متحدہ پاکستان میں بنگالیوں کا سیاسی استحصال؟ آصف محمود

سانحہ مشرقی پاکستان کے بارے میں رائج بیانیے کا ایک مرکزی خیال یہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ پنجابی شاونزم طاقتور رہا اور بنگا لیوں کا سیاسی استحصال ہوا اور ان سے نفرت کی گئی ۔ یہاں تک کہ 1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ کو واضح اکثریت ملی مگر اقتدار ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا گیا ، چنانچہ بغاوت ہوئی اور بنگلہ دیش بن گیا ۔ بادی النظر میں یہ ایک معقول موقف ہے لیکن تاریخ کے اوراق کھول کر بیٹھیں اور اس کوکسی تعصب سے بالاتر ہو کر ایک طالب علم کے طور پر سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ بھی ایک کمزور موقف ہے اور حقیقت کچھ اور ہے.

ہم پاکستان کی اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے دو ادوار میں تقسیم کر لیتے ہیں ۔ پہلا دور قیام پاکستان سے لے کر 1970 کے عام انتخابات تک پھیلا ہے اور دوسرا دور ان انتخابات سے شروع ہو کر 16 دسمبر 1971 کو ختم ہو تا ہے ۔ ہم اپنے مطالعے کا آغاز پہلے دور سے کرتے ہیں ۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم تھے ، ( دونوں میں سے کوئی بھی پنجابی نہ تھا) ۔ لیاقت علی خان ہجرت کر کے آئے تھے ، یہاں کوئی تعصب ہوتا تو وہ وزیر اعظم کیسے بنتے ۔ چونکہ اس وقت پاکستان کا اپنا کوئی آئین نہیں تھا او ر 1935 کے ایکٹ آف انڈیا ہی کے تحت معاملات چلائے جا رہے تھے تو ملک کا سب سے طاقتور منصب گورنر جنرل کا تھا ۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد یہ طاقتور ترین منصب خواجہ ناظم الدین کو دیا گیا جن کا تعلق بنگال سے تھا اور جائے پیدائش ڈھاکہ تھی۔

جب لیاقت علی خان شہید ہو گئے تویہی خواجہ ناظم الدین تھے جو پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم بنے ۔ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم صاحبزادہ محمد علی بوگرہ تھے اور ان کا تعلق بھی بنگال سے تھا ۔ وہ بریشل میں پیدا ہوئے تھے۔ چوتھے وزیر اعظم چودھری محمد علی تھے اور ان کا تعلق بھی مغربی پاکستان سے نہیں تھا بلکہ وہ جالندھر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ پانچویں ویزر اعظم حسین شہید سہروردی تھے ۔ ان کا تعلق بھی بنگال سے تھا ۔ چھٹے وزیر ابراہیم اسماعیل چندریگر تھے ۔ وہ بھی مغربی پاکستان کے رہنے والے نہیں تھے بلکہ بھارت کی ریاست گجرات کے شہر گودھرا سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ ساتویں وزیر اعظم فیروز خان نون کا تعلق البتہ پنجاب سے تھا ، وہ خوشاب کے ایک گاؤں ہموکہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ ایک مختصر ترین مدت کے لیے نور الامین صاحب وزیر اعظم بنے اور ان کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا ۔ گویا1947 سے لے کر 1971 تک مغربی پاکستان کا صرف ایک وزیر اعظم تھا جب کہ چار وزیر اعظم مشرقی پاکستان سے تھے۔

جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ مشرقی پاکستان کے ان وزرائے اعظم کو کام نہیں کرنے دیا گیا اور مختصر مدت کے بعد انہیں ہٹایا جاتا رہا تو یہ ایک حقیقت ہے لیکن اس کی وجوہات کچھ اور تھیں اور مشرقی پاکستان سے نفرت ہر گز اس کی وجہ نہ تھی۔ فیروز خان نون تو پنجاب کے وزیر اعظم تھے لیکن ان کی مدت اقتدار بھی صرف 9 ماہ اور 21 دن تھی ۔ یہ سلسلہ تو سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی چلتا رہا ۔ سندھ کے وزرائے اعظم اور پنجاب کا وزیر اعظم بھی شکوہ کناں رہا ۔ اس صورت حال کا سیاست کی دنیا میں گڈ گورننس کے ذریعے ہی مقابلہ کیا جاسکتا تھا ۔ اس سیاسی عدم استحکام کو کسی طور بھی بنگال دشمنی کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ نہ ہی یہ ملک توڑنے کی کوئی دلیل یا جواز بن سکتا ہے۔

