انٹرنیٹ کے بازار - افشاں نوید

ہم موبائل فون کا استعمال رابطے کے لیے کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اب فون تجارت کی ترقی کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ آپ فون کا بٹن دباتے ہیں اپنے کسی عزیز یا دوست کو پیغام دینے یا خیریت معلوم کرنے کے لیے مگر اس سے قبل دس طرح کے اشتہارات آپ کو روک لیتے ہیں۔ آپ یوٹیوب کو کلک کرتے ہیں یا فیس بک پر جاتے ہیں پہلے سجی ہوئی دکانیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ اب چیزیں اصل قیمت پر کوئی نہیں بیچتا، کوئی دس فیصد رعایت دیتا ہے، کوئی بیس فیصد، اب تو پچاس اور ستر فیصد تک رعایت دی جاتی ہے۔ مفاد عامہ کی خاطر!!
گرینڈ سیل، دھماکہ سیل، وائٹ فرائی ڈے، بلیس فرائی ڈے،ونٹر سیل، سمر سیل اور جانے کون کون سی سیل، اصل میں لفظ ’’سیل‘‘ میں بالخصوص خواتین کے لیے بڑی کشش ہے۔ برانڈڈ کمپنیاں نصف قیمت پر اپنی چیزیں فروخت کررہی ہوں تو کتنی بد نصیبی ہوگی ہم عورتوں کی کہ ہم محروم رہ جائیں۔ پہلے خواتین بچت کرتی تھیں بیٹیوں کے جہیز بنانے کے لیے، بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم، گھر بنانے اور دیگر بڑے مقاصد کے لیے۔ آج کل خواتین اگر بچت کرتی بھی ہیں تو ان دھماکہ خیز مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے۔ پہلے خواتین بازاروں میں جاتی تھیں اور دکانوں پر جاکر دکانداروں سے پوچھتی تھیں کہ نیا کپڑا کون سا آیا ہے؟ نیا پرنٹ کون سا ہے؟ اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب تو آپ کو بازار جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مزے کی بات یہ کہ اب آپ کو اپنی ضرورت کے لیے سوچنا نہیں پڑتا، آپ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ اور یہ آپ کی ضرورت ہے۔ مثلاً ہمیں یہ بتایا گیا کہ گرمیوں کے موسم کا ایک درمیانی عرصہ بھی ہوتا ہے جس کو mid summerکہتے ہیں۔ اس موقع کے لیے علیحدہ کپڑے بنائے جانے چاہئیں۔ سردیوں کے درمیانی وقت کے لئے mid winter کے نام سے گرینڈ سیل لگتی ہے۔ ہر سیل کامیاب جاتی ہے، کھڑکی توڑ ثابت ہوتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کوئی برانڈڈ کمپنی جو ملبوسات تیار کرتی ہے ہر چند ہفتے بعد اتنی رعایتی قیمت پر اپنی مصنوعات کس طرح فروخت کرسکتی ہے۔کیا انھیں ھماری غربت پر ترس آتاہے؟
چلیں دس یا بیس فیصد تو سوچا جاسکتا ہے مگر اب تو کوئی سیل پچاس فیصد بلکہ اکثر آپ کو 70فیصد up to لکھا ہوا نظر آتا ہے، اور جب بھی ایسا ہوتا ہے تو خواتین کے دل سینوں میں نہیں ٹہرتے کہ اگر اس عظیم موقع سے فائدہ اٹھانے سے میں محروم رہ گئی تو اصل ’’خسارہ‘‘ پانے والوں میں میرا نام سرفہرست ہوگا!!
گزشتہ ہفتے کئی برانڈڈ ملبوسات کی کمپنیوں کی حسب معمول سیل لگی ہوئی تھی۔ ایک ویڈیو کسی منچلے نے بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دی اور وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو میں خواتین ایک دوسرے کو دھکے دے رہی ہیں، بال نوچ رہی ہیں، پرس چھین رہی ہیں۔۔ اچھی خاصی ہاتھا پائی کا منظر۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ بے چاری مستحق غریب کچی بستیوں کی خواتین تھیں اصل قیمت تو اَدا کر نہیں کرسکتیں لہٰذا آدھی قیمت پر خریداری کرنے جوق در جوق نکل آئیں۔ جی نہیں یہ کھاتے پیتے مخیر گھرانوں کی خواتین تھیں، جن کی الماریاں پہلے ھی ملبوسات سے اُبل رہی ہوتی ہیں۔

