بے سمت مسافر - نصیر احمد ناصر

محترمہ بانو قدسیہ ایک جگہ تحریر کرتی ہیں’’عشق عارضی اورجذباتی کیفیت کا نام ہے جو وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن محبت مستقل اور پائیدار عمل کا نام ہے جس کی خوبصورت مثال ماں کی بچے سے محبت ہے جو زندگی کے کسی بھی موڑ پر تغیر پذیر نہیں ہوتی ‘‘،اس قول کے حوالے کی ضرورت یو ں پیش آئی کہ اپنے روز وشب کے معمولات زندگی میں مسلسل اللہ پاک اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و فرامین سے بغاوت پر ہر لمحہ آمادہ وکاربندہم لوگوں کی طرف سے نبیِٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا پُرجوش جشن منانے کا سلسلہ جاری ہے ،مختلف مسالک کے ا فراد حبیب ِ کبریا خاتم النبیین وخاتم المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ’’زبانی دعوائے عشق‘‘ سے سرشار اپنے اپنے انداز میں’’محدودمدت ‘‘کیلئے عشقِ رسالت کا مظاہرہ کررہے ہیں،اورربیع الاول کے مخصوص ایام گذرتے ہی ہم پھر سے اپنی پرانی روش پر لوٹ جانے میں ہی عافیت سمجھیں گے ،جیسا کہ عشرہ محرم کے دس روز شہداء کربلا کی عظیم قربانی کے تذکرے کر کے اس قربانی کے فلسفہ ومقصد کو دل ودماغ سے نکال کر ہم باقی کا پورا سال اپنی مرضی کے مطابق بسر کرتے رہتے ہیں،حالانکہ ہمیں ہر روز جھنجھوڑ نے اور جگانے کیلئے قدرت کی طرف سے قرآن کے بیان کردہ اصول کے تحت ’’تنبیہی پیغامات‘‘ بھجوائے جا رہے ہیں،مگر ہم ہیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کو تیار ہی نہیں ہورہے،

آج سے ساڑھے پندرہ سو سال پہلے عرب کی دھرتی پر نفرت وتعصب ،لوٹ کھسوٹ،جنگ وجدل اور انسانوں کی بے توقیری کے نظارے عام تھے ، معمولی معمولی اختلافات پر قبائلی عصبیت کے ہاتھوں سال ہا سال انسانی خون سے انتقام کی پیاس بجھائی جارہی تھی ۔زندہ بچیا ں زمین کی تہوں میں اتاری جارہی تھیں،عورت کا مقام جانوروں سے بھی بدتر تھا،انسانوں کو غلام بنا کر ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا تھا،اور وحشت ودرندگی کا یہ عالم تھا کہ جانوروں کا خون پی لینا رواج بن چکا تھا، اقدار واخلاقیات نام کی کسی جنس سے کوئی واقف تھا نہ آگاہ،بلکہ ایسی ’’فضولیات‘‘ کا تذکرہ تک بھی کسی محفل میں ممکن نہ تھا ،غرض ہر برائی اور جرم اس معاشرے کا لازمی جزو بنا دیا گیا تھا، مگر کیا ہوا ؟ کہ جب بطحا کی وادی سے نور کا پیغام اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ ظاہر ہوا ،تو وہی قوم جو اپنی وحشیانہ جبلّت اور متعصبانہ روش کے باعث پوری دنیا کے انسانوں سے الگ تھلگ زندگی گذاررہی تھی ، اور جن پر کوئی حکومت کرنا بھی مناسب نہ سمجھتا تھا،اچانک ایسے تبدیل ہوئی کہ پوری دنیا ان کے اخلاق و کردار کی روشنی میں فلاح اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوچلی ،کل کے جانی دشمن ایک دوسرے پر جان قربان کرنے والے بن گئے ،اپنی ضرریات کو بھول کر پڑوسیوں کی ضروریات کا خیال رکھا جانے لگا،جانوروں سے بدتر زندگی گذارنے پر مجبور خواتین کو عزت وتوقیرحاصل ہوئی،

