بھارت میں مسلم تاریخ مسخ کرنے کی سازش - عاصم رسول

تاریخ قوموں و ملتوں کا حافظہ ہوتی ہے۔ اپنی تاریخ سے پہلو تہی برتنے والی قومیں سطح زمین سے حرف غلط کی طرح مٹ جایا کرتی ہیں۔ اور اگر مٹ بھی نہ جائیں تو کم از کم اپنا وزن کھودیتی ہیں اور حاشیہ پر دکھیل دی جاتی ہیں۔ لہٰذا بحیثیت بیدار قوم نہایت اہم ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ کا صحیح شعور حاصل ہو۔ بر س ہا برس سے ملت دشمنوں کی جانب سے منصوبہ بند اور منظم کوششیں کی گئیں کہ تاریخ کی مسخ شدہ صورت بالخصوص مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں راسخ کی جائے۔ افسوس کا مقام ہے کہ تاریخ کے واقعات اور کرداروں کو اس طرح توڑ مروڑ کر اور من گھڑت انداز میںپیش کیا جاتا رہا اور ملت کے نوجوانوں کے ذہنوں کو متحوش کیا گیا کہ کذب بیانی ہی خدا کے فرمودہ سچ کی طرح تسلیم کی جانے لگی اور ان لوگوں کوہی موردِ الزام ٹھہرایا جانے لگا جو حقیقت اور افسانہ اور جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرقہ پرست، مفاد پرست آج تک برابر تاریخ کو توڑ مروڑ نے اور غلط رنگ دینے میں مشغول ہیں۔ بقول اقبالؔ
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

تاریخ کا تھوڑا سا جائزہ لیں تو ہندوستان کی تاریخ نامکمل ہوگی جب تک ٹیپو سلطان شہید کا نام ماتھے پر جھومر کی طرح نہیں لکھا جائے گا۔ ٹیپو سلطان شہید کی زندگی کا یہ رخ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ انسانیت دوست بادشاہ تھے۔ اپنے دور میں عدل و انصاف کو قائم کیا، مسلمان تو کجا غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کیا۔ دین و سیاست کا حسین امتزاج ان کی زندگی میں ملتا ہے لیکن اس عدل پرور حکمران کے متعلق بھی کس طرح نوخیز نسل کے اذہان کو مسموم کرنے کی عرصہ دراز سے مہم چلائی گئی اور تاریخ کو مسخ کرکے کس طرح کی فضا بنائی گئی۔ اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے تاکہ بات واضح ہوجائے۔ اڑیسہ کے سابق گورنر مسٹر بی این پانڈے اپنے لکچر ’’اسلام اور ہندوستانی کلچر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’جب میں الہ آباد میں ۱۹۲۸ء میں ٹیپو سلطان کے بارے میں تحقیق کر رہا تھا تو انگلو بنگالی کالج کی طلبہ یونین کے کچھ عہدیدار میرے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ میں ان کی ہسٹری ایسوسی ایشن کا افتتاح کر دوں۔ یہ طلبہ کالج سے براہ راست آئے تھے اور ان کے ہاتھوں میں ان کی نصابی کتابیں بھی تھیں، اتفاقاً میں نے تاریخ سے متعلق نصابی کتاب پر ایک نظر ڈالی اور ٹیپو سلطان سے متعلق باب کھولا تو مجھے یہ انتہائی حیرت ناک جملہ ملا: ’’تین ہزار برہمنوں نے اس لیے خودکشی کرلی کہ ٹیپو انہیں زبردستی مسلمان بنانا چاہتا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   گنگو تیلی سے مودی تیلی تک - راجہ احسان

