کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

طلاق کے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی نئی تجاویز اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پر شائع کی گئیں۔ میں نے اور برادر محترم ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب نے ان تجاویز پر تنقیدی پوسٹس لکھیں۔ اس کے بعد کونسل کے سربراہ جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے، جو مجھ سے بڑی محبت رکھتے ہیں اور میں انھیں اپنے اساتذہ اور بزرگوں میں شمار کرتا ہوں، رابطہ کرکے ان پوسٹس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان سے یہی عرض کیا کہ اخبارات اور ویب سائٹس کے تنوع کے باوجود چونکہ سب خبروں میں یکسانیت تھی، اس لیے ان پر بھروسا نہ کرنے کی وجہ نہیں تھی، بالخصوص جبکہ کونسل ان خبروں کی اشاعت کے بعد خاموش رہی، اور اس نے ان کی تردید یا تصحیح کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بہرحال اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک انٹرویو میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا اور پھر کونسل کے سیکرٹری جناب ڈاکٹر اکرام الحق یاسین صاحب نے بھی وضاحتی خبر جاری کی۔ ان توضیحات کے بعد نہ صرف یہ کہ مجھے کونسل کے موقف پر اطمینان نہیں ہوسکا، بلکہ ان سے میرے مؤقف کو، جس کا میں نے اپنی پوسٹ میں اظہار کیا تھا، مزید تقویت ملی۔ ان توضیحات سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوا کہ کونسل کو اس سرخی پر اعتراض ہے کہ "اب خواتین بھی شوہروں کو طلاق دے سکیں گی۔" مؤدبانہ عرض ہے کہ میرا اعتراض اس سرخی پر تھا ہی نہیں، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اخبارات والے اپنے مخصوص صحافتی گر آزما کر اصل بات کو کس طرح کچھ اور بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ بات طلاقِ تفویض کی ہو رہی ہے جس کی رو سے عورت کو حق مل جاتا ہے کہ وہ نکاح کے رشتے کا خاتمہ کرسکے، اور میں ہمیشہ اپنے طلبہ کو بتاتا آیا ہوں کہ اس صورت میں بیوی شوہر کو نہیں بلکہ خود کو طلاق دیتی ہے۔

میرا اعتراض کیا تھا؟ پچھلی پوسٹ سے یہ اقتباس پڑھ لیجیے:
" بھارت میں مسلم فیملی لاز آرڈی نینس نامی قانون نہیں ہے۔ اس قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہاں تین طلاق مؤثر تھیں جن کو بھارت کی سپریم کورٹ نے دستور میں قرار دیے گئے حقوق سے متصادم قرار دیا۔ ہمارے ہاں ایک تو دستور کی اسلامیت کا دعوی ہے، دوسرے مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کی وجہ سے قانون کی نظر میں تین طلاق ویسے بھی غیر مؤثر ہیں۔ ایسے میں "طلاق نامے" کے متعلق مزید قانون سازی لغو عمل ہے۔ یہ قانون سازی اس صورت میں مفید ہوتی جب قانون تین طلاقوں کو مؤثر مانتا۔ جب قانون کی نظر میں تین کیا، ایک طلاق بھی اس وقت تک مؤثر نہیں جب تک مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کی دفعہ 7 میں مذکور طریقِ کار پر عمل نہ ہو تو پھر اس کار عبث کا فائدہ سواے تماشائیوں کو خوش کرنے کے اور کیا ہے؟"

ڈاکٹر صاحب نے اپنے وضاحتی انٹرویو میں اس بات پر گفتگو ہی نہیں کی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انٹرویو لینے والے نے اس بارے میں سوال ہی نہیں کیا، لیکن بہرحال ڈاکٹر صاحب کو اس اعتراض کا علم تھا اور اس کا جواب ضروری تھا کیونکہ اس کے بغیر اس ساری کاوش کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ جب قانون تین طلاقوں کو تو کیا، ایک طلاق کو بھی مؤثر نہیں مانتا تو ایسے میں تین طلاقوں پر مزید تجاویز دینے کا مطلب کیا ہے؟ یہی سوال "طلاقِ تفویض" کے بارے میں بھی ہے۔ قانون کی رو سے طریقہ یہ ہے کہ جب خاتون کو طلاق کا حق تفویض کیا جائے اور وہ اس حق کا استعمال کرے تو دفعہ 7 کے تحت نوٹس دینا اب اس کی ذمہ داری ہوجاتی ہے اور اس کے بعد اس طلاق کو مؤثر ہونے کےلیے کم از کم 90 دن اسے انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ نکاح نامے میں ترامیم کرکے شوہر کی مرضی سے طلاق کا حق لازماً بیوی کو تفویض کر بھی دیں اور بیوی بعد میں اس حق کا استعمال کربھی لے تو اسےنوٹس دینے کی کارروائی کرنی ہوگی اور اس کے بعد بھی اس طلاق کے مؤثر ہونے کےلیے اسے 90 دن تو انتظار کرنا پڑے گا۔ پھر آپ نے کیسے اسے جلدی جان چھڑانے کا موقع فراہم کیا؟

