علامہ اقبال، وجود زن اور تصویر کائنات - سید رحمان شاہ

ہمارے گرد و پیش اور معاشرے میں جو نرمی، خو ش گفتاری، برداشت، خوبصورت رویوں اور قربانی جیسے خوبصورت جذبوں کا پیش خیمہ عورت ہے۔ اس تمام صفات میں عورت کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ عورت کی شان ہی ایسی ہے کہ اُس کے وجود سے یہ دنیا رنگی گئی ہے۔ دنیا میں جو ایک خوبصورتی ہے اُس کا پس منظر عورت ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے عورت کی شان کے بارے کیا خوب کہا ہے:
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دُروں
شرف میں بڑھ کر ثُریا ہے مُشت خاک
اس کی کہ ہر شرف ہے اسی اوج کا دُرِ مکنوں

اقبالؒ کی نظر میں عورت کا وجود ہی اس کائنات کو رنگین کرنے کے باعث ہے۔ عورت کے وجود سے اس کائنات کی جو بلیک اینڈ وائیٹ تصویر تھی وہ کسی کینوس پر بنے سات رنگی پینٹنگ کی طرح رنگین ہوگئی۔ اقبال ؒ کہتے ہیں کہ عورت بڑی عظیم ہستی ہے۔ اسی کے ہونے سے، اسی کی بولی سے باطن کی تپش ہے، دل کا سوز ہے۔ اگر عورت دنیا میں ہے تو گویا دنیا کی خوشیاں سرنگوں نہیں ہیں۔ دنیا میں ایک ساز اسی کے وجود سے ہے۔ اقبالؒ کے ہاں عورت کی شان اس قدر ہے کہ اگلے شعر میں اقبالؒ کہتے ہیں کہ عورت کو معمولی بالکل مت سمجھنا۔ اس کا مرتبہ، مقام، رُتبہ اور شان تو چھوڑیے عورت کے ہاتھ میں جو خاک ہو تو اُس خاک کی قدر بھی اُس سات ستاروں کے حسین جھرمٹ ’’ثُریا‘‘ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس مصرع کا مطلب یہ ہوا کہ عورت کی شان اس قدر ہے کہ اگر اُس نے ہاتھ میں مٹی بھی پکڑی ہوئی، اب یہاں ضروری نہیں کہ مٹی ہی ہو۔ عورت کے ہاتھ کی مٹی کو ہر کمتر چیز سے مشابہ کیا گیا ہے کہ اگر عورت کوئی فضول یا ہیچ سے ہیچ شے بھی چھوئے یا ہاتھ میں پکڑے تو اُس کی شان اس قدر ہوجائے گی کہ وہ بہت زیادہ بلندی جو سات ستاروں (ثُریا) کاجھڑمٹ پا یاجاتا ہے تو اُسے چھونے یا ہاتھ میں پکڑنے کی شان سی بھی وہ ہیچ سے ہیچ شے شرف میں ثریا سے بڑھ جاتی ہے۔ یعنی عورت کی شان بہت بلند ہے۔

سرکار دو عالم نبی کریمْ ﷺ نے بھی حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا۔’’عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔ تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے‘‘۔ سرکارِ دوعالم حضرت محمد ﷺ کے ان مبارک الفاظ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ عورت اس جہاں میں اتنی ہی قابل قدر ہے جتنا مرد ہے۔ عورت کا وجود اتنا اہمیت رکھتا ہے جتنا مرد کا وجود رکھتا ہے۔اقبالؒ نے عورت کی حفاظت کے بارے میں ضرب کلیم میں لکھا ہے۔ اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد نَے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد جس قوم نے اِس زندہ حقیقت کو نہ پایا اُس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد اقبال ؒ چاہتا ہے کہ عورت کو وہ مقام دیا جائے جو اسلام نے اُسے دیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کے ساتھ جو زیادتی ہوتی تھی وہ اگرچہ آجل کل تو نہیں،لیکن آج کل ظلم و جبر کم بھی نہیں ہوتے، بس انداز بدلے ہوئے ہیں۔عورت عظیم الشان ہے ، لیکن عورت کی شان کا اُسے علم نہیں جس کو یہ گماں ہے کہ عورت بس مرد کے تسکین کیلئے ہے۔ عوت کے جوہر کے نمونے صرف غیر کو معلوم ہوتے ہیں۔ بقول اقبالؒ :
جوہرِ مرد عیاں ہوتی ہے بے منتِ غیر
غیر کے ہاتھ میں ہے جوہرِ عورت کی نمود

