خواتین مارچ پر تنقید کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

خواتین مارچ پر ہونے والی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دو تین دنوں میں میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر انہیں بے بھائو کی سنائی گئیں۔ شروع میں تو شدید ردعمل کے پیش نظر لبرل کیمپ سرے سے غائب ہوگیا، پھر شائد ان بیبیوں کے شرم دلانے پر شرماتا، لجاتا، کسمساتا ہوا ایک گروہ دفاع کے لئے میدان میں اترا۔ اپنا کیس مضبوط انداز میں پیش کرنے کے بجائے انہوں نے صرف میل شاونزم کے روایتی الزامات لگانے، مذہبی حلقوں پر طعن وتشنیع کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ایک دلچسپ دلیل البتہ یہ پیش کی گئی کہ اتنا شدید ردعمل دراصل ان لڑکیوں کی کامیابی کے مترادف ہے کہ اتنے سارے لوگوں نے مخالفانہ لکھا۔ یہ عجیب وغریب دلیل سن کر ہر کوئی حیران رہ جائے گا۔ دنیا بھر میں یہ دستور ہے کہ جب کسی اقدام پر بے پناہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے اور کسی خاص حلقے کے بجائے عوام الناس مجموعی طور پر اسے بری طرح رد کر رہے ہوں ، تب اسے ناکامی سمجھتے ہوئے سبق سیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی لبرلز ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں، وجہ یہی کہ انہیں پاکستانی معاشرے کے فیبرکس کا کوئی اندازہ نہیں۔ لوگ کیا سوچتے ہیں، یہ جانے بغیر اپنے مخصوص ایجنڈے پر وہ عمل پیرا ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک فی صد کے قریب بھی حمایت حاصل نہیں ہو پاتی۔ خواتین مارچ میں وہ حلقہ پیش پیش تھا جو پی ٹی ایم کا چورن بیچنے میں بھی آگے ہوتا ہے۔ایک پشتون بلاگر نے انہیں مشورہ دیا کہ براہ کرم ایسا ایک مارچ جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں تو کر و، تب شائد اندازہ ہوگا کہ پاکستانی عوام کیا سوچتے ہیں اور جو لوگ اس دھرتی، یہاں کے باسیوں سے کوسوں دور اشرافیہ کے تخلیق کردہ مصنوعی جزیروں میں رہتے ہیں ، وہ کتنے بے خبر ہیں؟ اپنے پچھلے کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ خواتین مارچ کے حوالے سے مزید معروضات پیش کروں گا۔ تین چارالگ الگ نکات ہیں۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ خواتین مارچ پر تنقید کرنے والے یہ قطعی نہیں کہہ رہے کہ عورتو ں کو مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ نہیں ، بالکل نہیں۔ کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو مسائل کا سامنا نہیں۔اعتراض یہ ہے کہ جو نعرے لگائے گئے اور جن مسائل کا ذکر ہوا، یہ عام عورت، مڈل کلاس عورت اور مجموعی طور پر ہمارے سماج کی خاتون کا مسئلہ نہیں۔ یہ کسی برگر، ممی ڈیڈی کلاس کی بچیوں کی جذباتی پسند ناپسند کا ایشوالبتہ ہوسکتا ہے۔ ویسے تو ان میں سے بھی بیشتر کو کبھی ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

برگر کلاس کی لڑکیوں نے کو ن سا اپنے خاوند کو کھانا گرم کر کے دینا ہے یا پھر وہ غریب چارپائیوں کے نیچے گھس کر موزے ڈھونڈیں گی؟ گھر میں خانسامے اورملازمائوں کے ہوتے ہوئے انہیں اس درد سر کی ضرورت بھی نہیں۔ ممکن ہے ان میں سے کسی کو فیس بک پر کسی بدبخت اخلاق باختہ نوجوان یا بابے کی بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہو، مگر ایک سکینڈ میںوہ بدتمیزوں کو بلاک کر سکتی ہیںاور کر دیتی ہوں گی۔جس کلاس کی لڑکیاں، عورتیں اس مارچ میں شامل ہوئی تھیں، ان میں سے کسی کو ماڈرن لباس پہننے پر طعنہ ملتا ہے، نہ ہی سگریٹ پینے سے کسی نے روکنا ہے اور نہ یہ کہ ایسے فضول انداز میں نہ بیٹھو۔ جب ان کے یہ مسائل ہی نہیں تو پھر خواہ مخواہ پاکستان کی عورت کا جھنڈا اٹھا کر کیوں میدان میں آ گئیں؟ مارچ والی بیبیوں نے تو ا لٹا خواتین کے مسائل، ان کی محرومیوں، کا پورا کیس ہی بگاڑ دیا۔ ہمارا اعتراض یہ تھا کہ یہ سب نہایت مصنوعی ، عامیانہ ، گھٹیا اور بازاری انداز میں کیا گیا۔ ایسی غیر سنجیدگی جو ایشو کی تفہیم کے بجائے پورا تاثر ہی خراب کر دے ۔دوسرا اعتراض یہ کہ جو نعرے لگائے گئے، جس بے مہار آزادی مانگنے کی بات کی گئی ، اس کی ہمارے مذہب، مشرقی اخلاقیات میں قطعی کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

یہ پورا بیانیہ ہی مذہب مخالف بلکہ ایک عام لڑکی کو مذہب، اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف اکسانے والا ہے۔ کچے ذہنوں کو متاثر کرنے کی ایک شرمناک، مذموم کوشش۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، جس کے آئین میں شریعت ہی سپریم لا ہے۔ ہمارے تمام ڈوز، ڈونٹس (Do,s & Dont,s) الہامی دانش یعنی اللہ کی آخری کتاب اور اس کی عملی تعبیر سیرت مصطفیﷺ سے اخذ کردہ ہیں۔ جو نعرے، پلے کارڈ ، ایجنڈا اس خواتین مارچ میں تھا، یہ اس سب کے خلاف اور متضاد تھا۔ اس لئے خواتین مارچ کے شرکا اور ان کے منتظمین پر سخت تنقید ہوئی کہ وہ ہمارے سماج کے بنیادی فیبرکس سے بے خبر ہیں اور اسے درہم برہم کر دینا چاہتے ہیں۔ انہیں خواتین کے بنیادی مسائل تک کا علم نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مغرب کی نقالی میں یہاں سب کچھ تلپٹ ہوجائے ۔ ظاہر ہے یہ سب ایک بہت خوفناک، پریشان کن منظرنامے کی نشاندہی کر رہا تھا، اسی لئے زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا گیا، چھوٹا مظاہر ہ ہونے کے باوجود نظرانداز کر نے کی آپشن بھی نہیں اپنائی گئی۔ جس جس میں اس حوالے سے حساسیت تھی، اس نے سختی سے ری ایکٹ کیا۔ تیسرا اور سب سے اہم اعتراض یہ ہے کہ خواتین کو درپیش اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول نہیں کرائی گئی۔

ان میں سے کچھ کے لیے قوانین موجود نہیں، بعض قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں، چند ایک مسائل ایسے ہیں جن میں ہمارے نظام یعنی ریاستی ڈھانچے نے کوتاہی ،غفلت برتی ہے۔ بعض معاملات سماج کی تربیت سے حل ہونے والے ہیں۔ ان کا تعلق رویوں سے ہے، جن میں تہذیب اور سلجھائوقوانین یا سزائوں سے نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، شعور پیدا کرنے سے آتا ہے۔ ہراسمنٹ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ ہر ملازمت کرنے والی، گھر سے باہر نکلنے والی خاتون کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تلخ ، سفاک حقیقت سے انکارنہیںکہ گھر سے باہر جانے والی عورت کی زندگی ہم مردوںمیں سے بعض نے اجیرن بنا رکھی ہے۔ ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے مسائل، رکشے، ویگن والوں کی بدتمیزی، دفاتر میں ساتھی مرد ملازموں کا رویہ۔ کوئی لڑکی کسی سے مسکرا کر بات کر لے تو سکینڈل بن جائے گا یا پھر وہی حضرت ہی بات کافسانہ بنا دیں گے۔ سینئر سٹاف ، باس کے استحصال ، تنگ کئے جانے کے مسائل اپنی جگہ ہیں۔ ہراسمنٹ کے لئے قوانین بنے ہیں، اچھے کارپوریٹ دفاتر میں ان پر عمل ہوتا ہے ، مگرابھی بے شمار دفاتر ، شعبے ایسے ہیں جہاں انہیں سختی سے نافذ ہونا چاہیے۔ میرے جیسے لوگ اس کی وکالت کرتے ہیں کہ ریاست مدینہ کہلانے والے ہر ملک میں خواتین کو دفاتر، تعلیمی اداروں میں آنے جانے کے اوقات میں ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔ پیک آورز میں صرف خواتین کے لئے یہ بسیں چلائی جائیں تاکہ وہ سکون سے سفر کر سکیں۔ ان پر کتنا خرچ اٹھے گا؟کچھ زیادہ نہیں۔ اسی طرح بعض قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