یہ بھی پڑھیں:   ہے کسی مرد کے پاس میرے سوال کا جواب؟ مدیحہ ریاض

یہ وہ سوال تھا جو پچھلی پوسٹ میں ہم ان الفاظ میں ذکر کیا تھا: " کہا جاتا ہے کہ مرد تو طلاق دے کر فوراً چھوٹ جاتا ہے جبکہ عورت کو خلع لینے کےلیے عدالت کے لمبے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہ دعوی کئی غلط مفروضات اور قانون کے متعلق عدم علم پر قائم ہے۔ ایک تو مرد طلاق کے بعد فوراً چھوٹ نہیں جاتا بلکہ قانون کی رو سے اسے دفعہ 7 کے تحت پوری کارروائی کرنی پڑتی ہے جس میں کم از کم تین ماہ لگتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ کئی سال بلکہ عشرے بھی لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 1993ء میں کنیز فاطمہ کیس میں قرار دیا تھا کہ جب تک شوہر یہ کارروائی پوری نہ کرے طلاق بدستور غیرمؤثر رہے گی، حالانکہ طلاق 1978ء میں باہمی سمجھوتے کے بعد دی جاچکی تھی!
دوسرے ، مشرف دور میں فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10 میں ترمیم کرکے عدالت پر لازم کیا گیا ہے (قانون میں shall کا لفظ ہے جو وجوب کےلیے آتا ہے) کہ خلع کی درخواست پر پہلی سماعت میں ہی اگر میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش ناکام ہوجائے تو عدالت نے فی الفور (forthwith) تنسیخِ نکاح کا حکم جاری کرنا ہے۔ اس ترمیم کے بعد سے اب گویا "آٹو میٹک خلع" کا طریق کار قانون نے دے دیا ہے۔ اس کے بعد تفویضِ طلاق کے متعلق مزید قانون سازی کی ضرورت یا فائدہ کیا ہے؟"

اب خود ہی سوچیے کہ فیملی کورٹس ایکٹ میں اس ترمیم کے بعد خاتون کےلیے جان چھڑانے کا آسان طریقہ "عدالتی آٹومیٹک خلع" ہے جو ایک سماعت میں اسے دستیاب ہوگا یا طلاقِ تفویض کا جس کےلیے اسے کم از کم 90 دن انتظار کرنا ہوگا؟ چنانچہ اگر کونسل طلاقِ تفویض والی ترمیم تجویز کرنا ہی چاہتی ہے تو اس کے مؤثر ہونے کےلیے ضروری یہ ہے کہ پہلے عائلی قوانین کی دفعات 7 اور 8 کو منسوخ کیا جائے۔ ان دفعات کی موجودگی میں طلاقِ تفویض کا خاتون کو کوئی فائدہ نہیں ہے، بالخصوص جبکہ فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10، ذیلی دفعہ 4، میں ترمیم کرکے عدالتی خلع کو انتہائی آسان بنادیا گیا ہے۔ اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ شوہر کی رضا کے بغیر عدالتی خلع کو علماے کرام غیر شرعی کہتے ہیں جبکہ طلاقِ تفویض کے ذریعے واقع ہونے والی طلاق کو علماے کرام مانتے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ کونسل نے علماے کرام کی راے کو دیکھنا ہے یا پاکستان کے قانون کے تحت معاملے کی جو پوزیشن ہے، اسے مد نظر رکھنا ہے؟

