آسمانی بجلی جے ایف تھنڈر کی کہانی - احسان کوہاٹی

’’میں نے اپنے بے بی کو دشمن کا لحاظ کرنا سکھایا ہی نہیں ہے، اسے ایسے گر سکھائے ہیں کہ سامنے آنے والے کو کاک پٹ میں ہی لگ پتہ جائے کہ سامنا کس سے ہوا ہے۔‘‘ ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کے لبوں پر وہی فاتحانہ مسکراہٹ تھی جو اکھاڑے میں مدمقابل کو دھول چٹانے والے پہلوان کے لبوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس مسکراہٹ کا ماخد ان کے آراستہ مہمان خانے میں راقم کا ستائیس فروری کے معرکہء کشمیر کے تناظر میں کہا گیا یہ جملہ تھا کہ آپ کے ’’بے بی‘‘ نے پڑوس کے بزرگ مگ 21 کا ذرا بھی لحاظ نہ کیا۔

ائیر وائس مارشل شاہد لطیف احسان کوہاٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے

ساہیوال کے ایک متوسط اور غیر فوجی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے شاہد لطیف نے اپریل 1974ء میں پاک فضائیہ میں بحیثیت لڑاکا ہواباز میں کمیشن اس طرح حاصل کیا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بہترین کیڈٹ کی اعزازی شمشیر ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ رسالپور اکیڈمی میں بہترین کیڈٹ پائلٹ ثابت ہوئے تھے۔ پھر بعد میں پاک فضائیہ کے قابل فخرپائلٹ رہے اور شاندار کیرئیر کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے کرتے ائیر مارشل کے عہدے تک پہنچے۔ وہ پاک فضائیہ کے نائب سربراہ بھی رہے۔ یہ ان چھ پاکستانی پائلٹوں میں سے بھی ہیں جنہیں ایف 16 کی تربیت کے لیے امریکہ بھیجا گیا اور جو ایک سال کی تربیت پانچ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے ایف 16 اڑا کر لے کر آئے۔ ائیر مارشل کا سب سے بڑا کارنامہ جے ایف تھنڈر کی تیاری ہے۔ یہ اس پروجیکٹ کے پہلے چیف ڈائریکٹر بھی تھے اور اسی لیے یہ اس طیارے کو پیار سے اپنا بے بی بھی کہتے ہیں۔ ان کے اس ’’بے بی‘‘ کی کہانی انھی کی زبانی سنتے ہیں۔

