امریکہ پرائیوٹ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟ آصف محمود

نجی عسکریت اور پرائیویٹ جنگجوؤں کے خلاف پاکستان تو کارروائی کر رہا ہے ، سوال یہ ہے کیا امریکہ بھی اپنے پرائیویٹ جنگجوؤں اور اپنے ہاں موجود نجی عسکریت کے خلاف کارروائی کرے گا؟ پاکستان نے تو حافظ سعید وغیرہ کے خلاف ضروری اقدامات کر لیے ہیں کیا امریکہ بھی ایرک پرنس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا؟

نیشن سٹیٹ کے جدید تصور میں مسلح کارروائی صرف اس ریاست کی باقاعدہ افواج کر سکتی ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیے گئے دائرہ کار کے اندر رہ کر۔ کسی نجی گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ مسلح کارروائیوں میں شریک ہو ۔ چنانچہ اقوام متحدہ نے نہ صرف اسے ناجائز قرار دیا بلکہ جنیوا کنونشن میں یہ بات بھی طے کر دی گئی ہے کہ دوران جنگ گرفتار ہونے والوں میں سے’ جنگی قیدی‘ صرف ان افراد کو سمجھا جائے گا جو باقاعدہ افواج کا حصہ ہوں ۔ کسی نجی عسکری گروہ کا کوئی آدمی گرفتار ہوتا ہے تو اسے جنگی قیدی سمجھا جائے گا نہ ہی اسے وہ سہولیات اور حقوق حاصل ہوں گے جو جنگی قیدیوں کو ہوتے ہیں۔

انٹرنیشنل لاء ، کسی ایسے فرد یا گروہ کے لیے، جو باقاعدہ افواج کا حصہ نہ ہوں مگر مالی یا سیاسی وجوات کی بنیاد پر عسکری کاروائیوں میں شریک ہو جائیں، ’مرسنریز‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ مرسنریز کنونشن کے آرٹیکل دو کے مطابق ’’ جو کوئی بھی مرسنریز کو بھرتی کرتا ہے، استعمال کرتا ہے، مالی مدد دیتا ہے، یا ان کی تربیت کرتا ہے وہ اس کنونشن کے تحت جرم کا مرتکب ہوتا ہے‘‘۔ آرٹیکل تین کے تحت مرسنریز کا استعمال بذات خود ایک جرم ہے اور آرٹیکل پانچ میں تمام ریاستوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ نہ تو مرسنریز کو بھرتی کریں گی، نہ انہیں استعمال کریں گی، نہ ان کی مالی معاونت کریں گی اور نہ ہی انہیں تربیت دیں گی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ان سارے جرائم کا اعلانیہ ارتکاب کرتا ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں کیا کیا ؟ سی آئی اے یہاں ڈرون حملے کرتی رہی اور بلیک واٹر اس کی معاونت کرتی رہی ۔ یہ دونوں امریکہ کی ریگولر افواج کا حصہ نہیں ہیں ۔ان کا جنگ میں استعمال جنگی جرم بھی ہے اور مرسنریز کنونشن کی خلاف ورزی بھی ۔ جنگی قوانین کے مسلمہ ماہر ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے پروفیسر اور امریکہ کے سابق جج پروفیسر ڈاکٹر گیری سولیس نے 12 مارچ 2010 کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے کالم میں لکھا :’’ سی آئی اے والے بغیر وردی اور بیج کے جنگجو ہیں جو جنگ میں براہ راست شریک ہیں‘‘۔ لویولا لاء سکول کے پروفیسر ڈیوڈ گلیزئر کا کہنا ہے :’’ سی آئی اے کے اہلکار سویلین ہیں انہیں جنگی کارروائی میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں‘‘۔ گویا ان کا جنگ میں استعمال انہیں ایک مرسنری بنا رہا ہے جو ایک ناجائز کام ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں گرفتار دوسرا پائلٹ اسرائیلی ہونے کا دعوی کتنا درست ہے؟

جنگوں میں مرسنریز کا استعمال امریکہ کا پرانا طریقہ ہے۔ اس سے وہ دو فوائد حاصل کرتا ہے۔ ایک تو وہ براہ راست ذمہ داری سے بچنے کے لیے انہیں استعمال کرتا ہے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ جب انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنٹ فورس کے کمانڈر ڈیوڈ میکمن سے ڈرون حملوں کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کیا جواب دیا ۔ان کا کہنا تھا :’’ یہ ڈرون میری کمانڈ میں نہیں آتے، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، انہیں سی آئی اے دیکھ رہی ہے‘‘۔ دوسرا فائدہ معاشی ہے۔ برطانوی سیکرٹری جیک سٹرا نے یہ تجویز دی تھی کہ جہاں اپنی فوج استعمال کرنا بہت مہنگا ہو وہاں کرائے کے جنگجوؤں یا پرائیویٹ ملٹری کمپنیوں سے کام کروا لیا جائے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری کوفی عنان نے یہ تجویز رد کر دی تھی ۔

