فحش نگاری اور کنوئیں کے مینڈک - صہیب جمال

دنیا میں مزاح لکھنے اور پرفارم کرنے کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ عشق، احسان و سلوک، سیاسی و جنگی معرکوں پر لکھنے کی ہے۔
دنیا بھر کا ادب اٹھالیں مزاح کے بغیر کسی بھی خطّہ کا ادب نہیں ملے گا۔

مزاح کی قسمیں
سیاسی و حکومتی فیصلوں، میاں بیوی کے تعلقات، ساس کے ساتھ رویّہ یا ساس کا رویّہ، تعلیمی اداروں میں طالب علم و ٹیچرز کے معاملات، نوکر و مالک کا ساتھ، سفرنامہ سب سے زیادہ یہی موضوعات ہوتے ہیں جن پر مزاح تخلیق ہوتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ شوق سے پڑھا جانے والا موضوع ہوتا ہے میاں بیوی کے پر مزاح تعلقات۔

اس تحریر کا مقصد صرف ان چند محترم دوستوں کو توجہ دلانا ہے جو فیس بک پر موجود کسی بھی شخص کی وال پر تحریر کو ذاتی حیثیت پر لے جاتے ہیں۔ ان کے لیے اطلاع ہے کہ جب کوئی پر مزاح تحریر پڑھیں تو پہلے اس سوچ سے نکلیں کہ یہ مزاح یا تحریر شخصی ہے، اس موضوع کو عام اور ہر زندگی پر ناپا کریں، یہ بات ذہن میں رہے سب سے اچھا مزاح وہ ہوتا ہے جو خود انسان اپنے اوپر کرے، جب خود اس مذاق میں سبجیکٹ بنے، بڑے بڑے ادباء اپنے اوپر مذاق زیادہ کرتے ہیں۔

پچھلے کچھ دنوں سے کچھ والز پر دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ ان تمام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو از راہِ مذاق بیگم کی غلامی یا زن مریدی پر پوسٹ لکھتے ہیں۔ یہ موضوع ہی ایسا ہے جو لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ دنیا بھر میں پچاس فیصد مزاح کسی بھی خطّے کا اسی موضوع پر ہے، دنیا میں سینکڑوں فلمیں اس موضوع پر بن چکی ہیں، سینکڑوں مزاحیہ ڈراموں میں مزاح کا عالمی تسیلم شدہ جز بھی یہی موضوع ہے، کئی بڑے بڑے فکاہیہ ادباء، شعراء، نثرنگار اس موضوع پر لکھتے ہیں۔ مغرب میں بھی ان موضوعات پر فلمز، ڈرامہ، اسٹیج اور لٹریچر لکھا جا چکا ہے۔

چھوٹی سی ایک مثال دیتا ہوں، منور ظریف کی پنجابی فلم "نوکر ووہٹی دا" پورے پاکستان میں کامیاب ہوئی، اس کا اردو زبان کے ساتھ ساتھ سندھی اور پشتو میں بھی ترجمہ کیا گیا، اس کے تین چار سال بعد انڈیا میں دھرمیندر پر اسی فلم کا چربہ بنایا گیا اور وہ فلم بھی انڈیا میں سپرہٹ ہوگئی۔ پتہ نہیں اس کے بعد شاید منوّر ظریف اور دھرمیندر کا ہماری فیس بک کے ان نقادوں سے واسطہ نہیں پڑا ورنہ وہ پوری زندگی ان کو زن مریدی جیسے موضوع پر اداکاری دکھانے پر مار دیتے، ان دونوں اداکاروں نے بیوی سے ڈرنے مار کھانے کے دوسرے موضوعات پر فلموں میں مزید سین بھی کیے۔ اب بھی فلمز میں کامیڈی کے لیے ایک ایسا کردار ڈالا جاتا ہے۔

ان تمام ناقدین سے گذارش ہے کہ اگر اللّٰہ نے آپ کو خشک طبیعت دی ہے، مسکراہٹ اور مزاح سے آپ کو الرجک ہے تو برائے مہربانی آپ پائنچے سمیٹتے کنارے سے نکل جایا کریں ورنہ آپ ذہنی بیمار ہوسکتے ہیں۔

ایک اور بات
کوئی اگر اپنی ازدواجی زندگی کو فکاہیہ و پر مزاح انداز میں بیان کر رہا ہے تو کم از کم اس کو یہ طعنہ نہ دیں کہ شاید یہ موصوف کچھ دنوں میں رات کو اپنی بیگم سے تعلق کا بھی ذکر کردیں گے، بیوی کے ساتھ اور کچھ بھی دکھا دیں، مزید گندے ذکر کیے جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرنے والوں کو ٹھرکی بھی کہہ دیا کہ وہ کمنٹ کرنے والا اس پوسٹ پر آ کر صاحبِ پوسٹ کی بیگم کی آمد پر ٹھرک جھاڑتے ہیں۔ بھیا سب غزت دار ہیں، آپ کی طرح گندے ذہن کے نہیں۔ ہاں! اب یہ اندازہ ہوگیا کہ یہ چند لوگ اپنے ذہن میں کیا خیالات رکھتے ہیں، اگر آپ کی زندگی میں بیوی نے خشکی ہی خشکی دی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کوئی اس رشتے کو پرلطف نہیں سمجھتا۔

ویسے ذاتی طور پر بذاتِ خود میری وال پر یہ موضوع بہت کم ہوتا ہے کیونکہ مجھے صرف ایک ہی موضوع پر لکھنا پسند نہیں، کبھی کبھی اس موضوع پر لکھتا ہوں، بس دوست احباب مجھے ایسی کسی پوسٹ پر مینشن اور ٹیگ کرتے ہیں جو ان کی محبت ہے اب ان کو میں خشک سا جواب تو دینے سے رہا، میری وال تو اس سے خالی ہے مگر میرا ذاتی تأثر ایسا ہی ہے۔

بس یہ یاد رہے فحش نگاری دنیا کا آسان ترین مزاح ہے، ایسے سارے فحش نگار میرے سامنے آکر بیٹھیں، ان کو بہت فخر سے چیلنج کرتا ہوں کہ لکھا تو بہت سوچ کے جاتا ہے، مگر مجھ سے فی البدیہ فحش گوئی کا مقابلہ کر لیں، ہاں فی البدیہ فحش گوئی جس میں مزاح ہو، مشکل ترین کام ہے۔ کچھ سرچنگ کے لیے جملے لکھ رہا ہوں گوگل کرلیں یا یوٹیوب آپ کو ان کے ویوز دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا۔ اس میں انڈو پاک ہی نہیں مختلف ممالک کے مزاحیہ کلپس و معلومات ہیں۔

Top 10 Wife and Husband Funniest clip ، Poetry on Wife and Husband، Top 10 Literature on Husband Wife Funny Life، Top 10 Famous funny TVCs on Husband and wife

بھائی خشکو، فحش نگارو! اب یہ دیکھ کر کہیں ان کے تخلیق کاروں کو طعنے مت دینے لگ جانا۔