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی ازدواجی تعلق میں سرد مہری، وجوہات اور حل - حافظ محمد زبیر

اقبال نے عورت کو جو مقام اور رُتبہ عطا کیا ہے وہ بہت عالی شان ہے، پر اپنا مقام فراموش کرنے کی ذمہ دار خود عورت بھی ہے۔ عورت اپنا مقام فراموش کر بیٹھی ہے۔ بیشک عورت مرد کے خوف تلے دبی ہوئی ہے ،لیکن عصر حاضر میں اتنا ظلم بھی نہیں کہ عورت کی زندگی اجیرن ہوگئی ہو۔آج کل کی عورت اپنا مقام و رُتبہ نظر انداز کر رہی ہے۔ دنیا کے بے مقصد کاموں میں دلچسپی لے کر مغربی تصورِ زن کے تعاقب میں عورت وہ مقا م بھول رہی ہے جو اُسے دیا گیا ہے۔ ایک باحیاء عورت معاشرے میں عزت ہی عزت ہے۔ بحیثیت بیٹی وہ والدین کے لیے باعث فخر، بحیثیت بہن اپنے بھائیوں کے لیے باعث عزت، بحیثیت بیوی شوہر کے لیے دنیا کا قیمتی سرمایہ اور بحیثیت ماں اپنے اولاد کے لیے عمدہ نمونہ ہوتی ہے۔

یہ بات ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہ عورت اور مرد برابر نہیں ہیں۔ اسلام کے ہاں یہ بالکل غلط اور اقبال ؒ کے ہاں ایک خام خیال ہے۔ یہ آج کل کی مغربی تصور کی زد میں آئی ہوئی عورت اور غیر فعال قسم کے لوگوں کی سوچ ہے۔ اسلام نے ایسا بالکل نہیں کہا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ’’جو نیک کام کرے گا، مرد ہو یا عورت، اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی‘‘(النساء144) علاوہ ازیں اسلام نے عورت کی فضیلت اور اس کا مقام اور شان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت عظیم نعمت اور اللہ پاک کا ایک تحفہ ہے۔

ہمارے ہاں جوایک اور گھٹیا سوچ پائی جاتی ہے کہ بیٹی کی پیدائش ہمارے لئے غیر پر مسرت ہوتی ہے۔ اور بیٹے کی پیدائش پر جشن مناتے ہیں۔ ایسا کرنا بالکل غلط ہے۔ بیٹیاں اللہ پاک کی رحمت ہیں۔ اور رحمت سے محروم رہنے والے بد بخت کہلاتے ہیں۔ اس بارے میں قرآن مجید نے ارشاد فرمایا: ’’آسمانوں اور زمین میں تمام بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بچیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹوں سے نوازتا ہے۔ اور کسی کو بیٹا اور بیٹیاں دونوں طرح کی ملی جلی اولاد عطا کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے‘‘(اشوریٰ:50) اس آیت مبارکہ میں جو بات بتائی گئی ہے کہ ہمیں اپنے اولاد کی پیدا کرنے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اُس پاک ذات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے جس قسم کی اولاد بھی دے، اور جسے چاہے بانجھ بنا دے۔ اب اگر اُس رب کی قدرت سے کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوجائے تو اُس کی اندگی کی قدر کرو، اُسے علم کی دولت سے نوازو اور اُس جی جان و آبرو کی حفاظت کرو۔ بیٹیوں کے بارے میں سرکار دوعالم حضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس شخص پر بیٹیوں کا بوجھ آپڑے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرے تو یہ بیٹیاں اُس کے لیے جہنم سے روک بن جائیں گی۔‘‘ (المسنداک، جلد ۵) عورت نایاب ہے۔ اگرچہ وہ مرد کی طرح زور آور نہیں۔ شوخ بیان نہیں، لیکن مرد کی زندگی اسی عورت کے وجود سے مکمل ہوتی ہے۔ بقول اقبالؒ :
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اِسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

یہ بھی پڑھیں:   مرد مضبوط سائبان اور محافظ - اریشہ خان

اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام دیا ہے، اور اُسی مقام کی سچائی اور گواہی اقبال ؒ کے ہاں پائی جاتی ہے۔ اقبالؒ عورت کو دنیا کی لازم شے قرار رہے ہیں۔ اقبالؒ نے دنیا کی خوبصورتی کو عورت سے مشابہ کیا ہے۔ بس عورت کو چاہیے کہ مغربی تصورِ زن کے دھندلکوں سے نکل کر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے…اور اپنا وہ مقام تلاش کرے، جو اسلام نے عورت کو عطا کیا ہے۔