یہ 1990ء کی بات ہے جب امریکہ نے پریسلر ترمیم کے تحت ہم پر پابندیاں لگا دیں۔ افغان جنگ تک تو وہ ہماری دفاعی ضروریات مجبورا پوری کر رہا تھا، اس نے ہمیں ایف 16 بھی دیے اور ان کی کی مرمت اور پرزہ جات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی پوری کرتا رہا اور یہ ذمہ داری اس وقت تک نبھاتا رہا جب تک افغانستان میں اسے ہماری ضرورت رہی۔ جب پاکستان کی مدد سے افغانوں نے روس کو نکال باہر کیا تو امریکہ نے بھی ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں۔ یہ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے کہ دوست اور دشمن نہیں مفاد مستقل ہوتا ہے۔ وقت پڑنے پرمفاد کے لیے دوست بھی بدلے جاسکتے ہیں اور دشمن کو بھی گلے لگایا جا سکتا ہے۔ پریسلر ترمیم کی پابندیوں کا جواز یہ بنایا گیا کہ ہمارا صدر اب آپ کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لیے محفوظ نہیں سمجھتا، وہ سرٹیفکٹ دستخط نہیں کر رہا تو ہم اب فوجی امداد نہیں دیں گے۔ پابندیاں لگیں تو پاک فضائیہ کا سخت وقت شروع ہو گیا۔ پاکستان میں طیارہ سازی کی کوئی صنعت نہیں تھی، ہم تو جہاز کیا جہاز کا کاک پٹ بھی نہیں بناتے تھے۔ امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔ حالت یہ ہو گئی کہ ایف 16 اڑانا مشکل ہو گیا۔ پائلٹس کو ہر دم تیار رہنے کے لیے ماہانہ کچھ flying hours درکار ہوتے ہیں، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے پائلٹ وہ لازمی اڑان کے گھنٹے بھی پورے کر نے سے رہ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم نے سوچا کہ اگر کبھی بھارت سے جنگ چھڑ گئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ تب ہم نے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا کہ ہم اب دوسروں کے دست نگر نہیں رہیں گے۔ اس پر غور ہوتا رہا، ٹاپ لیول پر بات ہوتی رہی، پھر 1999ء میں چین سے معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے اور ابتدائی کام بھی شروع ہو گیا۔ معاہدے کے تحت ہم ایف سیون کو اپ گریڈ کر کے سپر سیون بنانا چاہتے تھے۔ ایف سیون دراصل روسی طیارہ مگ اکیس ہی ہے، اسے چین نے کاپی کر کے ایف سیون کر دیا تھا اور ہم اسے ’’سپر سیون‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ یہ لڑاکا طیارہ چین میں پاکستان کی معاونت سے تیار ہونا تھا، اور یہ کیسے ہونا تھا، میں اس وقت اس سے تقریبا لاعلم تھا۔ بس یہ پتہ تھا کہ پاکستان ائیرفورس مشکل وقت سے گزر رہی ہے، پائلٹس کے لیے flying hours پورے کرنا مشکل ہو رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے پاس ایف سولہ کو چھوڑ کر دیگر جتنے بھی جہاز تھے، بہت پرانے تھے۔ سچی بات ہے یہ جہاز دوست ممالک نے گراؤنڈ کر دیے تھے، سمجھ لیں کہ کباڑ میں ڈال دیے تھے اور ہم اسے یہاں لا کر نئے سرے سے مرمت کر کے اڑنے کے قابل بناتے تھے۔ یہ ہمارے انیجنیئرز کا ہنر اور پائلٹس کا کمال تھا جو انہیں اڑاتے تھے۔

ائیر وائس مارشل شاہد عزیز انٹرویو دیتے ہوئے
ائیر فورس پر وہ وقت واقعی کڑا تھا اور اس مشکل وقت میں، میں بحیثیت ائیر کموڈور بیس کامرہ کی کمان کر رہا تھا۔ بیس کمانڈر کے طور پر ہر افسر کو دو سال پورے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ 2001ء کی بات ہے۔ ائیر مارشل مصحف علی میر نے ائیر فورس کی تازہ تازہ کمان سنبھالی تھی، وہ میرے فلائینگ انسٹرکٹر بھی رہ چکے تھے اور میں ان کے شاگردوں میں واحد فائٹر تھا جس نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ گھر کے بچھڑے کے کوئی دانت نہیں گنتا تو وہ مجھ سے بحیثیت استاد خوب واقف تھے۔ انہیں فورس کی کمان سنبھالے دو تین ماہ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک دن فون کی گھنٹی بجی، میں نے کال وصول کی، دوسری جانب سے بتایا گیا کہ ائیر چیف آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں تو چونک گیا اور ساتھ ہی کچھ پریشان بھی ہوا کہ اللہ خیر کرے کچھ غلط نہ ہوگیا ہو۔

