بچوں کو کیسے مصروف رکھیں - جویریہ سعید

ایک سوال اکثر کیا جاتا ہے ، بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کی تربیت کے لیے کیا سرگرمیاں کی جائیں۔

ہم سے ساتھیوں نے پوچھا کہ ہم کچھ ذاتی کوشش کا ذکر کریں . ہمارے بچے جب بہت چھوٹے تھے تب سے ہی ہم نے کوشش کی کہ ہر قسم کے حالات میں باقائدگی سے ان کے ساتھ نشستیں رکھی جائیں۔ ان نشستوں میں بچوں کوعلمی، ادبی، فلسفیانہ، دینی یہاں تک کہ سیاسی موضوعات پرگفتگو کا موقع دیا جاتا ہے۔ تخلیقی سرگرمیاں مثلا خاکے، ڈرامے، مقابلے اور پوسٹر پریزینٹشن وغیرہ بھی کی جاتی ہیں۔ جب بہت چھوٹے تھے تو ان کے پسندیدہ ترین موضوعات حضرت عزیر علیہ السلام اور ان کے گدھے کا واقعہ، حضرت یونس علیہ سلام ،قصہ آدم علیہ سلام اور ابلیس اور حضرت موسی علیہ سلام کے قصے تھے۔ جب کچھ بڑے ھوے تو حضرت ابراہیم علیہ سلام ، حضرت بی بی حاجرہ، حضرت اسماعیل علیہ سلام ،حضرت لوط علیہ سلام ، حضرت یوسف علیہ سلام ، ذولقرنین، اصحآب کہف، یاجوج ماجوج، اور حضرت عیسی علیہ سلام کے واقعات سنتے رہے۔ پھر صحابہ کرام کی باری ائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ وسلم تو ہمیشہ سے محبوب ترین موضوع ہیں۔

رمضان میں ایک اور تجربہ کیا۔ سب بچوں کو باری باری ایک مختصر سورہ پر تذکیر کا کام دیا گیا۔ ہر ایک کو پندرہ منٹ دیے جاتے۔ بعد میں سوال جواب کا وقفہ بھی ہوتا۔

کبھی ہم تجزیہ کتب کی محفل سجاتے ہیں۔ ہر ایک اپنی پڑھی ہوئی کتاب کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مصنف کا نام، اہم کردار، کہانی کا خلاصہ، اخلاقی سبق وغیرہ بیان کرنا ہوتا ہے۔ کبھی ایک کتاب پبلک لائبریری کی پیش کرنی ہوتی ہے اور کبھی ایک اسلامی موضوع پر۔کچھ عرصہ ہم نے اجتماعی مطالعہ حدیث بھی کیا۔ کچھ بخاری شریف سے ، کچھ ریاض الصالحین سے۔کبھی ہم مل کر رول پلے بھی کرتے ہیں۔ مثلا ایک مرتبہ جمعے کی رات سب بچوں نے اپنی مرضی کے بہروپ بھرے، امی جان نے سب کو میک اپ کر کے تیار کیا۔ ننھے میاں "سلطان " بنے، بیٹی صاحبہ "نیلی پری جو پانی اور کائنات میں موجود نیلے رنگ کی ہر شے کی نگرانی کرتی ہے"، ایک صاحبزادے فلسطینی مجاہد بن گئے اور دوسرے بغداد کے عالم۔ سب یکے بعد دیگرے سٹیج پر اتے اور اپنے بارے میں کچھ بول کر جاتے۔

ایک مرتبہ سردیاں اپنے عروج پر تھیں۔ خوب برف باری کے بعد جب درجہ حرارت صرف صفر تھا (گویا کہ موسم بہت اچھا تھا) ، خوب اچھی دھوپ نکلی ہوئی تھی تو پائیں باغ میں برف پرہی جمعہ منایا گیا۔ اصحآب کہف ، ذولقرنین اور یاجوج ماجوج کے قصے سنے گئے۔ درود شریف اجتماعی طور پر پڑھاگیا۔ ایک صاحبزادے نے اذان دی، دوسرے نے اقامت کہی اور پھر انہوں نے نماز پڑھائی۔

جمعہ کی ایک نشست میں پوچھا گیا کہ جب پیارے نبی ؐ سے آپ کی ملاقات ہو گی تو کیا تحفہ دیں گے اور کیا فرمائش ہو گی۔ ایک نے کہا اپنے کاغذ کے بنائے سارے ہوائی جہاز دے دوں گا۔ کسی نے کہا ایک کارڈ بناوں گی اور اپنی گڑیاں دکھاوں گی کیونکہ آپ صلی اللہ وسلم حضرت عائشہ رضٰی اللہ عنہا کی گڑیاں بھی تو دیکھتے تھے۔ ایک نے اپنی "لائٹننگ میک کوئین" دینی تھی۔ فرمائش یہ تھی کہ آپ صلی اللہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کی سواری کرنی ہے اور غبارے اڑانے ہیں۔ صاحبزادی خوب شرما کر بولیں،" ؔمیں تو کہوں گی، پلیز، مجھے گودی میں لے لیں۔۔۔ایک بہت دلچسپ سرگرمی ملک میں ہونے والے انتخابات کے دنوں میں ہوئی۔ ہماری بیٹھک میں انتخابی میدان سجایا گیا۔ کوئی جسٹن ٹروڈو تھا تو کوئی سٹیفن ہارپر، ایک الزبتھ مے تھیں اور ننھے میاں ٹامس ملکئیر۔ سب نے باقاعدہ تیاری کی تھی۔ بہروپ بھرے تھے اور پھر سب کے انٹرویوز کیے گئے۔اوراس کی ایک وڈیو بھی بنائی گئی گئی۔

