میرا پسندیدہ مصنف - عظیم الرحمن عثمانی

میں نے ابوالاعلی مودودی کی سحر انگیز تحریروں کو پڑھا ہے، میں نے ابوالکلام آزاد کی انشاء پردازی کا کمال دیکھا ہے۔ میں نے ڈاکٹر اسرار احمد کی نثر میں بھی ان کی گرج محسوس کی ہے۔ میں نے وحید الدین خان کی اصلاحی تحریروں کا حسن سراہا ہے۔ میں نے اشفاق احمد کے ناولوں سے محبت کو جذب کیا ہے۔، میں نے جون ایلیاء کے مضامین میں بغاوت کی کاٹ کو جھیلا ہے۔ میں نے قدرت اللہ شہاب کے قلم سے امڈتی مثبت لہروں کو اپنے وجود کا حصہ بنایا ہے۔ میں نے سعادت حسن منٹو کی عینک سے معاشرے کا تاریک چہرہ بھگتا ہے۔ میں نے غزالی سے تصوف کا سبق سمجھا ہے۔ میں نے ابن تیمیہ سے علمی تنقید کو سیکھا ہے۔ میں نے تقی عثمانی کی نثر سے اکابرین کی روایات کو جانا ہے۔ میں نے اقبال کے خطبات میں مذہبی فکر کی تعمیر نو کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے سرسید اور غلام احمد پرویز کے مضامین میں چھپی عقلیت پسندی کے سیلاب کا سامنا کیا ہے۔ میں نے جاوید غامدی اور ابن حزم کی تعبیرات کو سمجھا ہے۔

ایسے ہی ان گنت نام اور ہیں جنہیں میں نے پڑھا اور جن کے زور بیان کو محسوس کیا۔ مشرقی و مغربی کتنے علماء، فلاسفہ، حکماء کو اب تک پڑھا؟ سچ پوچھیے تو شاید اب یادداشت سے سب کا نام لکھ دینا ممکن ہی نہیں۔ مگر ایک بات ان سب میں مشترک تھی اور وہ یہ کہ اپنے اپنے منفرد انداز تحریر میں ان کو کمال حاصل تھا۔

مجھے خود پر حیرت ہے کہ اتنے زور بیاں رکھنے والوں کو پڑھنے کے بعد بھی جو مصنف مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، وہ تو اس کے اپنے بقول مصنف ہے ہی نہیں۔ اس کا نام "ممتاز مفتی" ہے۔ جو حقیقت میں نہ دانشوری کے اعتبار سے "ممتاز" تھا اور نہ ہی کسی بھی زاویے سے "مفتی" تھا۔ شاید ممتاز مفتی مجھے اس لیے پسند ہے کہ وہ کوئی پارسا نہیں بلکہ میری طرح گناہوں سے لتھڑا ایک کمزور انسان تھا۔ فرق اتنا ہے کہ اس میں اعتراف کی جرات ہے اور مجھ میں نہیں۔ میں فقط عمومی سچ بولتا ہوں جبکہ ممتاز مفتی اپنی ذات و کردار کے بارے میں سچ بولتا ہے۔ وہ کہانیاں سناتا ہے، افسانے بھی گھڑتا ہے مگر ان سب کے بیچ وہ ایسی سچائیوں کا بیان کرجاتا ہے، جو مجھ جیسے نام کے شرفاء کو اکثر گوارا نہیں ہوتی۔ عجیب شخص ہے یہ ! جس کی تحریر اپنی واہ واہ ہی نہیں چاہتی۔ بلکہ کئی بار تو اسے چوک پر برہنہ کھڑا کردیتی ہے۔ جس پر لوگ ہنستے ہیں اور کئی نفرت سے تھوک بھی دیتے ہیں۔

دوسروں کے متعلق سچ بولنا کون سی بڑی بات؟ مگر کوئی اپنے بارے میں اتنی سفاکی سے سچ کیسے بول سکتا ہے؟ بطور قاری کئی بار میں چیخ پڑتا ہوں کہ نہیں ممتاز! نہیں! خدا کے لیے اب مزید سچ نہ بولو۔ خود کو اتنا ذلیل نہ کرو۔ مگر وہ بےلاگ بولتا ہے۔ اس کا تعلق اپنے خدا سے بھی نرالا ہے۔ جو تقدس کی چادر میں لپٹا ہوا نہیں ہے، بلکہ ایک قلندر و مجذوب کی بے قرار صدا ہے۔ ورنہ کس ہوش مند کی جرات ہے؟ کہ وہ رب کعبہ کو اپنی تحریر میں کھلے عام عجب حالت جذب میں 'کالے کوٹھے والا' کہہ کر مخاطب کرے؟ اور پھر بھی مولوی کی تکفیر سے بچ نکلے؟ ان کے قریبی ترین دوستوں میں قدرت اللہ شہاب، ابن انشاء، اشفاق احمد اور واصف علی واصف جیسے بڑے روحانی لوگ شامل ہیں۔ شہاب صاحب کو ممتاز مفتی مرشد کی جگہ بھی دیتے تھے۔ ان سب کے نام کے بعد لوگ آج بھی رحمتہ اللہ علیہ کا لاحقہ لگا دیتے ہیں۔ اس حلقہ یاراں میں فقط ممتاز مفتی ہی وہ گنہگار نام ہے جو اس لاحقے سے محروم ہے۔ اور کیوں نہ محروم ہو کہ جب وہ ساری زندگی ہی ملامتی فرقے کا غیبی امام بن کر رہا۔ ممتاز مفتی سے نفرت کرنی ہو تو 'علی پور کا ایلی' پڑھیے۔ مگر جو کبھی ان سے محبت سیکھنی ہو تو 'لبیک'، 'تلاش' اور 'الکھ نگری' پڑھیے۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.