مذہبی فکر اور تبدیلی کے مختلف ماڈلز - محمد عرفان ندیم

قیام سے پاکستان سے لے کر اب تک ملک میں مصروف عمل تمام مذہبی جماعتوں اور اداروں کا اصل مرکز و محور ملک میں اسلامی قانون سازی اور اسلامی نظام کا نفاذ رہا ہے۔ یہ کوششیں ہر طبقہ فکر اور ہر مسلک کے نمائندہ افراد اور جماعتوں نے کی ہیں۔ البتہ دیوبندی مسلک ان کوششوں میں سر فہرست رہا ہے۔ تحریک آزادی 1857 سے لے کر اب تک برصغیر پاک و ہند میں احیاء اسلام اور نفاذ اسلام کی جتنی بھی کوششیں ہوئی اس کا اصل عنوان دیوبندی مسلک ہی رہا ہے۔ اور اس مسلک کی یہ حیثیت آج بھی برقرار ہے کہ ان کے ہاں سنجیدہ علمی مباحث ، تعلیمی ادارے ، روایت سے گہری وابستگی ، فقہی و قانونی مسائل میں توسع اور حالات کا گہرا ادراک موجود ہے۔ قانون کی اسلامائزیشن اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ان جماعتوں اور اداروں نے مختلف قسم کی حکمت عملی اور مختلف ماڈلز اپنائے اور اپنی حد تک جدوجہد کو جاری رکھا۔

تبدیلی کے ان ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے لیکن ہم یہاں ان کا مختصر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ تبدیلی کا ایک ماڈل یہ تھا کہ فرد کی اصلاح کو تبدیلی کی بنیاد بنایا جائے ،جب انفرادی سطح پر فرد کی اصلاح ہو جائے گی تو حالات خود بخود تبدیلی کی سمت چل پڑیں گے اور کسی انقلاب کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ حکمت عملی تبلیغی جماعت کی تھی جو بدستور آج بھی جاری ہے۔ یہ حکمت عملی اور تبدیلی کا یہ ماڈل کس حد تک کامیاب ہوا اس پر تفصیلی بات ہو سکتی ہے۔ تبدیلی کا دوسرا ماڈل ان لوگوں نے اپنایا جو سیاسی حرکیات پر یقین رکھتے تھے ، جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی اس ماڈل کی نمائندہ جماعتیں تھیں، اس ماڈل کے نمائندہ افراد کا ماننا یہ تھا کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے اندر رہتے ہوئے قانون کی اسلامائزیشن اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے۔ ان کے ساتھ بدقسمتی یہ ہوئی کہ پاکستانی تاریخ کا اکثر حصہ مارشل لاء کی نذر ہو گیا اور ان جماعتوں کو سیاسی جدوجہد کے لیے بہت کم وقت ملا، جو پینتیس چالیس سال ملے ان میں بھی وہ اتنی اکثریت حاصل نہیں کر پائے جو تبدیلی کے لیے ضروری تھی۔ بعد کے ادوار میں اس مقصد کے لیے، مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بھی کسی کام نہ آیا اور متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے بھی تبدیلی کی ہوا نہ چل سکی۔ پے درپے شکستوں ، عوام کی بے رخی اور حالات کی نزاکت نے انہیں اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ چلو اکثریت نہ سہی حکومتی پارٹی کا حصہ بن کر ہی اسلامائزیشن کے لیے جو کام ہو سکتا ہے وہ کیا جائے۔ اب حالات نے انہیں اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اقدامی جدوجہد تو رہی ایک طرف یہ لوگ دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہوکر کھیلنے پر مجبور ہیں۔ ریاست یا قانون ساز ادارے اگر کبھی کوئی غیر شرعی یا غیر اسلامی قانون سازی کی بات کرتے ہیں تو یہ بھرپور Resist کرتے ہیں اور اب یہی ان کی جد جہد کا ماحصل ہے۔ تبدیلی کے اس ماڈل اور س کے نتائج و ثمرات پر بھی تفصیلی بات ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں عوام کا احتساب - آصف خان