ایک روز بیٹی صاحبہ کی فرمائش پر "میلی فیسنٹ" دیکھی گئی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ بھائیوں یہ سمجھانا کہ لڑکیوں کی پسند احمقانہ نہیں ہوتی۔ اور ان کو "گرل مووی" دیکھنے پر مجبور کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ سب سکھانا پڑتا ہے۔ بعد میں اس مووی پر "فکری نشست" بھی ھوئی اور باقاعدہ ڈرامہ بھی کھیلا گیا۔ فلم کے کرداروں کوے، بادشاہ، سیاہ پری، معصوم ارورا پر گفتگو ہوئی۔ نیکی و بدی کا فلسفہ، انسانی خواہشات اور نفس کے میلانات، محبت ، دنیا غرض یہ کہ بے شمار چیزوں پر بات ہوئی۔

“لائن آف ڈیزرٹ، بیک ٹو دا فیوچر، علامہ اقبال کی نظمیں بھی مل کر دیکھی گئیں۔ کچھ سیاسی نشستوں میں عالمی صورتحآل، امریکہ اور اسرائیل کا کردار اور مسلمانوں کی حالت زار بھی زیر بحث ائے۔ جماعت سوئم میں کیے گئے پراجیکٹ "پاکستان کی جنگی تاریخ" پر مصعب میاں نے شرکا کو بریفنگ دی۔لمبا سفر ہو اور بچے بور ہونے کی شکایت کریں تو ان کے ساتھ ذہنی کھیل بھی کھیلتے ہیں۔۔ مثلا سیہ و سفید رنگ کے جانوروں کے نام بتائیں، ایسے پرندے جو اڑ نہیں سکتے، وہ جانور جو دیوار پر رینگ سکتے ہیں، وہ جن کے پاوں نہیں ہوتے ، جن کی دم نہیں ہوتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ خوفناک کہانیاں بچوں کو پسند آتی ہین۔ ہم نے بھی سنائی ہیں ۔ کلاسیکی کہانیوں سے اپنی تاریخ اور ثقافت سے آشنائی ہوتی ہے۔اسکول میں ہونے والے واقعات اور معاملات خصوصا ڈسکس ہوتے ۔ نماز، لباس، ملنے جلنے کے آداب، دوستوں سے معاملات، کسی سے کوئی چیز لینا یا دینا، bullying, دہشت گردی، شرم و حیا، نسل پرستی، پڑھاے جانے والے ناول ڈسکس ہوتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ یہ نشستیں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ خود امی جان بھی بہت لطف اندوز ہوتی ہیں۔ بچے ایسے نکتے نکال لاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔

الحمدللہ اس کا اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب اگر بیٹی صاحبہ کچھ پڑھنے کو لاتی ہیں اور اس میں کچھ نامناسب محسوس کرتی ہیں تو خود آکر ہم سے پوچھتی ہیں کہ کیا آپ کو ٹھیک لگے گا اگر میں فلاں کتاب پڑھ لوں؟ ہم ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ مما کو علم نہیں مگر اب یہ آپ کے اور اللہ تعالی کے بیچ ہے۔ آپ یہ سوچ لیں کہ کیا اللہ تعالی کو ٹھیک لگے گا اگر آپ یہ کتاب پڑھ لیں۔ اس جواب پر وہ کتابوں کا ایک پورا سیٹ واپس کر کے آچُکی ہیں اور ہمیں کسی ایسی کتاب کے بارے میں خود بتا دیتی ہیں۔ زندگی کتنی بھی مصروف ہو، حالات کیسے بھی ہوں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ماں باپ کے پاس بچوں کے لیے وقت نہ ہو۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ بچوں سے باتیں کرنی چاہییں اور خوب کرنی چاہییں۔
بات یہ ہے کہ ہر بچہ ایک چیلنج ضرور ہوتا ہے، حالات بھی کٹھن ہو سکتے ہیں لیکن نئی نسل سے نہ ڈرنا چاہیے اور نہ کبھی بدلتے ہوے واقعات سے خوفزدہ ہو کر مایوس ہونا چاہیے۔ یہ معصوم بچے جن کو جارح ، غیر زمہ دار اور بےحس دیکھ کر ہم پریشان ہوتے ہیں، ایک عرصے تک ہمارے ہاتھوں میں تھمائی گئی سادہ سلیٹیں اور کچی گیلی مٹی کے ڈھیر ہی تو ھوتے ہیں۔ ان کی صورت گری میں اپنا حصہ ادا کر کے ان کے خالق کے حوالے کر دیں باقی سفر وہ خود طے کریں گے، اپنے خالق کی رحمتوں کے سائے میں انشااللہ ۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.