مسلمانوں کا المیہ - فضل ہادی حسن

ہم مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ ہم قرآن و سنت سے ان امور کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو یا تو ہمارے مزاج کے عین مطابق ہیں یا ہمارے لئے قدرے آسان اور 'سہولت' کا باعث بنتے ہیں، کافی ساری چیزیں ہیں جن پر بات ہوسکتی ہے، مثلا ہمارے مردوں کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں قرآن کے اندر ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت والی آیت کا صرف 'پہلا' حصہ اچھی طرح یاد اور معلوم ہے اور اس 'سنت' کو زندہ و سلامت رکھنے کے لئے طرح طرح کے لطائف اور واقعات کو نقل کرنا "باعث اجر" سمجھتے ہیں جبکہ اسی آیت کے آخری حصے کو عام مسلمانوں سے لیکر اہلِ دستار و جبّہ اور اہلِ مذہب تک سب نظر انداز (دانستہ یا غیر دانستہ یا اگر گھریلوں معاملات کو دیکھا جائے) کرتے ہوئے نظر آئینگے۔
اس حوالہ سے ایک دلچسپ قصہ سن لیجیئے!

ناروے میں 'عربی' ملک سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کی ایک نارویجن غیر مسلم لڑکی سے دوستی ہوگئی، بعد میں لڑکی نے اسلام قبول کر لیا اور دونوں نے شادی کرلی، اللہ نے انہیں بچہ بھی دیا۔ وقت کیساتھ ساتھ لڑکی تھوڑا بہت دین سیکھنے لگی، نیز 'میاں' ان سے قرآن کریم سے مختلف موضوعات بھی ڈسکس کرنے لگا، قرآن میں مزید شادیوں کی اجازت پر بھی کبھی کھبار بحث ( ناروے میں دوسری شادی کی ممانعت اور خلاف قانون ہے) کرتے رہے ۔ دوست کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لڑکے نے دوسری شادی کی خواہش اور قانونی پیچیدگیوں کا ذکر بیوی کے سامنے کیا تو نو مسلم خاتون تیار ہوئی کہ قرآن میں اگر اجازت ہے تو آپ دوسری شادی کر لیں اور اپنی کسی سہیلی کیساتھ ہی اس کا (غیر رجسٹرڈ) نکاح کروا دیا۔

کہانی میں اس وقت دلچسپی پیدا ہوگئی جب عربی لڑکے نے دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو کم سے کم وقت دینے لگا، شادی کے چند مہینے بعد جب شوہر اپنی پہلی بیوی کے گھر بہت کم آنے لگا (بلکہ نظر انداز کرنے لگا) تو لڑکی پریشان ہوگئی کہ "قرآن ایسا نہیں کہہ سکتا کہ دوسری شادی سے پہلی بیوی کا حق ختم کرے یا اس میں کمی لائے، اسلام اور قرآن میں یہ کس طرح ہوسکتا ہے جو دوسری شادی کی اجازت تو دیتا ہے لیکن پہلی بیوی کی حق تلفی کے بارے میں خاموش ہو؟ ایسا ہو نہیں ہوسکتا" انہوں نے ایک امام سے رابطہ کرکے اس آیت کا پس منظر اور مزید تفصیلات جاننا چاہی۔ جب امام صاحب نے پوری آیت ترجمہ اور تفسیر کیساتھ ان کے سامنے رکھی تو نو مسلم لڑکی کو احساس ہوگیا کہ اصل معاملہ کیا ہے اور مجھے کس طرح اندھیرے میں رکھ کر جھوٹ بولا گیا۔ بالآخر لڑکی نے اپنے شوہر سے علحیدگی کا فیصلہ کر لیا، لڑکا پشیماں تھا اور پریشانی کی کیفیت میں رو رہا تھا جبکہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ "یہ عام جھوٹ بھی نہیں ہے بلکہ اس نے قرآن کے بارے میں مجھے جھوٹ بولا ہے اس نے اپنے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، میرے شوہر کا عمل دوسری شادی کی اجازت کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن "عدل و انصاف" والی شرط کے حوالے سے مکمل بر خلافِ قرآن، ایسے (جھوٹے) شوہر کیساتھ مزید تعلق رکھ کر زندگی گزارنا مناسب نہیں سمجھتا۔"

