’جب قبر نے مجھے پکارا‘ - عبدالباسط ذوالفقار

کھودی ہوئی ’’قبر‘‘ مجھے آواز دے رہی تھی۔ میں کان لپیٹ کر گزر چکا تھا۔جب ایک آواز نے پیچھا کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے لگا جیسے وہ مجھے بلا رہی ہو۔ عشاء کا وقت تھا۔ میں قبرستان سے گزرتا ہوا خدا تعالیٰ کے منادی کی آواز پر حاضری دینے اس کے گھر جا رہا تھا۔ ہلکی بارش کے خاموش قطرے سخت زمین میں جذب ہو رہے تھے۔ فضا ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ میں نے ٹھنڈ سے بچاؤ کے لیے بڑی سی سفید چادر اوڑھ رکھی تھی۔ قبرستان میں تیار کی گئی قبر کے قریب سے گزرا تو وہ مجھے بلانے لگی۔ مجھے خیال گزرا تھا ممکن ہے ’’قبر‘‘ مخمصے کا شکار ہو۔ اسے یاد نہ رہا ہو کہ یہ مردہ نہیں زندہ ہے۔ شاید وہ مجھے مردہ سمجھ رہی ہو، یا ممکن ہے جس کے لیے قبر کھودی گئی وہ میرا ہمشکل ہو۔ یا کیا پتا وہ میری سفید چادر کو کفن سمجھ رہی ہو۔ میں نے ایک بار پھر ڈرتے ہوئے مڑ کر دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔جسم میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ میں ڈرتے ہوئے لمبے ڈگ بھرتا اس کی آواز کو نظر انداز کرتے گزر گیا تھا۔

درخت کی اوٹ میں ہو کر میں نے اپنی سانسیں بحال کیں۔ اس لمحے مجھے لگا جیسے قبر کسی سے بات کر رہی ہو۔ میں نے چپکے سے دیکھا تو مجھے دھچکا لگا۔ وہ اس وقت ملک الموت سے مخاطب اور اس بات پر مصر تھی کہ ’’لے آئو اسے‘‘۔ مگر ملک الموت نے اپنا دفتر سامنے کیا، صفحے پلٹے اور کہا: ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ ابھی اس کی ڈور نہیں کھینچی گئی۔ ابھی میرے ہاتھ نہیں کھلے کہ میں اس کی روح کو دبوچ لوں۔ ابھی اس کی روح کو حکم نہیں کہ قفس عنصری سے پرواز کر جائے۔ لیکن قبر بضد تھی، اسے ’’میں ‘‘چاہیے تھا۔ میں نے درخت کی اوٹ سے نکلتے ہوئے فوراً اپنی چادر اتاری اور کندھے پر ڈال دی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ قبر کو یقین ہو جائے میں نے کفن نہیں پہن رکھا۔ ہاں کفن نما سی چادر ضرور ہے۔ ٹھنڈ کا احساس اڑ چکا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے موٹے قطرے نمودار ہو چکے تھے، کچھ کمر پر سے نیچے کو لڑھک رہے تھے۔ قبر کا لگایا آوازہ اب بھی گھونج رہا تھا۔ میں سوچنے لگا:’’ قبر تو انسان کو روز پکارتی ہے‘‘۔ مگر اس پکار کو ہم سن نہیں سکتے۔ اگر سن بھی لیتے تو کیا ہو جاتا؟

میں نماز کے بعد واپسی کے لیے قدم اٹھا رہا تھا جب خیال گزرا؛ راستا بدل دوں۔ ڈر عصاب پر سوار تھا۔ ایسا نہ ہو قبر مجھے مردہ سمجھ کر دبوچ لے۔ اپنی بھوک مجھ سے مٹا لے۔ اپنا پیٹ بھر لے۔ دوسرے لمحے خود کو تسلی دی اور خود کو اسی شہر خموشاں سے گزرنے پر آمادہ کر لیا۔ خود کو مخاطب کر کے کہا: دیکھ! ملک الموت تیری صفائی دے چکے۔ تیرے بارے بتا چکے کہ اس کا وقتِ مقرر ابھی نہیں آیا۔ ابھی اس کا پتا ’’شجر حیات‘‘ سے نہیں گرا، پتا کاٹنے کا حکم نہیں ملا۔ خیر! میں ڈرتے ہوئے چل پڑا، آہستہ قدموں وہاں سے گزرنے لگا تو دوبارہ سے قبر میری طرف بڑھی، مجھے بلانے لگی۔ اپنے خالی پیٹ پر ہاتھ ملتے ہوئے مجھے آوازیں دینے لگی۔ قریب تھا کہ وہ مجھے کھینچ لیتی۔ شاید وہ مجھے اب بھی مردہ سمجھ رہی تھی۔’’ اب تو میں نے کفن نما چادر بھی اتار چھوڑی‘‘۔ میں نے سوچا تھا۔ پھر میں نے خود کو ٹٹولا۔ میں مردہ تو نہیں؟ ایسے میں آواز آئی ’’میں تنہائی، اجنبیت، دہشت، وحشت اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، مجھے صرف زمین میں کھودا ہوا ایک گڑھا نہ سمجھو۔ میں جہنم کا گڑھا یا جنت کی کیاری ہوں، تمہارے اعمال تمہارے لئے مجھے جہنم کا گڑھا بنائیں گے یا جنت کی کیاری میں تبدیل کریں گے۔‘‘ یہ قبر کی آواز تھی۔ جو زبان حال سے روزانہ پکارتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی ایک لمحہ فکریہ - بشارت حمید

