پارلیمنٹ میں اسرائیل سے دوستی کی باتیں - محمد مبشر بدر

تحریک انصاف کی ایم این اے عاصمہ حدید نے قومی اسمبلی میں اسرائیل کے تسلیم کرنے اور یہودیوں سے دوستی بڑہانے کی قراردار پیش کردی ہے۔ اور کہا کہ بیت اللہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور بیت المقدس یہودیوں کا تو یہاں پر مسلمانوں اور یہودیوں کی لڑائی ختم ہوجانی چاہیے۔ حضور علیہ السلام اور حضرت علی نے کہا کہ اپنے دشمن کو دوست بنالو اور آپ علیہ السلام نے بہترین بات یہ کی کہ آپ نے یہودیوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

قارئین ! جس بے باکانہ انداز میں پی ٹی آئی رہنما خاتون نے یہ بات قومی اسمبلی میں کہی ہے اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کہتے ہوئے زبان رک کیوں نہیں گئی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے خاموش کیوں نہی کرا دیا اور اراکین پارلیمنٹ نے مذمت کیوں نہ کی۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی مقدس پارلیمنٹ میں ایک غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنے کی ہمت آخر ان مرعوب ارکان کو کون دلاتا ہے؟ کون نہیں جانتا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کرکے ناجائز قبضہ کرکے قائم کی گئی ہے۔ یہود جن کی اسلام اور مسلمان دشمنی سے بچہ بچہ واقف ہے اور اللہ نے قرآن میں واضح آیات میں ان سے دوستی سے سختی سے روکا اور دھمکی دی ان کو دوست بنانے کی تجویز دینا اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا اور اللہ کے فیصلے کو چیلنج کرنا ہے۔ آقا علیہ السلام نے کبھی یہودیوں کے ساتھ کام نہیں کیا بلکہ ان سے جنگ بندی پر معاہدہ کیا تھا تاکہ مدینہ میں امن رہے لیکن یہودیوں نے نبی ﷺ سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا جس کے نتیجے میں آقا علیہ السلام نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ سے جنک کی اور ان کے بالغ مردوں کو قتل کروادیا اور بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا۔

یہود و نصاریٰ کا قبلہ اول بیت المقدس پر کوئی حق نہیں کیوں کہ مسیحیوں نے ۱۷ ہجری یعنی ۶۳۹ء میں ایک معاہدہ کے تحت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیت المقدس کی چابیاں تھما کر اسے مسلمانوں کے حوالے کردیا تھا اور یہ سب نصاریٰ کی رضا مندی سے بغیر جنگ کیے ہوا تھا جس کی بنا پر مسلمان اس کے حقیقی وارث بن گئے پھر ۱۰۹۹ء میں صلیبی جنگ میں یورپی مسیحیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا اور ستر ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا۔پھر ۱۱۸۷ء میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرایا۔ دسمبر ۱۹۱۷ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے اس پر قبضہ کرکے یہودیوں کے حوالے کردیا۔ یہ ایک ناجائز ریاست ہے جو ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے خون بہانے کے بعد قائم کی گئی ہے اس پر صرف مسلمانوں کا حق ہے جو دین حق کے پیروکار ہیں اور یہود و نصاریٰ اپنے اصل دین سے منحرف ہوچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی لگانے سے سختی سے منع کیا ہے اور قرآن میں صاف فرما دیا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿المائدہ۵۱﴾ ’’ اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   پون صدی کی لاحاصل جنگ - پروفیسر جمیل چودھری

علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے: فَذَكَرَ السُّدِّيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي رَجُلَيْنِ قَالَ أَحَدَهُمَا لِصَاحِبِهِ بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى ذَلِكَ الْيَهُودِيِّ فَآوِي إِلَيْهِ وَأَتَهَوَّدُ مَعَهُ، لَعَلَّهُ يَنْفَعُنِي إِذَا وَقَعَ أمر أو حدث حادث. وقال الآخر أما أنا فإني ذاهب إِلَى فُلَانٍ النَّصْرَانِيُّ بِالشَّامِ فَآوِي إِلَيْهِ وَأَتَنَصَّرُ معه، فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصارى أَوْلِياءَ الْآيَاتِ، (مجلد۳ ص۱۲۱) ترجمہ: ’’ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے ، دوسرے نے کہا ، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں ، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا ۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔‘‘

اس آیت میں کس قدر دھمکی دی گئی ہے کہ جو ان سے دوستی لگائے گا وہ انہیں میں سے شمار کیا جائے گا۔ اس قدر دھمکی کے باوجود ان سے تعلقات بنانے کے مطالبے کرنے والے اپنا یہودی ایجنٹ ہونا ثابت کر رہے ہیں۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿المائدہ ۵۷﴾ ’’مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں ( خواہ ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ( یہود اور نصاریٰ ) یا کفار ہوں اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو ۔‘‘

ان یہودیوں کا مسلمانوں سے بغض اور عناد کا عالم دیکھیے کہ خود خلاق عالم نے قرآن میں فرما دیا: لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ (المائده ۸۲) یعنی: ’’ یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔‘‘

ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا چاہیے کہ کیا اس کے بعد بھی یہودیوں سے دوستی لگائی جائے اور اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔؟ یقینا نہیں۔ یہودی ہمارے دشمن ہیں ان کے دلوں میں مسلمانوں کا اور پاکستان کا بغض دفن ہے وہ مسلمانوں کے قاتل اور بیت المقدس پر قابض ہیں۔ ان کا نہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بیت المقدس سے۔ ہم روزانہ نماز میں سورہ فاتحہ میں غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھ کر یہود و نصاریٰ کے راستے سے بچنے کی دعا کرتے ہیں المغضوب علیہم سے مراد یہودی اور الضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد موصوفہ کا وضاحتی بیان آیا ہے جس میں کوئی وضاحت نہیں پچھلی بات کو ہی دہرایا گیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی قومی اسمبلی میں ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کا داخل ہوکر اسلام دشمن بیانات کرنا اور اس پر اراکین پارلیمنٹ اور اسپیکر کا خاموش رہنا قابل مذمت ہے اور اس بات کا عکاس بھی کہ یہ سارے لیڈران دینی تعلیمات سے ناواقف اور نااہل ہیں جنہیں قرآن مقدس کی بنیادی تعلیمات کا بھی علم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت پہلے سے زیادہ خطرناک - ممتاز بھارتی صحافی ارون دھتی رائے سے انٹرویو

اراکان پارلیمنٹ کو اس بیان کا نوٹس لینا چاہیے، اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور جناب اسپیکر سے درخواست ہے کہ وہ فی الفور اس گفتگو کو کارروائی سے نکالیں اور آئیندہ کے لیے اراکان پارلیمنٹ کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ایسی متنازعہ اور مسلمانوں کے لیے تکیلف دہ گفتگو پر پابندی عائد کرے۔