عسکری اسلاموفوبیا - آصف محمود

نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں ہونے والا قتل عام بتا رہا ہے کہ مسلمانوں سے نفرت اب عسکریت کی صورت میں سامنے آ رہی ہے، اسے عسکری اسلاموفوبیا کہا جا سکتا ہے۔ مسلم معاشرے تو عسکریت کے نتائج بھگت چکے، اب شاید مغرب کی باری ہے۔ آج تک مغرب نے بہت دور سے بیٹھ کر دوسروں کے سماج کو جلتے دیکھا ہے۔ یہ شعلے اب اس کے اپنے سماج کو اپنی لپیٹ میں لینے والے ہیں۔ بہت جلد اسے معلوم ہو جائے گا معاشروں میں عسکریت پسندی پیدا ہو جائے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ مغرب کی القاعدہ مغربی سماج کی دہلیز پر کھڑی دستک دے رہی ہے، اب یہ فیصلہ مغرب کا اپنا ہو گا اسے کواڑ مقفل رکھنے ہیں یا انہیں کھول کر اس جنون کو گلے لگانا ہے۔

مغرب میں اسلاموفوبیا نئی بات نہیں ۔ یہ ہیجان اور جنون بہت پرانا ہے ۔ اہل سیاست اور میڈیا نے مل کرجس جنون کو مغربی سماج میں بویا ہے ، اب وہ فصل تیار ہو چکی ہے۔

گارجین کی20 جون 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں74 ایسے گروپ کام کر رہے ہیں جن کا مقصد لوگوں میں مسلمانوں کا خوف پیدا کرنا اور ان سے نفرت کے جذبات کو فروغ دینا ہے اور اس کام کے لیے اس گروپوں کو 206 ملین ڈالر دیے گئے ہیں ۔ برمنگھم سٹی یونیورسٹی کے انٹر نیشنل جرنل آن سائبر کرمنالوجی میں ’اسلامو فوبیا آن سوشل میڈیا‘ کے عنوان سے2016 ء میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ مغربی میڈیا اہتمام سے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا ہے ۔ اسی بات کو فاکس نیوز کے برائن کلمیڈ نے یوں بیان کیا کہ بھلے ہر مسلمان دہشت گرد نہ ہو لیکن ہر دہشت گرد لازما مسلمان ہوتا ہے۔ایف بی آئی کے مطابق امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے صرف 6 فیصد میں مسلمان ملوث پائے گئے۔ لیکن یونیورسٹی آف الینائس کے پروفیسر ٹراوس ڈکسن کے مطابق امریکی میڈیا میں زیر بحث آنے والے دہشت گردی کے 86 فیصد واقعات صرف وہ تھے جن میں مسلمان ملوث تھے۔ گویا میڈیا نے اپنے وقت کا 86 فیصد حصہ صرف ان 6 فیصد واقعات پر صرف کر دیا جن میں مسلمان ملوث تھے اوران 94 فیصد واقعات کو صرف 14 فیصد کوریج ملی جن میں غیر مسلم ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی سیاہ لباس اور دوپٹہ میں مسلمان کمیونٹی سے ملاقات

یہاں تک کہا گیا کہ امریکہ کو اسلامائزیشن کا خطرہ ہے اور ’ سٹاپ اسلامائزیشن آف امریکہ‘ کے نام سے تنظیمیں قائم ہو گئیں ۔ صرف امریکہ کا نہیں پورے یورپ کا یہی حال ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کہانی بھی مختلف نہیں ۔ یہ محض ایک عذر ہے کہ یہ جذبات نائن الیون کے بعد پھیلے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ’’ وائٹ آسٹریلیا ‘‘ کی پالیسی تو نائن الیون سے عشروں پہلے وہاں موجود تھی ۔ اے بی سی نیوز کی 23 فروری 2011 کی رپورٹ کے مطابق 48 فیصد آسٹریلوی باشندے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں ۔ نیوزی لینڈ میں یہ شرح 51 فیصد ہے۔