دیہی معاشرے میں ہزاروں، لاکھوں عورتوں کو آج بھی وارثتی جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ کہیں اموشنل بلیک میل کر کے بہنوں کو بھائیوں کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا جاتا اور بہت سی جگہوں پر بھائی مانگنے پر بھی جائیداد دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہیں ایسا نہ کرنے دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پوری قوت سے ایسے بدبختوں کی سرکوبی کرنی چاہیے۔ جو شخص اپنی بہنوں کو وراثتی جائیداد میں حصہ نہیں دیتا، اس کی اپنی جائیداد ضبط کر لی جائے۔قرآن سے شادی کی قبیح رسم کا تو ہر حال میں خاتمہ ہونا چاہیے۔ ریاست نے بعض معاملات میںغفلت کا مظاہر ہ کیا ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی ہزاروں ، لاکھوں خواتین زچگی کے موقعے پر ناکافی سہولتوں کی وجہ سے شدید بیماریوں اور بعض کیسز میں اموات کا شکار ہوجاتی ہیں۔ چھوٹے ، پسماندہ شہروں اور دیہات میں خاص طور سے حمل کے بعد خواتین کے لئے مناسب دیکھ بھال کے انتظامات موجود نہیں۔ ہسپتال کم ہیں، زچگی کے لئے الگ سے سنٹرز نہیں بنائے گئے، بنیادی معلومات اورضروری ادویات فراہم نہیں کی جاتیں۔ گھروںمیں کام کرنے والی لاکھوں خواتین کاٹیج انڈسٹری کا حصہ ہیں، ان کے لئے کبھی کسی نے نہیں سوچا۔

ان کی محنت کے مناسب پیسے نہیں ملتے، مڈل مین ذلیل وخوار کرتا ہے۔ گھروں میں ہونے والا تشدد بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ خاص کر غریب عورتوں، کام کرنے والی مائیوں کی بڑی تعداد اپنے نشئی، بیکار، جواری خاوندوں سے کما کر لانے کے باوجود مارکھاتی ہے۔ ایسے ادارے موجود نہیں جو انہیں فوری ریلیف دلا سکیں اور ان کے ظالم، بے حس خاوندوں کو سزا دلوا کر عبرت کی مثال قائم کرائیں۔ یہ سب کام ریاست نے کرنے ہیں۔ سماج کی تربیت، اخلاقیات سنوارنے، اسلامی کلچر کی ترویج کا کام ہم سے نہیں ہوا۔ سیرت طیبہ کے روشن ، منور پہلوئوں سے ہمارے مردوں اور ساس، نند، بھابھی کی شکل میں استحصال کرنے والے بنیادی سٹیک ہولڈروں کا ذہن بدلنے کی منظم کوشش کی ہی نہیں گئی۔ اس خاص معاملے میںاہل مذہب، اہل قلم اور میڈیا بھی ذمے دار ہے۔ میڈیا نے کبھی موثر آگہی شارٹ موویز، اشتہارات کے ذریعے یہ کام نہیں کیا۔ نئی نسل کو بگاڑنے اور باغی بنانے کی ذمہ داری البتہ خوش دلی سے قبول کی،مگرمیڈیا کبھی کسی مثبت مہم کا حصہ نہیں بنا۔یہ وہ باتیں ہیں جنہیں کسی بھی قسم کے خواتین مارچ کا حصہ بننا چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.