اندازہ لگائیں گا کہ ہمارے ہاں کتنے لوگ ہونگے جو سنتِ رسول کے نام پر پہلی بیویوں کی زندگیاں اجیرن بنا چکے ہونگے؟

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں کثرتِ اولاد کی طرف ترغیب کا ذکر ہم بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں لیکن بچوں کی (بہترین) تربیت کے حوالے سے سیرتِ طیبہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیلمات کے بارے میں ہم خاموش رہتے ہیں۔

رسول اللہ کی حدیث مبارک ہے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں "جس نے 3 لڑکیوں کی پرورش کی ، ان کی (اچھی) تربیت کی ، ان سے حسن سلوک کیا پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی" (ابوداؤد حدیث 5147)۔ اسی طرح ایک لڑکی کے بارے میں بھی آیا ہے نیز اولاد کی اچھی تربیت کے حوالے سے کافی ساری احادیث موجود ہیں۔ لیکن ہمیں مذکورہ حدیث شریف کو دوسرے زاویہ سے سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ تین چزیں اس میں ذکر ہیں (1) تربیت (2) حسن سلوک اور (3) نکاح۔ تربیت ایسے مواقع پر جب استعمال ہو تو اس کا مطلب اچھی تربیت ہے، حسن سلوک کا مفہوم بڑا واضح اور وسیع ہے۔ آپ اپنے معاشرہ میں اور آس پاس کا زرا مطالعہ کریں آپ دیہات سے شروع کرکے چھوٹے بڑے شہروں تک کا رُخ کریں، کتنے فیصد مسلمان ہونگے جو ان تینوں باتوں کا کم سے کم حق ادا کر رہے ہونگے؟

اولاد پر خرچ (نان نفقہ) افضل صدقہ قرار دینے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کو کھانا کھلانے یا 'اچھا' کھلانے کی ترغیب یا تلقین نہیں کی کیونکہ یہ ایک بدیہی امر اور والدین کی ذمہ داری یا بچوں کا اپنے والدین پر بنیادی حق ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے؟ اولاد کی تربیت، کفالت اور پرورش سے لیکر دیگر معاملات تک۔ میاں بیوی کے درمیان تعلق میں اتنی بے خبری اور لاعلمی ہے کہ ابھی بچے کی عمر پانچ چھ ماہ تک نہیں پہنچی ہوگی کہ خاتون دوبارہ حاملہ ہوجاتی ہے۔ آپ نے پاکستان میں دوران زچگی اموات پر کبھی غور کیا ہے؟ پیدائش کے بعد زچہ و بچہ کی حالت، امراض اور دستیاب علاج معالجہ کا اندازہ ہے؟ اس وقت پاکستان میں نوزائیدہ بچوں سمیت شیر خوار بچوں کی اموات میں سرفہرست ہونے کے اسباب و عوامل کا جائزہ لیا ہے؟ کیا لاعلمی اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے ہٹ کر بچوں کی پیدائش اور ان کی کثرت اموات ( بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ) کے زمرے میں نہیں آتا؟

دوست لوگ زیادہ بچوں کی پیدائش پر رطب اللسان ہو رہے ہیں، زرا یہ ساتھی پاکستان بھر کے لوگوں کے بارے میں ایک اسٹڈی کا اہتمام کریں کہ زیادہ بچے پیدا کرنے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور ترغیب پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے یا لاعلمی، اقدامات اور دیگر وجوہات کی وجہ سے؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی اکثریت عدمِ تعلیم، عدم آگہی اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زیادہ بچے پیدا کر رہے ہونگے۔ اولاد کو معاش کے ڈر اور خوف کی وجہ سے پیدا نہ کرنا گناہ اور حرام سمجھتا ہوں اس بارے قرآن و سنت کی واضح تعیلمات موجود ہیں۔ لیکن میرے ملک میں جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل نہیں تو دوسری طرف چائلڈ کئیر کی ابتر صورتحال ایک لمحہ فکریہ ہے۔