دوسری طرف سے ائیر چیف لائن پر آئے اور حال احوال پوچھ کر کہنے لگے: ’’شاہد یہ بتاؤ، تمہارا سال کب پورا ہو رہا ہے۔‘‘ میں نے انھیں بتا دیا کہ سر فلاں تاریخ کو بحیثیت بیس کمانڈر مجھے دو سال ہوجائیں گے۔ یہ سن کر کہنے لگے: ’’میں تمھیں سال پورے ہونے کے بعد ایک دن بھی نہ رکنے دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہے اورپھر ائیر چیف صاحب کہنے لگے ’’میں تمھیں تب سے جانتا ہوں جب تم فلائٹ کیڈٹ شاہد لطیف تھے، اب تم ائیرکموڈور اور میں ائیر چیف ہوں۔ کیا میں تم پر اعتماد کر سکتا ہوں؟‘‘ میں نے کہا ’’حکم کریں سر! میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔‘‘ جس پر ان کی آواز آئی: ’’میں تمھیں سپر سیون کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنانا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے ایف سولہ بنا کر دے سکتے ہو، مجھے ایف سولہ سے کم نہیں چاہیے؟‘‘ میں نے کہا: ''سر آپ کو ایف سولہ سے کم نہیں چاہیے تو ایک ایف سولہ کا پائلٹ ایف سولہ سے کم پر راضی بھی نہیں ہوگا۔ آپ نے ایسا سوچ ہی لیا ہے تو میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا۔‘‘ اس پر ائیر چیف کہنے لگے: ’’دیکھو شاہد! تم اسی کے ساتھ تیرو گے بھی اور اسی کے ساتھ ڈوبو گے، یہ بنا لو گے تو تیر جاؤگے اور بہت آگے جاؤ گے، میں تمہیں جہاں تک لے جا سکا لے جاؤں گا اور اگر ناکام ہو ئے تو ڈوب جاؤ گے، پھر بچنا مشکل ہے۔ دوسری بات یہ کہ میرا ائیر کرافٹ مینو فیکچرنگ کا کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی پاکستان میں کوئی جانتا ہے۔ یہ تو چینی ہی ہیں جو سب کرتے ہیں، میں تمھاری کسی غلطی کی نشان دہی کرسکوں گا اور نہ ہی کچھ بتا سکوں گا۔ سب کچھ تم نے ہی کرنا ہے۔ over to you ۔

ائیر وائس مارشل شاہد لطیف ایف سولہ طیارہ پاک سرزمین پر لینڈ کرنے کے بعد پاک فضائیہ کے سربراہ سے مصافحہ کرتے ہوئے

یہ ائیر چیف صاحب کی مختصر بریفنگ تھی جس پر وہ آخر دم تک قائم رہے۔ میں نے پروجیکٹ شروع کیا اور انھیں بریفنگ دینے گیا تو وہ کہنے لگے ''مجھے بریفنگ مت دو مجھے نتیجہ چاہیے نتیجہ''۔ انہوں نے مجھ پر اندھا اعتماد کیا، سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیا، میں نے چیف پروجیکٹ بنتے ہی سپر سیون کی ڈرائنگ اٹھا کر باہر پھینک دی اور کہا سپر سیون نہیں نیا جہاز بنانا ہے۔ میراایف سوالہ سے پرانا ساتھ تھا، میں اس مشین کو بہت اچھی طرح جانتا تھا، میں ویسا نہیں اس سے بھی بہتر جہاز بنانا چاہتا تھا، یہی مجھے ٹاسک دیا گیا تھا۔ ہم نے یہ پروجیکٹ ڈرائنگ بورڈ سے شروع کیا، ہم نے چینیوں کے ساتھ مل کر جہاز کا نقشہ بنایا، میں ان کی راہنمائی کرتا رہا جس کے مطابق جہاز کی ڈرائنگ بننی شروع ہوئی، اور پھر دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہونے چلا۔ ایک باقاعدہ لڑاکا فضائی فورس نے ایک کمرشل کمپنی چینگ دو ائیر کرافٹ انڈسٹری گروپ کے ساتھ مل کر جنگی طیارہ بنانا شروع کر دیا۔ دنیا میں امریکی، اسرائیلی، انگلش ائیر فورس سمیت کوئی بھی فورس خود طیارے نہیں بناتی، وہ صرف اپنی ضروریات بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ چیز چاہیے اور اس ملک کے ادارے انھیں وہ چیز بنا کر دیتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ تھا، ہم خود جہاز بنانے جا رہے تھے اور جن سے بنوا رہے تھے، ان کے پاس بھی ایسا تجربہ نہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ چین جہاز بناتا تھا لیکن وہ دراصل کاپی ہوتے تھے۔ یہاں میرا واسطہ چین کے ایک کمرشل ادارے کے ہنرمندوں سے تھا، بڑا ہی مشکل کام تھا، میں طیارے کے معیار کی بات کرتا اور وہ کمرشل بات کرتے، وہ کہتے کہ تم کر کیا رہے ہو؟ گاڑی چل پڑی ہے تو بس چلنے دو، روکنے سے ہمیں نقصان ہے اور میں انھیں کہتا یہ چیز ٹھیک نہیں ہے اسے ٹھیک کرو، اسے بہتر بناؤ۔ دراصل مسئلہ یہ تھا کہ چین کے پاس بھی وہ ٹیکنالوجی نہیں تھی، میں ایک طرح سے ان کا کام بڑھا دیتا تھا جس سے انہیں ناخوش ہی ہونا چاہیے تھا۔ ہم ہر تین ماہ بعد چین جاتے، پروجیکٹ کا معائنہ کرتے اور اس دورے میں اکثر ہی تلخ کلامی ہوجاتی، پھر میں نے چینیوں کی نفسیات پڑھنا شروع کی، ان کے بارے میں مطالعہ کیا کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟ ان کی اقدار کیا ہیں؟ یہ مطالعہ میرے بہت کام آیا، میں ان کے ساتھ گھل مل گیا، میں ان کی فیکٹری میں جاتا تو وہیں ان کے ورکروں کے ساتھ بیٹھ جاتا، ایسا بھی ہوا کہ رات ہوئی اور میں نے وہیں فیکٹری میں بستر لگا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جماعت اسلامی پاکستان پر پابندی لگ سکتی ہے؟ اسداللہ غالب

میرا ہدف تھا کہ تین سال میں یہ جہاز آسمان پر اڑتا دکھائی دے، یہ بظاہر ناممکن تھا، ترقی یافتہ ممالک میں بھی ڈیزائننگ سے فلائنگ تک ایسے پروجیکٹ دس سے پندرہ سال لے لیتے ہیں، اور ہم یہ کام تین سالوں میں کرنے چلے تھے۔ پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا، ہمارے بارے میں مغربی ممالک نے کہنا شروع کر دیا کہ چین اور پاکستان کو کیا پتہ جنگی جہاز کیسے بنتا ہے؟ ان کے بنے ہوئے جہاز کاغذی جہازوں کی طرح گرا کریں گے۔ انھی دنوں بھارت کے فائٹر جیٹ تیجا کی بھی خبریں آنے لگیں، بھارت نے اس پر کام کی رفتار تیز کردی، تیجا کا پروجیکٹ ہم سے نو برس پرانا تھا اور اسے بھارت کے چوبیس اداروں کا تعاون بھی حاصل تھا، انہیں جہاز بنانے کا تجربہ بھی تھا۔ اور ادھر تجربہ کیا ہونا تھا، ہم نے تو قدم ہی ابھی اٹھایا تھا، میں نے چینیوں کو تیجا سے مقابلے پر لے آیا۔ وہ کہتے آپ ہمیں جگہ جگہ روک رہے ہو، وہ دیکھو انڈیا کا تیجا تیزی سے مکمل ہو رہا ہے، وہ ہم سے پہلے بن گیا تو ہمارا فائٹر کون خریدے گا؟ اور میں انھیں کہتا کہ دیکھو اگر ہمارے طیارے کے بارے میں تاثر عام ہو گیا کہ یہ پائلٹ اور رقم ڈبو دے گا تو اسے کون خریدے گا؟ چیز ایسی بناؤ کہ جو دیکھے دیکھتا رہ جائے، جو ثابت کر دے کہ ہاں میں ہوں، تو اس طرح میں انھیں پیار سے، پچکار کر کبھی ناراضگی کا اظہار کرکے اور کبھی شاباشی دے کر کام کراتا چلا گیا۔

مجھے پریشانی یہ تھی کہ ہمارے جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب تھی، میرے پاس وقت بہت کم اور نپا تلا تھا، میں نے2001ء میں ہی اپنے جہازوں کا سارا شیڈول بنا لیا تھا، مجھے ایک ایک جہاز کا پتہ تھا کہ وہ کب ریٹائر ہو رہا ہے۔ مجھے یہ بھی علم تھا کہ ریٹائر ہونے والے جہاز کا ہینگر خالی رہے گا، دنیا ہمیں جہاز نہیں دے گی۔ امریکیوں کا رویہ ہمارے سامنے تھا، ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے۔ ہم اردن اور آسٹریلیا کے کنڈم میراج طیارے لے کر آتے اور انھیں قابل استعمال بناتے۔ یہ بہت بڑا رسک تھا، پائلٹوں کی زندگی کے لیے بھی خطرہ تھا، لیکن ہم کیا کرتے، ہمارے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