کچھ دن قبل ایک اور تصویر بھی لوگوں نے خوب شیئر کی کہ ایک دکان پر صرف ایک دن کی دھماکہ خیز سیل تھی اور خواتین علی الصبح بچوں کو اسکول بھیج کر وہاں جاکر لائنیں بناکر کھڑی ہوئی تھیں کہ کہیں محرومین میں شامل نہ ہوجائیں۔
الحمد للہ! اب تو ہم دو قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں بازاروں میں جانے کا جھنجھٹ پرانے وقتوں کی بات ہوئی۔ اب تو فری ہوم ڈیلیوری بھی ہوتی ہے، ان لائن شاپنگ اب ہماری اقدار کا حصہ بن چکی ہے۔ ویب سائٹ کا وزٹ کیجئے، دکانیں سجی ہوئی آپ کی منتظر ہیں، آرڈر کیجئے اور ان کا رائڈر اگلے وقت میں پارسل لیے حاضر۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ دکھایا کچھ اور دیا اور بھیجا کچھ اور۔ دو چار دفعہ کے تجربے سے آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ آن لائن شاپنگ میں خسارہ کس کا ہے؟؟
نہ شاپنگ کبیرہ گناہ ہے نہ آن لائن شاپنگ کوئی قابل اعتراض بات۔ قابل مذمت کوئی چیز ہے تو ہماری حد سے بڑھتی ہوئی خواہشات ہیں۔ ان خواہشات کی شدت ہمارے اندر جگائی جاتی ہے۔ہم عریانی و فحاشی کو لعنت سمجھتے ہیں، اخلاقی برائی گردانتے ہیں، یہ ہوس اس سے آگے درجے کی چیز ہے۔ دنیا کی محبت کوئی چھوٹی کمزوری نہیں ہے، لذت دنیا کا حصول، اس کی ہر آن بڑھتی ہوئی طلب انسان کو اندھا کردیتی ہے۔ کرپشن کا نا سور ہو یا اسٹریٹ کرائمز یہ سب اسی لذت کا شاخسانہ ہیں۔

جب خواہشیں حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو اعصاب پر سوار ہوجاتی ہیں۔ خواہشوں کی عدم تکمیل انسان کو ہسٹریائی کیفیت میں پہنچادیتی ہے،خواھشات کی کیمسٹری ہی یہ ھے کہ جتنا پورا کرو اتنا ہی زیادہ بڑھتی ہے۔۔۔ نفسیاتی عوارض میں مبتلا کردیتی ہے۔آپ موبائل فون آن کریں دن میں بار بار آپ کو نت نئے لباس دکھائے جائیں گے، آپ کو مجبور کیا جائے گا کہ پوری قیمت نہیں دے سکتے تو نصف پر ہی خرید لو یہ موقع بار بار نہیں آئے گا۔دائیں بائیں آگے پیچھے کا کوئ نہ کوئ حملہ کارگر ھوہی جاتاہے۔۔ کئی دن پہلے تشہیر کی جاتی ہے کہ 70فیصد رعایت ہے یہاں جب آپ جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ رعایت تو دو چار ہی اشیاء پر ہے باقی تو دس بیس فیصد ہی ہے چونکہ آپ شاپنگ مال میں داخل ہوہی چکے ہیں تو بن لیے تو پلٹا نہیں ہے۔ ملبوسات عورتوں کے ذہنوں پر سوار کردیے گئے ہیں ان کی کمزوری بنادیے گئے ہیں۔ اب یہ برانڈڈ کمپنیاں معاشرے میں ہماری پہچان اور ہمارا تشخص بنتی جارہی ہیں۔ ایک ایسی بند گلی میں ہم کھڑے ہیں کہ آگے کا راستہ سجھائی نہیں دیتا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری حیات طیبہ میں دنیا کی حقیقت واضح کرتے رہے، کبھی مکھی اور مچھر کے پر سے کبھی حوض میں انگلی ڈبو کر کہ جتنا پانی انگلی پر آگیا یہ دنیا ہے اور باقی آخرت۔ یہ دنیا اور لذت دنیا اور نمود و نمائش کی بڑھتی ہوئی ہوس روپیہ پیسہ کا بے دریغ استعمال، ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خواہش، سرمایہ کار کی چال بازیاں، ایک سرمائے کی دوڑ ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ جس بات سے خوف کھاتے تھے وہ یہی تھی کہ دنیا کی لذتیں میری امت پر بہت وسیع کردی جائیں گی۔

آج معاملہ کھانے کا ہو یا پینے کا، اتنی ورائٹی ہے، ہر چیز کی اتنی رینج کہ انتخاب مشکل ہے، معیار زندگی بڑھتا جارہا ہے اور معیار بندگی ؟؟؟
یہی اس وقت شرار بو لہبی ہے!!
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بازاروں کو بری گزرگاہ فرمایا۔اب یہ بازار خود آپ کے موبائل میں موجود ہے، دائیں، بائیں، آگے، پیچھے سے یہ بازار آپ کے اوپر مسلط کردیے گئے ، دجالی فتنوں کے دور کا بہت بڑا فتنہ اس سے بچنا ہی وقت کا جہاد ہے۔

ٹیگز

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.