تبدیلی کا ایک ماڈل تبدیلی بذیعہ جہاد کے قائلین نے اپنایا ، اس ماڈل کے نتیجے میں اسی اور نوے کی دہائی میں دھڑا دھڑ جہادی تنظیمیں قائم ہونے لگیں۔ اگرچہ اس جہاد کے پیچے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی اپنے اپنے مفادات تھے مگر اس کے باجود جہادی تنظیموں کو فری ہینڈ دیا گیا۔ تبدیلی کا یہ ماڈل اپنانے والوں کا خیال تھا کہ پہلے افغانستان میں اسلامی حکومت قائم ہوگی اور پھر اس کے ذریعے سے پاکستان کو بھی اسلامائز کرنے کی راہ ہموار ہوگی، خلافت قائم ہوگی اور یوں پاکستان اسلامی دنیا کے لیے رول ماڈل بن جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کچھ عناصر کو فوج میں بھی متحرک کیا گیا جہاں انہوں نے بساط بھر ہاتھ پاؤں مارے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ تبدیلی کے اس ماڈل اور اس کے اثرات و نتائج پربھی کلام ہو سکتا ہے۔ تبدیلی کا ایک ماڈل ارباب مدارس اور بعض اصحاب فکر نے اپنایا ، ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اسلامائزیشن کے عمل سے قبل افراد سازی پر توجہ دی جائے۔ ان کاماننا یہ تھا کہ اگر ہمیں حکومت مل بھی جائے تو ہمارے پاس ایسے افراد نہیں جو اس کو چلاسکیں اور اس کو اسلامی قالب میں ڈھال سکیں۔ چناچہ انہو ں نے اپنی ساری توجہ افراد سازی پر مرکوز کر دی۔ جدید تعلیمی ڈسکورسز کو اپنے ہاں مدارس میں متعارف کروایا، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دینی تعلیم کی طرف راغب کیا ، صحافت ومعیشت کی طرف توجہ دی ،نوجوانوں کو صحافتی اداروں میں بھیجا اور اقتصاد و معیشت اور حلال فوڈ کے بارے میں آگاہی مہم چلائی۔ کراچی کے بعض اداروں کو اس میں سبقت رہی اور بعد میں دیکھا دیکھی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی اس طرح کے پروگرامز شروع ہو گئے ، یہ حکمت عملی کس حد کامیاب ہوئی اس پر بھی تفصیلی بات ہو سکتی ہے۔ یہاں مختصرا عرض ہیکہ افراد سازی کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر جد وجہد کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں اس سطح کی محنت اور کوشش نہیں ہو رہی۔

تبدیلی کا پانچواں ماڈل حال ہی میں سامنے آیا ہے اور یہ چوتھے ماڈل ہی کی ایک معکوس صورت ہے۔ چوتھے ماڈل کی حکمت عملی یہ تھی کہ افراد تیار کر کے انہیں بیورو کریسی اور مختلف اداروں میں بھیجا جائے جہاں رہ کر وہ نظام کی اصلاح کی کوشش کریں۔ پانچویں ماڈل کی حکمت عملی اس کے برعکس ہے کہ پہلے سے نظام میں موجود افراد کی اصلاح کی جائے اور انہیں اس کام کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ از خود ملک میں اسلامائزیشن اور ریاست مدینہ کی بنیاد رکھیں۔ اس ماڈل کے پیچھے یہ مفروضہ کار فرما ہے کہ حکمرانوں اور نظام میں موجود افراد کے سامنے کوئی واضح منشور نہیں ہوتا اور انہیں جس سمت گائیڈ کیا جائے وہ اس کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کی عمران خان سے حالیہ ملاقاتیں اور ان کے بارے میں بیان اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ حضرت مجدد الف ثانی کی حکمت عملی تھی جس کا احیاء کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ حکمت عملی کیوں اختیار کی گئی اس کی وجہ بڑی دلچسپ ہے ، مقتدر حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے ملک کی دو معروف سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا گیا ، موجودہ سیاسی حرکیات اور ہلچل اسی فیصلے کا نتیجہ ہے ، یہ دونوں سربراہان قید میں ہوں گے یا انہیں ہمیشہ کے لیے نااہل کر کے بہر صورت انہیں سیاسی منظرنامے سے ہٹا دیا جائے گا۔ اور یہ فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناتجربہ کاری اور نااہلی کے باوجود اسے آگے بڑھایا جائے گا اور "ہمیں آگے بڑھنا ہے" کا نعرہ لگایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں عوام کا احتساب - آصف خان

اس صورت حال کے تناظر میں بعض اہل فکر نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ موجودہ حکومت کی مخالفت کی بجائے اس کو سپورٹ کیاجائے اورحضرت مجدد الف ثانی ؒ کی طرز پر ان کی راہنمائی کی جائے۔ مولانا طارق جمیل اور بعض دیگر علماء کی موجودہ حکومت کے بارے میں نرم دلی اسی حکمت عملی جا نتیجہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی کچھ دنوں سے خاموش ہیں اور ممکنہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مولانا فضل الرحمان اور موجودہ حکومت کے درمیان مصالحت کروا دی جائے گی اور آج کے حریف کل کے حلیف بن جائیں گے۔ یہ حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوتی ہے اور اس کے نتائج و ثمرات کیا ہو سکتے ہیں اس پر فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس حکمت عملی کے ناقد وہ لوگ ہیں جو شروع دن سے موجودہ حکومت سے ناخوش اور اسے ناجائز اولاد سمجھتے ہیں ، ان کے نزدیک موجودہ حکومت سے کسی خیر کی توقع خصوصا اسلام کے حوالے سے کسی اچھی خبر کی توقع عبث ہے۔مذکورہ بالا حکمت عملی اپنانے والوں کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان لوگوں نے برائی کے خلاف مزاحمت کرنے کی بجائے ہار مان لی ہے اور برائی سے بھلائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ سب اجتہادی آراء ہیں اور فریقین کو، ایک دوسرے کو اختلاف رائے کا حق بہر حال دینا چاہے۔ یہ تبدیلی کے مختلف ماڈلز تھے جن میں سے بعض آزمائے جاچکے اور اب ایک نئے ماڈل سے امید لگائی گئی ہے۔ اللہ کرے کہ اس کے نتائج مثبت نکلیں اور قوم کسی نتیجے تک پہنچ سکے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.