دنیا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہماری ائیر پاور نہیں بڑھنے دے گی، وہ ہمیں جہاز نہیں دے گی، اور یہیں سے میرا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے رابطہ ہوا، میں نے انھیں ایک محب وطن پاکستانی پایا۔ میں ان کی خوبیوں خامیوں کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، میں ان سے براہ راست رابطے میں آچکا تھا، جب انہیں پتہ چلا کہ ائیرفورس ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے تو انھوں نے مجھے بلا لیا۔ ان سے ائیر چیف نے میرا ذکر کر دیا تھا کہ سر! یہ میرا شاگرد بھی رہا ہے اور یہ ہمیں نیا جہاز بنا دے گا۔ مجھے اس پر سو فیصد یقین ہے۔ میں مشرف صاحب سے ملنے گیا، اکیلے کمرے میں ہونے والی ملاقات میں انھوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ اپنا بیک گراؤند بتاؤ، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ مصحف نے تمھیں اپنا شاگرد ہونے کی وجہ سے اس پروجیکٹ کا چیف ڈائریکٹر بنا دیا۔ میں نے عرض کیا سر! مصحف صاحب میرے فلائنگ انسٹرکٹر تو تھے، میں ان کا شاگرد بھی تھا، لیکن مجھے اعزازی شمشیر ان کی سفارش پر یا بھائی بندی پر تو نہیں مل سکتی تھی، وہ تو صرف میری فلائنگ دیکھ رہے تھے، اعزازی شمشیر تو کیڈٹ کی پوری کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ میں wing under officer بھی تھا۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی، کہنے لگے’’یار! بات تو تم ٹھیک کہتے ہو، تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم میں کچھ ہے، اچھا ادھر تو تم نے مصحف کو کہہ دیا کہ جہاز بنادوں گا، کیا واقعی ایسا کر لوگے؟ یہ کہہ کر وہ مجھے صورتحال سے آگاہ کرنے لگے۔ ان کے الفاظ تھے کہ میں جیب میں پیسے لے کر پھرتا ہوں، میں جہازکا نام لیتا ہوں، مگر کوئی ہمیں دینے کو تیار نہیں ہے۔

یادگار لمحہ، پاکستان اور چین لڑاکا طیارے جے ایف 17 کی تیاری کے معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں

یہ وہ وقت تھا جب ہمارے اسکواڈرنز میں صرف پرانے میراج ایف سکس اور اے فائیو جیسے طیارے تھے، لے دے کر ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے جن کے لیے ہم مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔ جب امریکہ چاہتا ان کے سامان کی سپلائی مرمت روک دیتا، اس وقت دنیا پر AIR WAR کی اہمیت بہت کھل کر واضح ہو چکی تھی، وہ ہمیں طاقتور نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنی ائیر فورس سے تباہی پھیر دی تھی، اس لیے دنیا نے ایکا کر لیا تھا کہ ہمیں جہاز نہیں دینا، اور حالت یہ تھی کہ جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب آتی جا رہی تھی۔ میں نے حساب کتاب کیا تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، تین سالوں میں نئے جہاز نہ آتے تو ہمیں اپنے اسکواڈرن بند کرنے پڑ جاتے اور یہ کسی بھی ائیرفورس کے لیے موت تھی۔ میرے لیے 2003ء میں ہر حال میں اپنا جہاز Air Born کرنا تھا اور ایسا نہ ہوتا تو یہ ہماری موت تھی۔ ان حالات میں ہم نے جان مار کر کام شروع کر دیا، چینیوں کی دن رات کی شفٹیں لگا دیں، حالانکہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ میں ان کا مزاج رویہ سمجھ چکا تھا، ان سے برتاؤ کرنا آ گیا تھا۔ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ چینیوں کے ساتھ کیسے کام کرنا ہے؟ ایسا اکثر ہوتا کہ بات چیت ہوتی تو معاملہ و محفل اتنی گرم ہوجاتی، اتنی heat ہو جاتی کہ سمجھیں جھگڑا ابھی ہوا کہ ابھی ہوا، لیکن جب بات چیت ختم ہوتی تو میں انھیں گلے لگا کر تین لفظ کہتا We are friend بس یہ کہنا ہوتا کہ وہ کہتے آپ کو جو چاہیے ہم سے لے لو۔ جو بات تین تین گھنٹوں کی بحث میں نہ مانتے، وہ ذرا سی مسکراہٹ سے نرمی سے مان جاتے۔ اس طرح دن رات کی محنت سے یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ پرائیوٹ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟ آصف محمود

میرے ذہن میں ایف سولہ تھا۔ چونکہ میں نے اسے آپریٹ کیا ہوا تھا اس سے اچھی طرح واقف تھا، اس لیے میں اسے اسی معیار پر بلکہ اس سے بہتر بنانا چاہتا تھا، اور بار بار اسی کی مثال دیتا کہ ہمیں یہ چیز ایسی چاہیے اور یہ ایسی چاہیے۔ ادھر امریکہ کو تشویش شروع ہو گئی۔ انھیں انٹیلی جنس رپورٹیں ملنا شروع ہو چکی تھیں، انہوں نے یہ پروجیکٹ ناکام بنانے کے لیے مختلف حربے اختیار کرنا شروع کر دیے۔ مجھے یاد ہے اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں، وہ مجھے کسی بھی تقریب میں دیکھتیں تو ایک طرف لے جاتیں اور کہتیں تم بچ کر رہنا، ہم تمھیں سیٹلائٹ سے دیکھ رہے ہیں، اگر تم نے ہمارا نٹ بولٹ بھی چینیوں کو دکھایا تو مثال عبرت بنا دیں گے۔ پھر مجھ پر طرح طرح کے حربے استعمال کیے گئے، عورت اور دولت کے جال پھینکے گئے، میرے اردگرد لوگ ڈالروں سے بھرے بریف کیس لے کر پھرتے رہتے، لیکن الحمدللہ، اللہ نے مجھے ہر جال اور ہر چال سے بچایا۔