فریزر ایننگ جیسے سینیٹرز اگر مسجد میں قتل عام کے بعد بھی اسلام اور مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں بھی ان کا کہنا ہے کہ اسلام تشدد کا دین ہے اور مسلمان وحشی ہیں تو یہ اسی ذہن سازی کے نتائج ہیں ۔نیوزی لینڈ کے میڈیا نے بھی اس ہیجان کو فروغ دیا ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں توہین آمیز خاکوں کا جو معاملہ ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ میڈیا میں مسلمانوں کے لیے Arab Others اور Folk Devils کی اصطلاحات کا استعمال معمول کی بات ہے۔

نفرت اور ہیجان کی بنیاد پر ہونے والے یہ ذہن سازی اب عسکریت کی شکل میں ظہور کر رہی ہے۔ مغرب کے مظالم سے نفرت نے جس طرح مسلم معاشروں میں عسکریت کی شکل میں ظہور کیا مسلمانوں کے خلاف نفرت اب مغربی معاشروں میں عسکریت کی صورت سامنے آ رہی ہے۔ دنیا اب ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔ اور گلوبل ولیج میں صرف اکانومی اور کلچر ہی گلوبلائز نہیں ہوتے بہت کچھ اور بھی گلوبلائز ہو جاتا ہے ۔ تازہ رجحان کو آپ گلوبلائزیشن آف ٹیرر کہہ سکتے ہیں ۔ فی الحال بے شک اس کا نشانہ مسلمان ہیں اورفریزر ایننگ جیسے سیاست دان اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن یہ آگ جب پھیلے گی تو صرف مسلمان نہیں مغرب کا پورا سماج اس کی لپیٹ میں آئے گا ۔ یہ آگ کی فطرت ہے وہ جب بھڑک اٹھتی ہے تو کسی تفریق کے بغیر جلا دیتی ہے۔ ہم اس چیز کو دیکھ چکے ، مغرب اگر اپنے جنون کو سنبھال نہ سکا تو وہ بھی دیکھ لے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملوں پر انڈین جشن کیوں منا رہے ہیں؟

اس بار، محسوس یہ ہو رہا ہے کہ مغرب کو بھی صورت حال کی سنگینی کا احساس ہو چکا ہے ۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ سے لے کر نیویارک ٹائمز اور گارجین تک سب نے اس واقعے کو دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔ اس سے قبل مغربی میڈیا کا رویہ کچھ اور ہوتا تھا ۔ حملہ آور مسلمان ہوتا تو یہ بالاتفاق دہشت گردی قرار دیا جاتا لیکن حملہ آور غیر مسلم ہوتا تو اسے دہشت گردی قرار دینے کی بجائے مختلف عنوان دیے جاتے۔ اس واقعے کو مگر مغربی میڈیا نے بالعموم دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ گویا اس بات کا اعتراف ہے کہ دہشت گردی کسی خاص ملک ، علاقے ، تہذیب اور مذہب کے ساتھ منسلک نہیں، یہ ایک رویے کا نام ہے اور کوئی بھی کہیں بھی اس رویے کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی بات پاکستان ایک عرصے سے مغرب کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دنیا کو سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی اب ایک گلوبل چیلنج ہے اور اس رویے کا شکار ہونے والے بھی ہر جگہ موجود ہیں اور ہو سکتے ہیں ۔ اس سے نبٹنے کے لیے دنیا کو اجتماعی حکمت عملی اپنانا ہو گ. اس حکمت عملی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مغرب اپنی نفسیاتی گرہوں کو کھول لے اور اس حقیقت کو سمجھے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب ، علاقے یا ملک سے تعلق نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ کے سفید فام عیسائی بھی دہشت گرد ہو سکتے ہیں ۔

دوسرے معاشروں کو جلتا دیکھنا اور بات ہوتی ہے لیکن جنون کی آگ جب اپنے معاشرے میں بھڑکتی ہے تو بہت تکلیف دیتی ہے۔ ہم طالب علم تو خبردار ہی کر سکتے ہیں ، مغرب نے اس خطرے کو سنجیدہ نہ لیا تو بہت جلد عین الیقین کی منزل کو پہنچ جائے گا۔
ستائیس سال کی عمر میں خود کشی کرنے والے انس معین نے کہا تھا:


’’ انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے

خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور‘‘

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.