اس وقت بھی اس نے کہا تھا۔ ’’پھِر،اور دوڑتا رہ ؛ تو میری کمر پر، قریب ہے کہ موت اچک کر تمہیں میرے پاس لے آئے ‘‘۔اس وقت ’’مَیں‘‘کا احساس ابھرا تھا۔ میں مروں گا؟ نہیں ؛ہرگز نہیں۔ میں تو ہمیشہ یہیں رہوں گا۔ ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے/ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔ اس وقت میں بھول گیا تھا کہ دنیا کی زندگی تو فقط دھوکے کا جنس ہے۔ میں غفلت کی چادر اوڑھے سوچ رہا تھا۔ ’’ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش)حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ تم قبرستان میں پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز ایسا نہیں (مال و دولت تمہارے کام نہیں آئیں گے)! تمہیں عنقریب سب پتا چل جائے گا‘‘۔ یہ قرآن کی آواز تھی۔ میں نے ندامت کے دو گھونٹ بھرے اور سوچنے لگا۔ یقیناً میں مردہ ہی ہوں یا مردوں سے بھی پرے۔ کیا مجھے صاف الفاظ میں نہیں بتا دیا گیا کہ ایک روز آنے والا ہے جس دن رب کے حضور تمہیں پیش ہونا ہے۔ سزا و جزا کا عمل اسی روز ہو گا۔ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

دماغ کی خالی سلیٹ پر ابھرا تھا۔ کیا قبر کی پکار کو میں سنتا ہوں؟ کیا خدا تعالیٰ کے احکامات، اس کے نبی کے فرامین میری سماعتوں پر اثر ڈالتے ہیں؟ میں مردہ ہی تو ہوں۔ کیا میں نہیں جانتا کہ موت کا کڑوا پیالا میں نے پینا ہے۔ ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔ کیا اس موت کا سامنا کرنے کے لیے میں تیار ہوں؟ ایک سفر درپیش ہے، ایک امتحان؛ جس کی تیاری کرنی ہے۔ کیا میں دنیا کے سفر کی طرح اخروی سفر کے لیے زادِ راہ تیار کر رہا ہوں؟ کیا میرے اعمال میں قابل ذکر کوئی شئے ہے جو میں خالق ذوالجلال کے سامنے پیش کر سکوں؟ کیاروزِ محشر نبی کریم ﷺکا سامنا کر سکتا ہوں؟ کیا اس بات کا احساس ہے کہ’’ مجھے‘‘ کس نے اور کیوں پیدا کیا؟ میں مردہ ہی تو ہوں۔ زندہ ہوتا تو مجھے احساس ہوتا، مجھے فکر ہوتی، میں تیاری کرتا۔ جب یہ سب نہیں کر رہا تو سمجھ لینا چاہیے کہ مردہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   بدلو سوچ بدلو زندگی - ناصر محمود بیگ

خیالات کا دریا تھا جو بہتے چلا جا رہا تھا۔ میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ میں شہر خموشاں سے دور نکل آیا تھا۔ میں نے سُکھ کا سانس لیا کہ’’ قبر‘‘ سے جان بچا آیا۔ میری جان میں جان آئی۔ ’’میں بچ گیاتھا‘‘ مجھے مبارک دیجیے۔ ایک دن مزید مل گیا۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ میں آپ کو ڈرا رہا ہوں۔ ہرگز نہیں۔ میں تو خود ڈرا ہوا ہوں۔ یہ تو شیخی بگھار رہا ہوں۔ نہ جانے کب اعلان ہو جائے عبدالباسط ’’لقمہِ اجل‘‘ بن گیا۔ اس کے بعد آپ بھی خوف زدہ ہوں گے۔ لیکن اطمینان رکھیے یہ خوف اور ڈر کا سایہ دو دن میں اتر جائے گا۔ خوف کا سایہ تب تک، جب تک دماغ کی تختی پر اس حادثے کا اثر ہوتا ہے۔ موت تو اب بس روٹین کا حصہ ہے۔ جنازے میں شرکت کرتے ہیں شدت سے موت یاد آتی ہے۔

عہد کرتے ہیں بس اب غفلت ختم، اب خدا سے لو لگانی ہے۔ لیکن قبرستان سے باہر قدم رکھتے ہی لو لگانے کا دیا بجھ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہی غفلت والی زندگی ہوتی ہے۔ حرص و ہوس ، حسد و کینہ، بغض و عناد، دشمنی و عداوت۔ مال میں بھرپور ملاوٹ کرتے ہیں۔ معاملات میں ڈنڈی مارتے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ سے دولت کے انبار جمع کرتے ہیں۔ حق چھینتے، ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ موت کا خوف تو چند لمحوں کا ہوتا ہے۔ میں پہلے بھی کئی بار ڈرا۔ تب بھی ڈرا تھا جب میرے ہم عمر دوست موت کا نوالہ بنے۔ تب بھی جب محلے کا جوان سال لڑکا کھیلتے ہوئے گر پڑا اورموت کے منہ میں چلا گیا۔ جب اس کے دادا روتے ہوئے کہہ رہے تھے نمبر تو میرا تھا یہ کاہے چلا ؟ اور اب پھر جب محلے میں فوتگی ہوئی؛ جواں سال لڑکی موت کا پیالا پی کر راہ ملک عدم ہوئیں۔

مان لینا چاہیے’’ موت‘‘ اٹل حقیقت ہے۔ جس سے ہم بھاگتے پھرتے ہیں یہ آکر رہے گی۔ غنیمت سمجھیے مجھے اور آپ کو ’’آج‘‘ مل گیا۔ ’’کل‘‘ کس کو ملے گا معلوم نہیں؟ ٹکٹ کٹ چکے،روانگی کب ہے کوئی نہیں جانتا۔ انتظار کیجیے پہلے آپ یا میں؛ خبر نہیں۔

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.