آبادی بڑھنے میں کوئی حرج نہیں اگر انسان کو انسان کی نظر دیکھا جائے، انسان کا قدر ہو جب وہ دنیا میں آنکھیں کھول رہا ہو تو اس پھول کو کھلنے والا موسم اور فضاء میسر ہو، اسے مسلنے اور عدمِ توجہی والا ماحول نہ ہو، جب بچوں کی صحت، علاج معالجہ کی طرف خصوصی توجہ ہو، جب تربیت میں کوتاہی نہ برتی جا رہی ہو، بلاشبہ اعلی تعلیم نہ سہی لیکن کم سے کم اور بنیادی تعلیم کا اہتمام تو ہو۔ یہاں ایک سوال کیا جاسکتا ہے کہ تعلیم و تربیت کا تعلق وسائل اور ذرائع سے ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داریوں میں سے ہیں۔ میں ان سے اتفاق کرونگا لیکن آزادی سے لیکر اب تک تعلیم و تربیت تو درکنار، صحت کو ہی لیجیئے کہ اس پر عوام خرچ کرتے چلی آرہی ہے یا حکومت؟ حکومت اگر 70 سالوں میں علاج معالجہ (جو بنیادی اور اہم ترین ضرورت ہے) مفت فراہم نہ کرسکی تو اولاد اور نونہالانِ قوم کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکے گی؟ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے دن سے ہی صحت کی ذمہ داری والدین کے سَر ہوتی ہے، تعلیم و تربیت اور پرورش ایسے مراحل ہیں جس کے لئے والدین کتنے پریشان ہوتے ہیں؟ میرے ملک میں غربت سے تنگ آنے والے، یا بچوں کو بھوکا پیاسا دیکھنے کی ہمت نہ رکھنے والے خودکشیوں پر مجبور ہورہے ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کو فروخت کرنے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔

یہ میرے ملک کا وہ بھیانک چہرہ ہے، جس طرف اہلِ دانش، علماء اور طبّی ماہرین، عوام و خواص کو متوجہ بلکہ متنبہ کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر ایک طبقہ کثرتِ اولاد کی ترغیب اور فضائل پر روشنی ڈالتا ہے تو دوسرا طبقہ بڑھی ہوئی آبادی کو جنگ سے خطرناک اور تباہی کا سبب قرار دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے اصل مسائل کی نشاندہی اور سدباب کی طرف توجہ ہے اور نہ کثیر آبادی کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے اور منیج کرنے پر کام ہوا ہے۔ نیز ہماری حکومتیں اسے بطور طاقت و قوت بنانے، بڑی آبادی کو عالمی طور پر معاشی منڈی کا قابل بنانے اور دنیا بھر کی طاقتوں، کاروباری لوگوں کے لئے پُرکشش بناکر سرمایہ کاری کا میدان بنانے میں بھی ناکام رہی ہیں۔

یاد رکھئے کہ دین اسلام میں جہاں توحید باری تعالی اور توکل علی اللہ کی اہمیت ہے وہاں اللہ تعالی کی طرف سے اسباب مہیا ہونا بھی فطرت خداوندی ہے۔ احتیاط اور اسباب کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا مطلوب ہے۔ صحابی کو اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ ”اسے باندھ دو، پھر توکل کرو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیونکر فرمایا تھا؟ اسی کو مد نظر رکھ کر ہمیں عائیلی اور معاشرتی مسائل کا حل ڈھونڈ کر معاشرہ کی خدمت اور سماج کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ کچھ معاملات اگر ہمارے مزاج اور سہولت سے برخلاف رہتے ہوئے بھی ہمیں بنیادی دینی تعلیمات اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرنا ہوگا، تب ہم المیوں اور غلط فمہیوں سے امت کو نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ ان شاءاللہ العزیز

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.