غلامی کے خوفناک تصور کا خاتمہ ہوا،لوٹ مار کے رسیا معاشرہ میںامن وانصاف کا دور دورہ ہوا،مکہ و مدینہ کی مقدس فضاؤں سے ابھرنے والے تاریخ عالم کے اس منفرد انقلاب کی بدولت وہ قوم وجود میں آئی،جو دنوں میں دنیا بھر کے مظلوم و مجبور انسانوں کی امیدوں کا مرکز قرار پائی ،اور ظالم و قاہر حکمرانوں کے تخت الٹے جانے لگے ،اور اس قوم کے ہاتھوں صنعت و حرفت ،سائنس و ٹیکنالوجی ،طب و جر ا حت ،حرب وضرب ،معیشت و معاشرت اورحکومت و سیاست کے ایسے ایسے نادر اصول وعلوم وضع ہوئے جو پوری دنیا کے ہر مہذب ملک اور قوم کے تہذیبی ارتقاء اور بقا کے ضامن بنے ،اورآج تک بھی دنیا کے متعدد ممالک ان سے استفادہ کررہے ہیں، یہ سب کیوں کر ممکن ہو سکا ؟صرف اس وجہ سے کہ ظلمت وگمراہی کے اندھیروں میں سرتاپا ڈوبے انسان جس بے بسی اورمحرومی سے دوچار تھے ،اس محرومی اور بے چارگی کے خاتمے کیلئے نبیٔ ِرحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا مکمل اور منظم ضابطہ اخلاق پیش کیا، جس نے انسانوں کی انسانوں پر بالادستی کو ختم کرکے الٰہ العالمین کے قوانین کی تابع فرمانی کو ریاست وحکومت کی بنیاد بنایا، جس نے رنگ و نسل اور خاندانی مراتب کی بجائے ہر انسان کو برابری کی بنیاد پر علم ورزق ، انصاف وتحفظ اورمعاشی ومعاشرتی مقام کے حصول کا حق عطا کیا،اسی نظام کی بدولت انسان کی فوقیت کا معیارعلم وتقوٰی ٹھہرا،اور جائز و ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت وثروت ، ظلم ووحشت قصہ پارینہ بنی ،

معاشرے میں کوئی فرد نسل ،عقیدہ،زبان ،رنگ یا غربت وامارت کی وجہ سے کسی امتیازی سلوک کا مستحق نہ ٹھہرایا گیا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ طیبہ سے جنم لینے والی اس انوکھی ریاست کی حدود دن بدن پھیلتی چلی گئی ،اور اس وقت کی تمام ’’سپر پاورز‘‘اسلامی حکومت کے پاؤں کی خاک چاٹتی نظر آئیں ، لیکن پھر کیا ہوا؟ دنیا بھر کی ان تمام اقوام نے، جن سے اقتدار چھن چکے تھے ،مُلکوں پر جن کا تسلط ختم کردیا گیا تھا ،اور اپنے ہی مذہب و نسل کے افراد جن کی چیرہ دستیوں اور بے انصافیوں سے بغاوت کرکے اسلامی حکومتوں کے حامی اور معاون بن چکے تھے ، ان سب نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی سربلندی کے اسباب پر غور وفکر شروع کیا ،اس بڑھتے ہوئے طوفان کی راہ روکنے کیلئے سنجیدہ و جہاندیدہ افراد پر مشتمل تھنک ٹینک وجود میں آئے ،اور اپنی پستی وذلت کے تمام تر اسباب وعلل کو تسلیم کرکے ان کے خاتمہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ،اورطے کردہ حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کو اپنے نظریاتی اثاثے سے بد ظن اور دور کرنے کیلئے طویل المدتی منصوبے بروئے کار لائے جانے لگے ،مسلمانوں کے اندر نسلی ،علاقائی ،گروہی تعصبات ،لالچ ،حرص،بے حیائی اور عیاشی ،دولت واقتدارکی محبت کو فروغ دیا گیا،اسلامی نظریات کی بنیادی اساس سے دوری پیدا کرنے کیلئے نئے عقائد گھڑکر انہیں مسلمانوں میں پھیلانے کیلئے اپنے پروردہ افرادکو مسلمانوںکی صفوں میں داخل کیا گیا .

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علمی ،سیاسی اورمعاشی اعتبار سے روز افزو ں ترقی کی معراج کی طرف گامزن مسلمان قوم حرص وہوس اور تعصبات کا شکار ہو کر آپسی تنازعات میں ایسی اُلجھی ،کہ ہر آنے والے دن نے اس قوم سے تمام تراعزازات چھین کر انہیں ذلت وپستی اور شکست ورسوائی کی گہری کھائیوں میں دھکیلنا شروع کردیا،اور پھر وہ قوم جس کو اللہ رب العزت نے پوری دنیا کی دیگر اقوام کی قیادت وسیادت کا تاج سونپا تھا،غلامی وذلت کا نمونہ بن کر رہ گئی ، ان حالات کے بعد قوم کے کھوئے ہوئے مقام ومرتبہ کے حصول کی متعدد کوششیں کئی اطراف سے شروع ہوئیں ،لیکن اجتماعی بے حسی کا شکار قوم اپنے ہمدردوں کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے غیروں کے پھیلائے گئے سازشوںکے جال کی خوشنمائی کی اسیر رہی ،اور عزت وسربلندی کیلئے کوشاں تحریکیں اورشخصیات اپنی ہی قوم کے افراد کی طعن وتشنیع اور نفرت وعصبیت کا شکار ہوکر دم توڑتی رہیں،پوری دنیا کا استعمار خدائی اختیارات کے مقابلہ میں اپنی خدائی کی راہ ہموار کرنے میں مصروف رہا اور پوری دنیا میں پھیلے مسلم حکمران ان کی ہر کوشش کے معاون واتحادی بن کر مسلمان قوم کی ذلت ورسوائی میں مزید اضافہ کا موجب بنتے رہے ،مہنگائی ،بےوزگاری،لوڈشیڈنگ،طرح طرح کی بیماریوں،موسموں کی بے مروتی ،نسلی لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات ،سیاسی غیر یقینی ،لوٹ ماراورکرپشن ،دہشت گردی وغارت گری ،بڑھتا ہواعدم تحفظ،

اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں سمیت کون سا وہ مسئلہ ہے، جس کا آج اس قوم کو سامنا نہیں ،اور یہ سارے مسائل صرف پاکستانی مسلمانوں کوہی درپیش نہیں بلکہ اس کا شکار پوری دنیا کے مسلمان بن رہے ہیں ،اس کا ذمہ دار امریکی CIA ہے یا موساد؟خادکی کارستانی ہے یاRAW کی کارفرمائی ؟KGB ہماری دشمنی پر اتری ہوئی ہے یا M6 ؟ اسلامی شدت پسند اس ساری تباہی کے ذمہ دار ہیں یا دینی مدارس ؟ہمارے نااہل اور مفاد پرست سیاست دان اور پالیسی ساز ادارے ہمیں پستی کی گہرائیوں میں دھکیلنے میں ملوث ہیں یا ہمارے تحفظ کے ضامن سیکورٹی ادارے ؟ اور یہ سب کچھ آخرہمارے ساتھ ہی کیوں پیش آرہا ہے ؟کیا کوئی ہے جو محض کسی دوسرے پر الزام ودشنام کی بجائے اپنی بربادی کے حقیقی عوامل پر غور کرنے کو تیار ہو؟اپنے آپ کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنے جرائم سے آگاہی حاصل کرنے کا خوہشمند ہو؟شاید نہیں، عشق رسالت ﷺکے دعویدار ہر مسلمان کیلئے میرے رب کے فرمان کا مفہوم آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا کہ ’’جب تک تم میری اور میرے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بتائی ہوئی راہ پر چلتے رہو گے تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی تمھارے سامنے نہیں ٹھر سکے گی ،لیکن جب تم نافرمانی پر اتر آؤ گے تو پھر میں تم پر ہر طرف سے دشمن مسلط کردوں گا ،اور تمہیں کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی ‘‘۔

آج اگر ہمیں کچھ دیر کو فرصت ملے تو ذرا غور تو کریں ،کہ پیدائش سے لے کر موت تک ،غمی کا موقع ہو یا خوشی کا ،دن ہو یا رات ،کاروباری معاملات ہوں یا سماجی تعلقات ،سیاسی ترجیحات ہوں یا خاندانی تنازعات ، جرائم کے خلاف قانون کی عملداری کا معاملہ ہو یا بے کس ومحروم افراد کی دادرسی کی بات ،ہمارے غریب اور بے کس افراد ہوں یا صاحبانِ ثروت وقوت ،دیندار ہوںیا نام کے مسلمان ،علم کے دعویدار ہوں یا جہالت کے علمبردار، اپنے دعوائے ایمانی ومسلمانی کے ثبوت کیلئے اپنے کس کس عمل اور کردار کو اپنے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور طریقہ کے مطابق بجا لا رہے ہیں ،اپنی زندگی کا کونسا کام کرنے سے پہلے اپنے رب کے فرمان کو جاننے کی تگ ودو کرتے ہیں ،اور کیا اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں ہم کسی بھی درجہ میں اپنی ذاتی خواہشات ،ترجیحات ،تعلقات اور مفادات کو قربان کرنے پر تیار ہوتے ہیں ؟کیا کلمہ طیبہ میں اپنے رب سے کئے گئے عہد وپیمان کو دل کی گہرائیوں سے ہم نے تسلیم کرلیا ہے ؟ اگر جواب ہاں میں آنا شروع ہوجائے تو پھر دعوائے عشق نبی ﷺبھی سچا ہوگا اور عزت وسربلندی کا سفر بھی شروع ہوجائے گا ،وگرنہ ذلت وخواری پر شاداں اور فرحاں رہیں اور اپنے مسائل ،مصائب وآلام اور مشکلات کو اپنے اعمال کی کمائی اور قول وفعل کے تضاد کا نتیجہ سمجھتے ہوئے ہر آنے والے دن کیلئے کسی نئے حادثہ اور سانحہ کیلئے تیار رہیں، کیونکہ منزل کا تعین نہ رکھنے والے مسافر کا سفر کبھی ختم ہوتا ہے اور نہ کبھی کامیابی وکامرانی اس کا مقدر بنتی ہے ۔