یہاں عرب، ترک، کرد، فارس، روم، غجر وغیرہ آباد تھے، لیکن امت مسلمہ ہونے کے ناطے اللہ تعالی کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے زمین کے اس حصے کا تاریخ قدیم اور جدید سے ایک بہت بڑا حصہ ہمارے ترک بھائی "سلاجقہ ترک” کو عطا کیا۔ عرب اور تمام مسلمان سلاجقہ کے ترکی زمین کے زیادہ حقدار ہونے کا دفاع کرتے ہیں، جیسا کہ عربی قبائل کی تاریخ اس پر گواہ ہے، البتہ ہم اتنا سوال ضرور کرتے ہیں کہ ان کا اپنے آبائی وطن چھوڑنے کا سبب کیا تھا؟ اور کیا وجہ تھی کہ یہ لوگ اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر وسطی ایشیاء کے اناطولیہ پہاڑوں کی طرف آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکا نہیں روس جائیں - جاوید چوہدری

علمائے لغت نے اس بات پر زیادہ زور دیا ہے کہ ترکی زبان مغلیہ خاندان کی اس زبان میں مدغم ہونے کی زیادہ حقدار ہے جو مغلیہ زبان تاتاری، منگولی اور موجودہ ترکی زبان پر مشتمل ہے، باوجود اس کے کہ اس کے قواعد بہت زیادہ فارسی زبان سے مشابہ ہیں جو کہ نہ ہی مذکر یا مؤنث پر مشتمل ہے اور نہ تثنیہ پر۔ اور قرآن کریم کی زبان کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں شامل ہے کیونکہ بہت سے لوگوں سے یہ بات پوشیدہ ہےکہ لغت ضاد کے کلمات زیادہ لغت والے اور زیادہ اثر کرنے والے ہیں۔ 6463 کلمات کی تعداد کے ساتھ موجودہ ترکی زبان پر، پھر فرانسیسی زبان 4967 کلمات کے ساتھ۔ پھر فارسی زبان ان سے کم نسبت سے۔ لیکن عثمانی قوم عربی زبان کو زیادہ ذخیرہ کرنے والی ہے، اور فرانسیسی کلمات کو بہت کم گنجائش دیتی ہے۔ بہرحال علماء تاریخ کی ترک کے منگولی ہونے کی دلیل اس بات کی توثیق ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے وطن چنگیز خان کے ہلاکت خیز سرکشی کے سبب چھوڑ کر اس خطے میں آئے تھے۔

ارطغرل رحمہ اللہ اور پھر آل عثمان کے باقی خلفاء نے فوجی طاقت اور جنگی برتری کو مضبوط کیا۔ پس ان کی اپنے وطن اصلی میں سرکشی کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان اس کے بدلے اس سے بہتر شہر عطا کیے، اور اس سب سے اہم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کلمہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی ہدایت نصیب کی۔

ترجمہ: نعمان احمد