اس نصابی کتاب کے مصنف مہامہو پادھیائے ڈاکٹر ہر پرشاد شاستری صدر شعبہ سنسکرت کلکتہ یونیورسٹی تھے۔ میں نے فوراً ہی ڈاکٹر شاستری کو لکھا کہ اس اطلاع کا ذریعہ و بنیاد کیا ہے؟ کئی یاد دہانیوں کے بعد یہ جواب ملا کہ انہوں نے یہ واقعہ میسور گزیٹیر سے لیا ہے۔ میسور گزیٹیر نہ الہ آباد میں تھا نہ امپریل لائبریری کلکتہ میں، تب میں نے میسور یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر سر بجندرا ناتھ سیل کو خط لکھ کر ڈاکٹر شاستری کے بیان کی تصدیق چاہی۔ انہوں نے میرا خط پروفیسر سری کانتیا کے پاس بھیج دیا جو میسور گزیٹیر کا نیا اڈیشن مرتب کر رہے تھے۔ پروفیسر سری کانتیا نے مجھے لکھا کہ تین ہزار برہمنوں کی خودکشی کا واقعہ میسور گزیٹیر میں کہیں نہیں ہے اور وہ خود میسور کی تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ٹیپو سلطان کے وزیر اعظم ایک برہمن پورنیا تھے اور ان کے سپہ سالار بھی ایک برہمن کرشارائو تھے۔ انہوں نے ایسے ۱۵۶ مندروں کی فہرست بھیجی جنہیں ٹیپو سلطان سالانہ امداد دیا کرتے تھے۔ انہوں نے تیس خطوط کی فوٹو کاپیاں بھی بھیجیں جو ٹیپو سلطان نے سرینگری مٹھ کے جگت گرو شنکر آچاریہ کو لکھے تھے جن سے سلطان کے بڑے دوستانہ تعلقات تھے۔ میسور کے حکم رانوں کی روایت کے مطابق ٹیپو سلطان روزانہ ناشتہ سے پہلے رنگا ناتھ جی کے مندر میں بھی جاتے تھے جو سری رنگا پٹنم کے قلعہ میں تھا۔ پروفیسر سری کانتیا کے خیال میں ڈاکٹر شاستری نے یہ واقعہ کرنل مائلس کی نام نہاد کتاب ’’تاریخ میسور‘‘ سے لیا ہوگا۔ اس مصنف کا دعویٰ تھا کہ اس نے ٹیپو سلطان کی تاریخ ایک فارسی مخطوطہ سے ترجمہ کی ہے جو ملکہ ٔ وکٹوریہ کی ذاتی لائبریری میں تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملکہ کی لائبریری میں ایسا کوئی مخطوطہ ہے ہی نہیں اور کرنل مائلس کی کتاب کے بیشتر واقعات غلط اور من گھڑت ہیں۔ ڈاکٹر شاستری کی کتاب بنگال، آسام، بہار، اڑیسہ، یوپی، مدھیہ پردیش اور راجستان کے نصاب کے لیے منظور شدہ تھی۔ میں نے کلکتہ یونی ورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر سر آشو توش چودھری کو ساری خط و کتابت کی نقل بھیجی اور ا ن سے درخواست کی کہ مذکورہ نصابی کتاب کی اس عبارت کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے، سر آشو توش کا جلد ہی جواب آیا کہ ڈاکٹر شاستری کی مذکورہ کتاب کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ خودکشی کا وہی واقعہ ۱۹۷۲ء میں بھی یوپی میں جونئیر ہائی اسکول کی کلاسوں میں تاریخ کے نصاب کی کتابوں میں اسی طرح موجود تھا۔‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیل ہوتے موسم اور پاکستان - احمد علی قریشی

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرکے دراصل ایک خاص ذہن بنانے کی مذموم کوشش ہر دور میں متعصب لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ اس کے لیے مختلف ذرائع و وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں مثلاً فلموں، ڈراموں ، افسانوں اور سب سے زیادہ نصابی کتب کو اس سازش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور نوجوان نسل کو زہر آلود کرکے اپنے سیاسی شیش محل تعمیر کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان میںبالی وڈ نے ایک فلم ’’پدماوت‘‘ رلیز کی جس میں اسی طرح کی بے پر کی اڑا نے کی کوشش کی گئی ۔ اورعلاء الدین خلجی کو ایک جھوٹ موٹ ظالم و جابر حکم ران کے طور پر پیش کیا گیا جو قلعہ چتوڑ پر حملہ صرف راجہ رتن سین کی دوسری بیوی پدماوتی کو زبردستی پانے کے لئے کرتا ہے۔ حالاں کہ معتبر تاریخ اس مفروضے کو غلط ثابت کرتی ہے اور امیر خسرو اور ضیاء الدین برنی وغیر ہ جو علاء الدین خلجی کے مخالف تھے حملے کی وجہ وہاں سے مسلسل بغاوتوں کو گردانتے ہیں جن کے فروع کے لئے علاء الدین خلجی نے قلعہ چتوڑ پر حملہ کیا۔ لیکن اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور تاریخ کو زعفرانی رنگ میں پیش کرنے کے لئے قطبین کو جوڑنے کی نامشکور کوشش کی گئی۔

تاریخِ کشمیر کا بھی یہ المیہ رہا ہے کہ ہم زیادہ تر دوسروں کی لکھی تاریخ پر منحصر رہے۔قدرتی بات ہے کہ وہ ہمارے درد و کرب کی ترجمانی کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس پر مستزاد کہ اہم مواقع اور مراحل کے بارے میں ایک عمومی کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ عام قاری کے لیے ان تواریخ سے درست نتائج فکر نکالنا بہت مشکل بن جاتا ہے۔ اس ٹرینڈ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور مقام شکر ہے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اس جانب توجہ دینے لگے ہیں اور وہ اپنی داستان غم اپنی زبانی اقوام عالم تک پہنچانے کا تہہ کرچکے ہیں ۔ لہٰذا جس طرح ایک مدت تک تاریخ کے مختلف ادوار کے واقعات کو توڑ مروڑ کے پیش کرکے خسیس مفادات کی خاطر تاریخ کو تختہ مشق بنایا جاتا رہا ، جس کی مثال سطور بالا میں دی جاچکی ،اس کو دہرانے کا موقع کسی کو نہیں دیا جانا چاہئے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ تعلیم نظام کے ذریعے جس طرح سے رطب و یابس کو نوخیز نسلوں کے ذہنوں میں انڈیلا جارہا ہے اس کی بھی تطہیر کی کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