یہی نہیں اقوام متحدہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پرائیویٹ جنگجوؤں کو نہ صرف براہ راست جنگ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی ملٹری ڈیوٹی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔ چنانچہ اسی رپورٹ میں بلیک واٹر کو مرسنریز کی ایک نئی قسم قرار دیتے ہوئے ناجائز قرار دے دیا گیا ۔ بلیک واٹر کو تو خود اقوام متحدہ نے ’مرسنری‘ قرار دے رکھا ہے ۔ Jeremy Schahill نے اس پر ایک پوری کتاب لکھ رکھی ہے جس کا عنوان ہے: ’’ بلیک واٹر: دی رائز آف دی ورلڈز موسٹ پاورفل مرسنری آرمی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیک واٹر دائیں بازو کے ری پبلکن نظریات رکھنے والوں کا مسلح گروہ ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ بلیک واٹر امریکی ضابطوں کے تحت کام کرنے والی ایک پرائیویٹ ملٹری کمپنی ہے اس لیے اسے مرسنری نہیں کہا جا سکتا۔ اقوام متحدہ نے یہ موقف رد کر دیا۔

امریکہ کا اپنا Anti Pinkerton Act بھی امریکہ کو پرائیویٹ ملٹری کمپنی کی خدمات حاصل کرنے سے روکتا ہے ۔ ایلس کلین اور سٹیو فینارو کی واشنگٹن پوسٹ میں 2 جون 2007 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عدالت امریکہ کو اس بات سے بھی روک چکی ہے کہ وہ صرف اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے کسی پرائیویٹ ملٹری کمپنی کی خدمات حاصل کرے ۔ جنگ میں جھونکنا تو کجا ، فوجیوں کی حفاظت کے لیے ان پرائیویٹ ملٹری کمپنیوں سے سیکیورٹی گارڈ لینے کی بھی ممانعت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ مولانا محمد جہان یعقوب

لیکن بلیک واٹر نہ صرف افغانستان اور عراق میں لوگوں کے قتل عام میں شریک رہی بلکہ اس نے مشرق وسطی کے تنازعے میں بھی متحرک انداز سے شرکت کی ۔ عراق میں تو بلیک واٹر کے اہلکاروں نے صرف ایک واقعے میں ہجوم پر گولی چلا کر درجنوں نہتے شہریوں کا قتل عام کیا ۔ خدا جانے کتنے ہی واقعات ہوں گے جو کبھی سامنے ہی نہ آ سکے۔ یہ جنگی جرم ہے اور چونکہ امریکی حکومت کی مرضی اور تائید سے ہوتا رہا تو اس کی بنیادی ذمہ داری امریکی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ ہم کمزور ہیں اور امریکہ بہت طاقتور، اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ کسی بین الاقوامی فورم پر ہمارے لیے امریکہ کو جوابدہ بنانا بھی عملا نا ممکن ہے اور حکمت کے تقاضوں کے بھی شاید خلاف ہو ۔ تاہم ریاست کی مجبوری کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا حقائق سے آگہی کا حق بھی ساقط ہو گیا اور ہم غیر حکومتی سطح پر بھی اس پر بات نہیں کر سکتے۔ ہماری حکومتوں کی مجبوریوں سے حقائق نہیں بدل سکتے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی ’’ دی ڈارک ٹروتھ اباؤٹ بلیک واٹر ‘‘ پڑھیے ، لگ پتا جائے گا پرائیویٹ عسکریت کیا ہوتی ہے اور جب یہ امریکی سرپرستی میں ہوتی ہے تو اس کا حجم کتنا خوفناک ہوتا ہے۔

تو کیا یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اینٹی پنکرٹین ایکٹ ، اقوام متحدہ کے قوانین ، مرسنریز کنونشن اور مرسنریز کی ممانعت کے بارے میں موجود جنرل اسمبلی کی سات اور سلامتی کونسل کی پانچ قراردادوں کی روشنی میں امریکہ بدلتے ناموں والی بلیک واٹر اور اس کے ایرک پرنس کے خلاف کب کارروائی کر رہا ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.