پاکستانی تہذیب و ثقافت کے فروغ کی ضرورت - محمد ریاض علیمی

ثقافت کسی بھی معاشرے میں موجود ان رسوم و رواج اور اقدار کے مجموعے کو کہاجاتاہے جن پر اس کے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں۔قوموں کی پہچان ثقافت سے ہوتی ہے۔ہر قوم کی الگ ثقافت ہوتی ہے اور ہر قوم میں اپنی ثقافت کو رائج کرنے اور اسے پروان چڑھانے کا طریقہ مختلف رہا ہے۔ قو م اور معاشرے کی ثقافت اور اقدار کوفروغ دینے کے لیے فلم کو ایک اہم ذریعہ قرار دیاجاتا ہے۔ اسی لیے گذشتہ دو تین دہائیوں سے تیزی کے ساتھ مغربی تہذیب اور ثقافت کے ساتھ ساتھ انڈین کلچر کو فلموں اور ڈراموں کے ذریعے پاکستانیوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب غیر مسلم اپنا کوئی کلچر یا فیشن مردو خواتین میں رائج کرنا چاہتے ہیں تو بآسانی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے منتقل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ چاہے وہ اخلاقیات کے دائرے میں آتا ہویا نہ آتا ہو۔ اگر ایک قوم اپنے افکارو نظریات اور اعتقادات کو بھلا بیٹھے تو دوسروں کے افکار و نظریات اس قوم پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ پاکستانیوں نے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر جدیدیت کے نام پر یورپی ثقافت اور ان کے رہن سہن اور طور طریقوں کو گلے لگایا اور اپنی پہچان کو بھلادیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم ذہنی طور پر یورپ کی مکمل غلام بن چکی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسی قوم تیا رکی جارہی ہے جو آنے والے وقتوں میں علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہوگی۔ چہ جائیکہ ان کی خدمات کا اعتراف کریں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں یورپی افکار و نظریات کی عکاسی نظر آتی ہے۔ مڈل کلاسوں میں جہاں بچوں کو تہذیب اور اخلاقیات کا درس دینا چاہیے وہاں جنسی تعلیم کی بات کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اساتذہ کی عزت وتکریم کا درس دینے کے بجائے انہیں ملازم باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ شرم وحیا کی تعلیم دینے کے بجائے بے حیائی عام کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستانی قوم کو جدیدیت کے نام پر ذہنی مرتد بنایا جارہا ہے۔ ہماری قوم ذہنی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ہم اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ ہم دوسروں کے اشاروں پر چلنے والے ہوگئے ہیں۔ ہماری فکرو تدبر کی صلاحیت چھین لی گئی ہے۔ ہمارے اندر قیادت کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ ہماری سوچوں پرمغربیت کا غلبہ ہے۔

یہ سب اسلامی اقدار اور ثقافت کو خیرباد کہنے کا نتیجہ ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اپنی پہچان قائم رکھی ، اپنے اسلامی افکار و نظریات پر ڈٹے رہے اور اسلامی ثقافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا تو پوری دنیا پر ان کی حکومت رہی اور دنیا کے کونے کونے میں ان کی علمیت کا ڈنکا بجتا رہا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب یورپ کو قلم و قرطاس کی معرفت بھی نہیں تھی۔ مسلمان علم کے ہر شعبے میں تصنیف وتالیف، تحقیق و تنقید میں مصروف تھے۔ آج بھی یورپ کی لائبریریوں میں مسلمانوں کا علمی سرمایہ موجود ہے جس سے استفادہ کرنے کے لیے باقاعدہ خصوصی ٹیمیں بنائی گئی ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ یہ سب کچھ ہماراتھالیکن ہم نے اس کی قدر نہیں کی اور اسلاف کی علمی میراث کو پلیٹ میں رکھ کر یورپ کے حوالے کردیا۔ آج یورپ اسی سے استفادہ کرکے پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے اور ہمیں اپنی ثقافت اور روایات میں ڈھالنے کی پر زور کوششیں کررہا ہے۔ پاکستانی ثقافت تقریباً دفن ہوچکی ہے۔ حکومتی سطح پر اسلامی اور پاکستانی ثقافت کے احیاء کا تصور بھی ناممکن ہے کیونکہ نئی حکومت زیادہ سے زیادہ سینما گھر بناکر فلموں اور ڈراموں کے ذریعے ثقافت اور اقدار کو فروغ دینے کے در پے ہے ۔اور یہ بات تو واضح ہے کہ فلموں اور ڈراموں کے ذریعے منتقل ہونے والی ثقافت اسلامی یا پاکستانی ہر گز نہیں ہوسکتی۔ یقینی طور پر حکومت کی ترجیحات میں مسلم معاشرے کو بے راہ روی کے راستے پر گامزن کرنا ہے ۔ پاکستان میں مکمل طور پر مغربی او ر انڈین ثقافت کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ فلموں کے ذریعے بے حیائی اور ڈراموں کے ذریعے روشن خیالی اور بداخلاقی کا سبق دیا جارہا ہے۔ ڈراموں میں ماں بیٹی کی آپس میں نفرتیں، بیوی کا شوہر سے بدتمیزی کا انداز اور شوہر کا بیوی کو مارنے کی کیفیت ، ساس بہو کے جھگڑے اور دشنام طرازی، ماں باپ کی بے توقیری ، قریبی رشتہ داروں سے غیر مناسب رویے ، باپ بیٹے کی لڑائی اور اس طرح کی دیگر بداخلاقیاں خصوصی طور پر دکھائی جاتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب دکھانے کا جواز یہ پیش کیاجاتا ہے کہ ڈراموں میں کوئی نئی چیز نہیں بلکہ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ کتنے ہی گھر صرف ان ڈراموں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں جن میں میاں بیوی اور ساس بہو کے جھگڑے دکھائے جاتے ہیں۔ اگر واقعتاً چند گھروں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوں بھی تو ان کو ڈرامائی انداز میں پیش کرکے پوری قوم کو دکھانے کی کیا ضرورت پڑی ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر چند گھر وں میں ایسے مسائل ہوں تو ڈرامائی انداز میں ان مسائل کا حل پیش کیاجائے تاکہ لوگ اس سے متاثر ہوکر اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بناسکیں اور سکون کی زندگی بسر کرسکیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ڈرامے میں خوشگوار ماحول میں صرف گرل اور بوائے فرینڈ کو دکھایاجاتا ہے۔ ان کی منظرکشی ،بات چیت کا ڈھنگ ، پارکوں میں گھومنا، چھپ چھپ کر ملنا وغیرہ یہ سب کچھ بڑے خوشگوار اندازمیں دکھایا جاتا ہے۔ جب ان کی آپس میں شادی ہوجاتی ہے تو پھر وہی لڑائی جھگڑے کے مناظر سامنے آنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ ڈراموں کے ذریعے شادی کے بجائے فرینڈشپ کلچر عام کرنے کا سبق دیاجارہا ہے اور اسی کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔ اگر انہی ڈراموں کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان ہونے والی معمولی معمولی باتوں کونظر انداز کرنا سکھادیا جائے تو یقینی طور پر کتنے ہی اجڑتے گھر دوبارہ بسائے جاسکتے ہیں۔ اگر دورِ حاضر میں ثقافت اور اقدارکے فروغ کا مؤثر ترین ذریعہ فلمیں اور ڈرامے ہی ہیں توان کا مثبت استعمال کیاجائے تاکہ پاکستانی قوم سکون و عافیت کی زندگی گزار سکے ۔ انڈین ڈراموں اور پاکستان میں بننے والے ڈراموں نے گھر کاسکون اور بچوں کی اخلاقیات کوبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی مسلمان ہندوؤں کی ثقافت میں ڈھلے جارہے تھے اور ان کے طور طریقے کے مطابق زندگی گزار رہے تھے ۔ اسی لیے قیام پاکستان کے مقاصد میں یہ مقصد بھی شامل تھا کہ اسلامی اقدار و روایات کو فروغ دیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد صرف ایک خواب ہی رہا اور شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ پاکستانی ثقافت دراصل اسلامی ثقافت کی عکاسی ہے۔ پاکستانی ثقافت کا اپنا خصوصی مزاج ہے جو اسے دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی انفرادی شناخت اور پہچان ہے۔پاکستانی ثقافت کا فروغ یقینی طور پر انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی ثقافت کا دوبارہ احیاء فلموں اور ڈراموں کے ذریعے نہیں بلکہ گھریلو تربیت سے ہوگا۔ جب تک والدین گھروں میں اپنے بچوں کو اخلاقیات اور شرم و حیا کا درس نہیں دیں گے اور انہیں برائیوں سے دور رہنے کی تلقین نہیں کریں گے تو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