کیا جماعت اسلامی پاکستان پر پابندی لگ سکتی ہے؟ اسداللہ غالب

جواب میرا نہیں بلکہ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سیکرٹری اطلاعات اور اب پنجاب کے امیر جناب امیر العظیم کا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جو حالات جا رہے ہیں اور جن حالات کا جماعت کو پچھلے بہتر برسوں میں سامنا رہا ہے اور جو سلوک بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی سے ہوا، اور اب مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی کے ساتھ بھارتی حکومت نے جو سلوک روا رکھا ہے۔ اس کے پیش نظر جماعت اسلامی پاکستان کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امیر العظیم صاحب سے سوال کیا گیا کہ آپ کن حالات کی وجہ سے یہ خدشہ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو اس بنا پر پھانسیاں دی گئیں کہ انھوں نے اکہتر میں پاکستان کی سلامتی اور بقا کی جنگ میں افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ اس اقدام کو غداری سے تعبیر کیا گیا۔ ابھی بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہاں کی جماعت پر بھی پاکستان نوازی اور دہشت گردی کا الزام دھرا گیا ہے، اس پر بھارت نواز کشمیری لیڈر محبوبہ مفتی اور فارو ق عبداللہ بھی چیخ اٹھے ہیں کہ یہ جماعت کسی لحاظ سے تشدد میں ملوث نہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے اور زیادہ تر فلاحی اور تعلیمی کاموں میں سرگرم عمل ہے۔ محبوبہ مفتی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک خیال اور ایک تصور کا نام ہے۔ خیال کو زنجیریں نہیں پہنائی جا سکتیں۔ اس کے ہسپتالوں اور اسکولوں کی تالہ بندی کسی لحاظ سے مناسب نہیں۔ نہ پورے کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے تاجروں نے مئوثر ہڑتال کی اور ریاست کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے پہلی بار ایسی ہڑتال کی کہ پورے مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت ناممکن ہو کر رہ گئی۔ اس پر بھارت کو اس حد تک گھٹنے ٹیکنے پڑے کہ جماعت کے فلاحی، تعلیمی اور علاج معالجے کے مراکز کے تالے کھول دیے۔

مگر پاکستان میں جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگی تو ان سے جڑے ہوئے ہرا دارے پر حکومت نے قبضہ کر لیا اور اسکول، ہسپتال اور ڈسپنسریاں تک چھین لی گئیں۔ ایک طرف بھارت ہے جو اسکولوں اور صحت کے مراکز کو کھولنے پر مجبور ہو گیا ہے مگر حکومت پاکستان نے ایسی کوئی ڈھیل نہیں دی۔ اس سے ریاست پاکستان کے رجحانات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگرچہ حکومت کہتی تو یہی ہے کہ اس پر کسی کا دباؤ نہیں۔ اور یہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ا یک آزادانہ فیصلہ ہے۔ مگر سب جانتے ہیں کہ بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی پیش کش پر ایک ڈوزئیر ہمارے حوالے کردیا ہے۔ اب کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ ا س میں کس کس کا نام لکھا ہے۔ ظاہری طور پر بھارت جماعۃ الدعوہ اور جیش محمد بارے واویلا مچا رہا ہے۔ اس لیے ان جماعتوں پر پابندیاں لگ چکی ہیں۔ اور ان سے منسلک فلاحی، سماجی اور تعلیمی مراکز بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ انھی دنوں جیش محمد کے مسعود اظہر کے خلاف سلامتی کونسل میں نئی قرارداد بھی پیش کر دی گئی ہے کہ انہیں دہشت گرد قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ کئی بار سلامتی کونسل کے سامنے پیش ہوتا رہا ہے اور چین کی مہربانی ہے کہ وہ ہر بار کسی بھی فیصلے کو ویٹو کر دیتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کو گرے لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا مسئلہ بھی متعلقہ ادارے کے سامنے پیش ہو چکا ہے، اس ادارے کے شریک چیئرمین کی کرسی بھارت کے پاس ہے۔ پاکستان نے اس پر اعتراض کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے یہ منصب واپس لیا جائے۔ اگر بھارت وہاں موجود رہتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ ادارہ کیا گل کھلا سکتا ہے؟ ویسے اس ادارے کے منفی فیصلے سے بچنے کے لیے ہی جماعۃ الدعوہ اور جیش محمد اور فلاح انسانیت پر پابندی عائد کی گئی ہے مگر کون جانے کہ یہ ادارہ ان اقدامات سے بھی مطمئن ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ ہیں وہ حالات جہاں ڈومور کا مطالبہ سامنے آ سکتا ہے اور ڈومور کا مطلب ہو گا کہ جماعت ا سلامی بھی ایک انتہا پسند، شدت پسند تنظیم ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے اقدامات کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان ماضی میں حکومتی پابندیوں کا نشانہ بنتی رہی ہے حتی کہ جماعت کے بانی اور پہلے امیر مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا بھی سنا دی گئی تھی۔ جماعت کے کئی راہنما جیلیں بھی کاٹ چکے ہیں۔ حالانکہ جماعت نے کبھی کوئی انتہا پسندانہ کارروائی نہیں کی۔نہ اس کے کارکن کسی دہشت گردی کے سانحے میں ملوث ہوئے۔ مگر ان دلائل کو کون مانتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   آزادی صحافت کا دن اور پاکستان میں صحافت - رانا اعجاز حسین چوہان

