کرائست چرچ میں دہشت گردی کا ایک سبق - عامر ہزاروی

حادثات ہر سوسائٹی میں ہوتے ہیں، کوئی سوسائٹی حادثات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ شدت پسند و جنونی لوگ ہر قوم ہر طبقے میں پائے جائے ہیں۔ کسی بھی حادثے کے بعد دو چیزیں اہم ہوتی ہیں۔

ایک، جنونی شخص کا گلہ کیا ہے؟ اس کے ذہن میں نفرت کس وجہ سے ہے؟ وہ یہ اقدام اٹھانے پر کیوں مجبور ہوا؟

دوم، حادثے کے بعد سوسائٹی اور ریاست کا رد عمل کیا ہے؟ اگر سوسائٹی اور ریاست جنونی کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے تو پھر وہ سماج تباہ ہو جاتا ہے۔ اگر سوسائٹی اور ریاست بغیر شناخت کے مظلوموں کیساتھ کھڑی ہوتی ہے تو پھر وہ ریاست اور سماج جنونیوں پر قابو پا لیتے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں بھی یہی ہوا۔ جنونی شخص نے مسلمان مار دیے مگر عوام اور ریاست مسلمانوں کیساتھ کھڑی ہو گئی۔ لوگ باہر نکل رہے ہیں، پھول لا رہے ہیں، شمعیں جلا رہے ہیں، گلے لگ کر ایسے آنسو بہا رہے ہیں جیسے کوئی ان کا اپنا بچھڑ گیا ہو؟

ریاست نے قاتل کو پکڑ لیا ہے، اب سزا و جزا کا انتظار ہے۔ شدت پسند بہرحال شدت پسند ہی ہوتے ہیں۔ ان کا مذہب سے کیا لینا دینا؟ کسی بھی مذہب کی تعلیمات اس طرح کی درندگی کی اجازت نہیں دیتیں۔

یہ الگ بات ہے کہ کل کوئی مسلمان یہ کام کرتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں، میڈیا زہر اگلتا تھا، میڈیا نے میری داڑھی پگڑی شدت کی علامت بنا کر پیش کی، جس کا مجھے رنج ہے، شناخت جب جرم بن جائے تو تکلیف حد سے بڑھ جاتی ہے، مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ عیسائی دہشت گرد ہیں ، یہ جرم فرد کا ہے مذہب کا نہیں۔

بس یہی فرق ہے آپ میں اور ہم میں ،کل آپ نے میرے طبقے کو دہشت گرد کہا، آج میں آپ کے فرد کو دہشت گرد کہہ رہا ہوں۔ عدل یہی ہے جو ہم کر رہے ہیں ، عدل وہ نہیں جو آپ نے کیا۔ کسی قوم کی دشمنی انصاف سے دور کر دے، یہ ہمیں قرآن نے نہیں سکھایا۔