آج ہمیں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے لوگ سیاسی شعور میں مغربی پاکستان سے بہت آگے تھے اور وہ ایوب خان کے مارشل لاء کے دنوں میں ایک گرہ کے اسیر ہو گئے جو آگے چل کر ایک سانحے کا روپ دھار گئی اور ملک ٹوٹ گیا لیکن ہمیں یہ کوئی نہیں بتاتا کہ پاکستان میں فوج کو اقتدار کی راہ دکھانے کا اعزاز بھی ایک ایسے وزیر اعظم کو حاصل ہے جس کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا ۔

محمد علی بوگرہ صاحب نے جب اپنی کابینہ بنائی تو فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع اور میجر جنرل سکندر مرزا کو وزیر داخلہ بنا دیا ۔ یہ مشرقی پاکستان کے بوگرہ صاحب ہی تھے جنہوں نے حاضر سروس جرنیل کو اقتدار میں شامل کیا ۔ ایوب خان کو وزیر دفاع نہ بنایا جا تا تو شاید وہ صدر پاکستان بھی نہ بنتے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ جب ایوب خان کو کابینہ میں شامل کیا گیا اور وہ اجلاسوں میں شریک ہونے لگے تو اہل سیاست کا جو ایک بھرم تھا وہ جاتا رہا ۔ اب آگے چل کر ایوب خان نے سوچا کہ شراکت اقتدار کی بجائے پورا اقتدار ہی میرے پاس ہونا چاہیے تو اس میں قصور کس کا ہوا ؟ مشرقی پاکستان کی سیاست قیادت کا مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت کا ؟ بوگرہ صاحب تو 1955 میں رخصت ہو گئے لیکن ایوب خان صاحب 1955 میں اپنی ملازمت میں چار سال کی توسییع لے چکے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بنگال کے جسٹس محمد ابراہیم کے ایوب خان سے اختلافات بہت بعد میں شروع ہوئے ۔ ’ ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم ‘پڑھتے ہوئے یہ حقیقت ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو بنگال کے یہی جسٹس صاحب ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قانون بن بیٹھے۔ 1958 میں مارشل لاء لگا اور 1958 سے 1962تک جسٹس صاحب ایوب حکومت کے وزیر قانون کے منصب پر فائز رہے ۔ جسٹس منیر تو سب کو یاد ہیں ،جسٹس ابراہیم کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔

چونکہ ایک عمومی تاثر ہے کہ عالمی طاقتوں کے سامنے مغربی پاکستان کی قیادت کا مزاج فدویانہ تھا اور مشرقی پاکستان کے رہنماؤں کا مزاج حریت پسندانہ تھا تو بر سبیل تذکرہ ذکر کرتا چلوں کہ پاکستان میں سب سے پہلے جس شخص کو ضرورت سے زیادہ امریکہ نواز ہونے کا طعنہ دیا جاتا رہا وہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بوگرہ صاحب ہی تھے ۔ سوویت یونین کے مقابلے میں امریکی کیمپ میں جانے کے فیصلے پر بھی روشن خیال دانشور بہت تنقید کرتے ہیں تو عرض کر دوں کہ پاکستان کوسوویت یونین کے خلاف امریکی کیمپ میں لے جانے میں بوگرہ صاحب کا غیر معمولی اور کلیدی کردار تھا ۔ سویت یونین کے خلاف پاکستان کو امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنانے کا منصوبہ آپ ہی کی تخلیق تھا ۔مشرقی پاکستان کے کسی بھی سیاست دان کی حب الوطنی پر سب سے پہلا سوال بھی انہوں نے ہی اٹھایا تھا جب انہوں نے فضل حق پر غداری کے الزام عائد کر کے انہیں مشرقی پاکستان کی وزارت ا علی سے فارغ کیا۔

دیکھیے ابھی ہم 1970 تک نہیں پہنچے اور کالم تمام ہو گیا ۔ 1970 کے انتخابات کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا جائزہ اب اگلی نشست میں ہی ممکن ہو گا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */