عورت راج اور خوابِ پریشاں - نائلہ رفیق

معاف کیجیے گا میں اس مارچ کی وجہ سے تبخیرِ معدہ کا شکار ہوں۔ کچھ پوسٹرز اتنے تیزابی تھے کہ ہضم ہی نہیں ہو رہے۔ رات عجیب عجیب خواب آتے رہے۔

دیکھتی ہوں کہ ایک بڑے میدان میں کوئی بہت بڑا جلسہ ہے۔ ایک طرف عورتوں کے لیے جگہ ہے ایک طرف مردوں کے لیے۔ مرکزی راستے سے چل کر اندر پہنچتی ہوں تو دیکھتی ہوں مردوں والی سائیڈ پہ کرسیاں لگی ہیں، مگر عورتوں کی طرف صرف چونے سے لکیریں کھینچی گئی ہیں۔ میں حیران ہو کر منتظم سے پوچھتی ہوں کہ عورتوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں کیوں نہیں ہیں؟ وہ ہنسنے لگتا ہے۔ میں ذرا غصے سے پھر پوچھتی ہوں تو قہقہہ لگا کر کہتا ہے آپ کو شاید پتہ نہیں، ''عورت مارچ'' کے تمام مطالبات من و عن تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ پوسٹرز کو سامنے رکھ کر قوانین بنائے گئے ہیں اور آج اسی سلسلے میں آپ سب کو بلایا گیا ہے۔

پھر ایک پوسٹر کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ آج سے عورتیں ایسے بیٹھا کریں گی، " ٹھیک سے"۔ میرے دماغ میں سکول کالج کے زمانے میں پڑھی کہانی khipal's punishment آ جاتی ہے. میں روہانسی ہو کر کہتی ہوں یہ ٹیکنیکلی اور بایولوجیکلی ممکن نہیں ہے۔ یہ تو محض ایک پوسٹر ہے۔ وہ ہاتھ اٹھا کر مجھے بحث سے روک دیتا ہے اور مردوں کی کرسیوں کو جھاڑنے والے لڑکوں کو ہدایات دینے لگتا ہے۔ ذرا دیر میں پروگرام شروع ہو چکا، عورتیں خیالی کرسیوں پہ پاؤں کھولے بیٹھی ہیں اور مارے تکلیف کے آنسو بہا رہی ہیں، مگر چپ ہیں کیونکہ یہ ان کی اپنی مانگ ہے۔

خدا خدا کر کے تقریب ختم ہوتی ہے تو کھڑا ہونا بھی عذاب ہو چکا ہوتا ہے، مگر بھوک اس سے بڑھ کے شکم جلا رہی ہے۔ کھانا.... کھانا، سب عورتیں چلاتی ہیں۔ کھانا؟ منتظم حیرت سے پوچھتا ہے۔ مرد اپنا کھانا گرم کر رہے ہیں، اگر آپ کے پاس ہے تو گرم کر لیں۔ مگررررررر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عورتیں پھر چلاتی ہیں۔ وہ ایک پوسٹر کی طرف اشارہ کر کے مردوں کی طرف چل پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

آخری امید کے طور پر وہ مردوں کی طرف دیکھتی ہیں۔ آخر کو ان کے بھائی باپ بیٹے شوہر ہیں۔ چہروں پہ لکھی تکلیف اور بھوک تو نظر آئے گی۔ مگر یہ کیا؟؟ سب مردوں نے آنکھوں پہ دوپٹے باندھ رکھے ہیں۔ نا امیدی سے عورتیں گرنے لگتی ہیں۔

منتظم یہ بتانے آتا ہے کہ اب ہمیں جانا ہوگا مگر یہ بھی کہ سڑکیں تقریباً خالی ہیں، کوئی ٹیکسی یا گاڑی نہیں ملے گی، خود ہی جانا ہوگا، مردوں نے سڑکیں عورتوں کے حوالے کر دی ہیں۔ جب سب گھر پہنچ جائیں گی تو مرد سڑکوں پہ نکلیں گے۔

اب تو کئی عورتیں چلا اٹھتی ہیں کہ ہم اس مارچ میں شامل نہیں تھیں نہ یہ ہماری مانگ تھی۔ منتظم انھیں بتاتا ہے کہ اسی وجہ سے کہ وہ موجود نہیں تھیں، ان عورتوں کو ان کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے جو موجود تھیں۔

اب تو پوسٹر والی عورتیں بھی عورتانگی ایک طرف رکھ کر اپنی ہی مانگ سے دستبردار ہونے کی بات کرنے لگتی ہیں۔ منتظم خاموشی سے جا کر ایک پوسٹر اٹھا لاتا ہے، جس پہ بےشمار نسوانی ہاتھ ہیں، کچھ سیدھے کچھ الٹے اور سب کی مڈل فنگر نمایاں ہے۔ وہ پوسٹر عورتوں کی طرف موڑ کر گاڑ دیتا ہے اور مڑ کر مردوں کی طرف کا پردہ کھینچ کر پردے کے پیچھے غائب ہو جاتا ہے۔

ہر طرف آہ و بکا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ہر طرف 'عورت راج' ہے۔