فطری طرز زندگی اور غذا کا بہترین وقت - عبدالمتین اخونزادہ

انسان گوشت پوست، روح اور خواہشات کا مجموعہ ہیں۔ انسانی تخلیق قرآن حکیم کا موضوع ہے۔ آج انسانی طرز زندگی فطرت اور اپنے اصل حقیقت سے جہاں مقاصد، نظریات اور اقدار و نصب العین میں ہٹ چکی ہیں وہی بحیثیت مجموعی پورا معاشرہ، معاشرتی تبدیلیوں اور نقصانات کے دور سے گزر رہے ہیں۔ نت نئے ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی نے جہاں آسانیاں پیدا کی ہیں وہی صدیوں سے قائم طرز معاشرت کے آداب و اقدار بھی بدل رہے ہیں جبکہ نئی دنیا میں آداب اور اخلاق کی تشکیل کا دروازہ بند کیا جاچکا ہے۔ مادیت کی یلغار اور ضروریات زندگی کی بڑھوتری نے انسانی تہذیب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس کا ادراک و تدارک ابھی کم ہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری نے ان سنجیدہ معاملات پر جلتی کے تیل کا کام کیا ہے۔ ہمارا معاشرہ بہت سے دیگر مسائل کی طرح اس نازک اور اہم تر معاملے میں بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ ایک حلقہ، یعنی بڑے عمر کے افراد مرد و خواتین اور نسبتاً مذہبی طبقات، ٹیکنالوجی سے خائب اور اس کی مخالفت پر کمربستہ ہیں جبکہ دوسرا حلقہ بچوں و نوجوانوں کا نئی ایجادات پر فریفتہ ہیں۔ ایک ایسا کردار جو دونوں انتہاؤں کو قریب کرکے معاشرتی آداب کی بہتر تشکیل اور فی زمانہ ہنر و Skill سے بروقت اور بھرپور استفادہ کا لائحہ عمل طے کریں انتہائی ضروری ہوچکا ہے۔

آج کے طرز زندگی میں سوتے جاگتے، کام کرنے اور غذا لینے کے اوقات و ترتیب بگڑ چکی ہیں جس سے صحت کے مصر نقصانات سامنے آرہے ہیں۔ رات دیر تک جاگنے اور تاخیر سے رات کے کھانے کے باعث بچوں اور خواتین کا وزن بڑھ رہا ہے۔ بچے سکول پہنچنے اور تیار ہونے میں روز ایک عذاب سے گزرتے ہیں۔ تسلی سے ناشتہ کرنا مشکل تر ہوجاتا ہے حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے تاکید فرمائی کہ ’’سب سے فائدہ مند وہ غذا ہے جو صبح سویرے کھائی جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   نیند سے متعلق غلط فہمیاں اور حقائق

حضرت اانس سے منقول اس حدیث مبارکہ پر ہمارے فاضل دوست محترم مولانا عبدالحق ہاشمی صاحب نے تحقیقی کتاب، ’’حدیث نبوی ﷺ اور سائنسی علوم‘‘ میں گرانقدر تشریح بیان فرمائی ہیں جس کو ہم شکریے کے ساتھ نقل کر رہے ہیں۔ ’’مختلف معاشروں میں کھانے پینے کی عادت اور اس کے اوقات اگرچہ خاصے الگ اور متنوع ہیں۔ لیکن رات کا طویل دورانیہ تقریباً سبھی کو بھوک کا شکار کردیتا ہے اور صبح سویرے کچھ نہ کچھ کھانے کو بھی چاہتا ہے۔ یہ کیفیت دراصل غذا کے جزو بدن بننے کے لئے بہترین ہوتی ہیں اور بھوک یا اندرونی طلب کے موقع پر کھائی جانے والے خوراک قوت بخش ثابت ہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ دن بھر کے محنت طلب جسمانی اور دماغی کاموں کے لئے جو ضروری قوت اور توانائی درکار ہوتی ہیں وہ صبح سویرے ناشتے کے بغیر فراہم نہیں ہوسکتی۔ اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے علی الصبح غذا لینے کی اہمیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسے نفع بخش اور بہترین قرار دیا ہے۔‘‘

’’ہار وڈ یونیورسٹی کے شعبہ خوراک اور امراض قلب کی جانب سے 27ہزار افراد پر سولہ سال کے طویل دورانیہ تک بعض تحقیقات کی گئیں۔ نتائج سے یہ علم ہوا کہ ناشتہ ترک کرنے والے افراد میں دل کے امراض اور ان کی وجہ سے موت کا خدشہ 27 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کی نیند قوت ہضم میں بہتری پیدا کرتی ہے اور صبح فطری طور پر انسان بھوک میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر اس عالم میں بھی کچھ کھانے کا معمول بنایا جائے تو بدن کئی قسم کے عوارض کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے سرکردہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ان کا تجزیہ ہے کہ بھوک کے موقع پر مناسب خوراک خون میں کولیسٹرول، انسولین اور دیگر کیمیکلز کی مقدار کومتوازن اور صحت مند سطح پر برقرار رکھتی ہے ایک غذائی ماہر کا یہ خیال ہے کہ ناشتہ ترک کرنے کی صورت میں یہ خدشتہ رہتا ہے کہ انسان دوپہر کے اوقات میں کھانا ضرورت سے زیادہ کھالے گا۔ یہ امر بھی دن کو اعتدال سے خارج کرکے گونا گوں مسائل سے دو چار کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   قران اور غذا - محمد سلیم

مذکورہ تفصیلات، ہم سب کو اس طرح متوجہ کرتی ہیں کہ ہمیں معاملات پر غور کرنا چاہیے اسے فطرت اور انسانی بدن کی ضروریات کے مطابق کرنا چاہیے اگر کوئی فرد اپنی نیند اور غذا بہتر اور بروقت کریں تو وہ بہت ساری آسانیاں اور برکتیں سمیٹ سکتا ہے۔ سائنسی علوم اور نئی ٹیکنالوجی رکاوٹ نہیں البتہ اس کے ایجاد کرنے والے وحی الٰہی اور فطرت سے دور ہیں اور اس کے استعمال کرنے والے خوف کا شکار ہیں ہمیں ان انتہاؤں سے نکل کر بحیثیت قوم ایک نئی، بہتر اور مفید طرز زندگی کا سفر شروع کرنا چاہیے جو فطرت کے رموز اور دور جدید کے حالات سے ہم آہنگ ہو۔

ٹیگز