پروجیکٹ چلتا، رہا یہاں تک کہ ستمبر 2003ء میں وہ وقت بھی آگیا جب چنگ دو چین کے رن وے پر F-17 نے دوڑنا شروع کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں بلند ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہم ایک دوسرے سے والہانہ انداز میں گلے لگ رہے تھے، مبارکبادیں دے رہے تھے۔ انہیں خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہم نے کیا کر دیا ہے۔ تین سال کی قلیل مدت میں ایک لڑاکا طیارہ فضا میں پہنچا دیا ہے۔ یہ پچیس منٹ کی پروٹو ٹائپ فلائٹ تھی، جس میں پائلٹ ایک ایک موومنٹ بتا رہا تھا، اس کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا تھا اور ہمارے دل دھک دھک کر رہے تھے، لبوں پر دعائیں تھیں کہ اے رب العالمین! ہماری عزت رکھنا اور پھر اس دن بھی اللہ نے ہماری عزت رکھی اور ستائیس فروری کی صبح بھی اللہ نے دشمن کے دل میں ہماری ہیبت ڈال دی۔ جے ایف سترہ کا سامنا بہترین روسی فائٹر جیٹ سوخوئی 30 اور مگ 21 سے تھا، الحمدللہ ایف 17 نے دونوں کو دھول چٹا کر اپنی ہیبت بٹھادی اور ثابت کر دیا کہ یہ فورتھ جنریشن کا بہترین لڑاکا طیارہ ہے۔ تعریف وہ ہوتی ہے جو دوسرا کرے، آج دنیا جو کہہ رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ جو ہماری سوچ تھی، جو ہمارا خیال تھا ایف سترہ اس سے بھی بہتر بنا ہے، ہم نے اسے گلاس کاک پٹ کے طور پر بنایا، کاک پٹ میں ہر چیز ڈیجیٹل ہے، اس کے میزائلوں کی مار ایف سولہ کے میزائل سے زیادہ ہے، اس کے بی وی آر کی رینج بھی ایف سولہ کے بی وی آر سے زیادہ ہے، اس کے ریڈار کی کارکردگی ایف سولہ سے بہتر نہیں بہت بہتر ہے۔ آج مجھے اپنے بے بی پر فخر ہے۔
......................................
ائیر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ یہ ایک کاپی پروجیکٹ تھا، ایک جہاز کی بہتر نقل بنانی تھی، لیکن جب اس پر کام شروع کیا تو یہ جہاز ہی بالکل مختلف اور نیا بن گیا جو ہر لحاظ سے منفرد تھا۔ میں نے چینیوں سے کہا کہ یہ سپر سیون نہیں ہے، یہ ایک نیا جہاز ہے، اس کا نام بھی نیا ہی ہونا چاہیے، وہ میری بات سے متفق تھے۔ جب انہوں نے میری تائید کی تو میں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ اسے F-17 کیوں نہ کہا جائے۔ اس وقت امریکہ ایف 16بنا چکا تھا، اس کا F-18 بھی آ چکا تھا، بیچ میں F-17 کی جگہ خالی تھی، سو اس نے پوری کر دی، اس کا نام F-17 رکھ دیا گیا۔ اس بات کے ہفتہ بھر بعد چینی دوستوں کا فون آیا کہ ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ اس میں لفظ ’’J‘' بھی لگا لیا جائے۔ یہ دو دوست ملکوں کی مشترکہ کاوش ہے تو اسے JOINT F-17 یعنی JF-17 کہا جائے اور یہی اس کا آفیشل نام بھی ہو گیا۔
......................................
ائیر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف وہ پہلے پاکستانی فائٹر پائلٹ ہیں جو امریکی ایف سولہ طیارہ اڑا کر پاکستان لائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم چھ پائلٹ ایف سولہ کی پرواز کی تربیت لینے کے لیے امریکہ گئے تھے، یہ تربیتی کورس ایک برس کا تھا، لیکن ہم نے پانچ ماہ میں ہی مکمل کر لیا اور مہارت حاصل کرکے امریکیوں کو حیران کر دیا۔ ہمیں وہاں تربیت کے دوران اسرائیلی ائیر فورس کے پائلٹس کی موجودگی کا بھی پتہ چلا جو چھ ماہ سے تربیت لے رہے تھے۔ یہ بات خفیہ رکھی گئی تھی، ہم صبح کے وقت فلائنگ کرتے تھے، اور وہ شام کے وقت۔ ایک روز ہفتہ وار تعطیل کے دن انسٹرکٹر سے میں نے کہا کہ ہماری ان کے ساتھ فلائینگ تو کروائیں، ذرا پتہ چل جائے کون کتنے پانی میں ہے، حالانکہ اس وقت انھیں تربیت لیتے ہوئے چھ ماہ ہو چکے تھے۔ وہ دو تین سو گھنٹے پرواز کر چکے تھے اور ہم بمشکل بارہ پندرہ گھنٹے ہی پرواز کر سکے تھے۔ اس پر انسٹرکٹر نے کہا سخت ہدایات ہیں کہ ہمارے پائلٹ کبھی پاکستانیوں کے سامنے بھی نہ آئیں، ساتھ فلائینگ کی تو بات ہی نہ کرو۔ انہیں کوئی خوف تھا تو انہوں نے یہ ہدایات دے رکھی تھیں۔ ہمارے انسٹرکٹر کہتے تھے کہ ان اسرائیلیوں کو تمہارے عربوں نے ہیرو بنا رکھا ہے، پاکستانی پائلٹس کا معیار ہی کچھ اور ہے۔

ائیر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ تک آنا بڑی بات نہیں، فائٹر جیٹ کے لیے یہ ایل او سی سے تیس سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ انھوں نے بہاولپور اور دیگر جگہوں سے جہاز اڑائے، جب ریڈار میں ان کے بہت سارے جہاز اڑتے دکھائی دیے تو ہمارے جہازوں نے ان کا پیچھا کیا، انھوں نے ہمیں پیچھے لگایا اور دوسری طرف سے بالاکوٹ کا رخ کیا، ہمارے جہاز وہاں بھی ان کے پیچھے لپکے، جیسے ہی انھیں پتہ چلا کہ پاکستانی فائٹر air born ہو گئے ہیں تو وہ اپنا سامان پھینک کر فرار ہو گئے۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.