امیر العظیم نے انکشاف کیا کہ امریکی کانگرس کے ایک رکن مسٹر بینکس نے بل پیش کیا ہے کہ جماعت اسلامی کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جائے۔ یہ قرارداد خارجہ امور کی طاقتور کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کانگرس میں مسڑ بینکس کی یہ قرارداد اٹھائیس فروری کو پیش کی گئی ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی انتہا پر تھی۔ اس طرح لگتا یہ ہے کہ امریکہ میں بھارتی لابی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ امیرالعظیم نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی جانے والی یہ قرارداد آنے والے طوفانوں کی خبر دیتی ہے۔ مسٹر بینکس کی قرارداد انتہائی خطرناک نتائج کی حامل ہے۔ اس لیے میں اس کا حرف بحرف ترجمہ قارئین کی نذر کروں گا۔ مجھے جنرل مشرف کے دور میں پنجاب کے گورنر جنرل صفدر سے ون ٹو ون ملنے کا موقع ملا تو دیگر معاملات کے ساتھ وسط ایشیا کی ایک نو آزاد ریاست کے حکمران کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ وہ جماعت اسلامی کے لٹریچر سے بہت زیادہ فکر مند تھے۔ ان کے الفاظ تھے کہ آپ وسط ایشیا کی اسلامی مملکتوں میں تفہیم القرآن کی برآمد بند کر دیں۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق ایک زمانے میں چین نے اپنے حاجیوں کو پاکستان کے راستے جانے کی اجازت دی تھی۔ اس کے تمام انتظامات جماعت اسلامی کے سپرد تھے، مگر کچھ عرصہ بعد چین نے حکومت پاکستان سے شکوہ کیا کہ چینی حاجیوں کو جہاد کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس شکوے پر جماعت کی لیڈر شپ نے یقین دلایا کہ آئندہ چین کو ایسی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ جماعت کا موقف تھا کہ چین کو محض غلط فہمی ہوئی ہے۔ امیر العظیم کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکی کانگرس میں پیش کی گئی قرارداد پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ایک سپر پاور کے فیصلے کے بعد پاکستان کی ہمت نہیں کہ اس فیصلے سے روگردانی کر سکے۔ امریکہ نے ایک زمانے سے حقانی نیٹ ورک کا شور مچا رکھا ہے۔ پاکستان میں بھی کئی طبقات سچ مچ سمجھتے ہیں کہ کہیں کسی حقانی نیٹ ورک کا ضرور وجود ہے جسے پاکستان کی سرگرم حمایت میسر ہے۔ ایسے لوگ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ملفوف زبان استعمال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈان لیکس اسی سوچ کا شاخسانہ تھا۔ امیر العظیم اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہیں مگر میں نے ان کے اندیشوں اور ان کے پس منظر کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ خدا نہ کرے کہ ایسی قیامت کا وقت آجائے۔
(جاری ہے)