اگر پاکستانی قانون کی رو سے دیکھیں تو ان دونوں امور کے متعلق پوزیشن یہ ہے:
1۔ عدالت کی جانب سے خلع کے ذریعے نکاح ختم ہوجاتا ہے خواہ شوہر راضی ہو یا نہ ہو اور خواہ علماے کرام اسے مانیں یا نہ مانیں؛ اور اس صورت میں عدالت کے فیصلے کے ساتھ ہی نکاح ختم ہوجاتا ہے اور طلاقِ بائن مؤثر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ مرد اب اس عورت کو نہیں روک سکتا، الا یہ کہ عورت اپنی مرضی سے اس کے ساتھ نئے نکاح (اور نئے مہر) پر آمادہ ہو۔ 2۔ طلاقِ تفویض کی صورت میں عورت کی جانب سے طلاق کہہ دینے کے باوجود طلاق مؤثر نہیں ہوتی، خواہ اس پر کئی سال گزر جائیں، جب تک عورت اس فعل کے متعلق یونین کونسل کے چیئرمین کو نوٹس نہ دے، اس کی کاپی شوہر کو نہ بھیجے، اور چیئرمین کو نوٹس موصول ہوچکنے کے بعد نوے دن گزر نہ جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی نظریاتی کونسل کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اگر اس معاملے کو علماے کرام کی راے کی روشنی میں دیکھنا ہے تو ان دو امور کے متعلق پوزیشن یہ ہے:
1۔ عدالتی خلع کی کوئی حیثیت نہیں جب تک شوہر اس پر راضی نہ ہو؛ 2۔ طلاقِ تفویض فوراً مؤثر ہوجاتی ہے اور اگر عورت کو طلاقِ بائن کا حق دیا گیا تھا تو اب شوہر کےلیے رجوع ممکن نہیں جب تک عورت اس کے ساتھ نئے نکاح پر راضی نہ ہو۔ کونسل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان میں سے ایک امر میں پاکستانی قانون کو لے رہی ہے اور دوسرے امر میں علماے کرام کی راے لے رہی ہے اور وہ بھی ادھوری۔

بھلا وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ علماے کرام طلاقِ تفویض کے فوری نفاذ کے تو قائل ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ یہ حق ہر خاتون کو مطلقاً بغیر کسی شرط کے دیا جائے کیونکہ ان کی راے میں اس طرح نکاح کے ادارے کو زیادہ نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔ دور کیوں جائیں؟ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی الحیلۃ الناجزۃ ہی پڑھ لیجیے کہ کیسے وہ ایک جانب طلاقِ تفویض کو کئی مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن ساتھ ہی دوسری طرف اس سے متوقع مفاسد کی روک تھام کی فکر کرتے ہیں؟ علماے کرام کے ان خدشات کا علم ڈاکٹر صاحب کو بھی ہے اور اس کا اعتراف وہ انٹرویو میں کرتے بھی ہیں لیکن وہ بڑی آسانی سے ان خدشات کو پرے دھکیل دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب میں نے پچھلی پوسٹ میں یہ دیا تھا اور ڈاکٹر صاحب کے انٹرویو کو سننے کے بعد میں اپنے اس جواب پر مطمئن ہوں: "اصل مسئلہ یہ ہے کہ "حقوقِ انسانی" کے تقاضوں کی رو سے مرد اور عورت میں "مساوات" یقینی بنانا پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے کیونکہ اس نے "خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے" کی توثیق کی ہے جس کی دفعہ 16 کے تحت مرد اور عورت کو نکاح اور طلاق کا حق یکساں ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے دو طریقے ہیں: یا تو مرد کے حق طلاق کو اسی طرح عدالت کی مرضی پر معلق کیا جائے جیسا کہ عورت کا "حق خلع" ہے؛ یا عورت کو اسی طرح عدالت کی جھنجھٹ میں پڑے بغیر خود کو الگ کرنے کا حق ہو جیسا کہ مرد کو ہے۔ پہلی تجویز خواتین کے حقوق کے علمبرداروں نے صراحتا دی ہے۔ مثال کے طور پر بیگم رشیدہ پٹیل کی کتاب "عورت بنام مرد" (آکسفرڈ) ملاحظہ کیجیے۔ اس تجویز کے مسترد ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ اس لیے کونسل نے دوسری تجویز کا رخ کیا ہے۔"

پس نوشت: میں ڈاکٹر صاحب سے دلی محبت رکھتا ہوں لیکن شرعی مسئلے میں ان کی راے سے اختلاف کو چھپا کر مداہنت کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔ اللہ گواہ ہے کہ یہ سطور خیرخواہی کے جذبے سے نیک نیتی کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت ، و ماتوفیقی الا باللہ، علیہ توکلت ، و الیہ انیب۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.