ٹینشن لینے کا نہیں - ام عمار

یہ جملہ ہمارے کانوں کو اکثر و پیشتر سننے کو ملتا ہے اور واقعی پہلی بار میں تو بڑا دلچسپ محسوس ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ بتانے والے نے واقعی بڑی پتے کی بات بتا دی ہے کہ بھئی کوئی پریشانی کوئی ٹینشن اپنے اوپر سوارکرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دوسروں کو خوب ٹینشن دو اور اپنی لائف انجوائے کرو، یعنی بڑا سادہ سا معصوم سا جملہ ہے جو آپ سے ہمدردی کرنے والا آپ کو سمجھا رہا ہے۔ لیکن جب اس جملے پہ غور کیا جائے تو اچھاخاصہ آتش گیر جملہ ہے جو آپ کی اور آپ سے متعلق لوگوں کی زندگی جہنم بنا سکتا ہے۔

ذرا سوچیے تو آپ کو کوئی تکلیف ہے، کوئی دکھ کوئی پریشانی ہے اور آپ ٹینشن میں ہیں، پریشان نظر آرہے ہیں، اور آپ کا کوئی ہمدرد آئے اور آپ کو اس مفید مشورہ سے نوازے کہ چلو تم کیوں ٹینشن لیتے ہو، جاؤ جا کے ان کی زندگی حرام کرو جن کی وجہ سے یہ تکلیف آئی ہے۔ یا اگر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، چلو کسی اور کو پریشان کرو تاکہ اپنی پریشان بھول جاؤ۔ اور ہلکے پھلکے ریلکس ہو کر مزے کرو۔ لیکن اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں سب سے زیادہ پریشانی اور بے سکونی کا شکار وہ لوگ نظر آئیں گے جو دوسروں میں پریشانیاں بانٹتے پھرتے ہیں اور خود ان کی زبان پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ میرے ساتھ فلاں نے یہ کر دیا اور فلاں نے وہ کردیا، یا پھر یہ جملہ بھی اکثر دہراتے نظر آتے ہیں کہ میرے ہی ساتھ سب برا کرتے ہیں۔

اگر ہم ذرا بڑے اسکیل پہ اس اصول کو رکھ کر چیک کریں کہ کتنا کارآمد ہے تو ہم اپنے حکمرانوں کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں صاف نظر آئے گا کہ عوام کا سکھ چین چھین کہ انہیں ٹینشن پہ ٹینشن دینے سے ان کی اپنی زندگی خود کتنے عذاب میں ہوتی ہے۔ کہیں بے فکری سے جا بھی نہیں سکتے ہیں، اگر کہیں جانا ہوتا ہے تو پورا راستہ ایسے کلئیر کروایا جاتا ہے کہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے اور درجنوں گاڑیوں کے جھرمٹ میں تیزی سے جانوں کا خوف دل میں دبائے گزرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بیچارے سکون آور گولیاں کھائے بغیر سو بھی نہیں سکتے۔ کیا فائدہ اتنی مال ودولت اور شہرت کا جوسکون کی نیند بھی نہ دے سکے۔

اب ذرا دیکھیں کہ زندگی دینے والے نے تو زندگی سے ٹیشن دور کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ بتایا ہے کہ اگر انسان دوسروں کی مشکلات اور پریشانیاں دور کرنے میں لگ جاتا ہے تو اس کا رب اس کی مشکلات اور پریشانی دور کر دیتا ہے، اس کے راستے کے کانٹے صاف کردیتا ہے۔ اس کی مثال بھی ہمیں اپنے آس پاس سے مل سکتی ہے، ایسے لوگ جو دوسروں کے مسائل حل کرنے کی دوڑ دھوپ میں لگے ہوتے ہیں، جب بھی ان سے ان کی زندگی کا احوال پوچھیں تو وہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں مشکلات ہوتی ہی نہیں، مگر اللہ ان کی مشکل کو بھی ان کے لیے آسان بنا دیتا ہے، اور ساتھ ہی جن پہ وہ احسانات کرتے ہیں، وہ لوگ بھی مدد کے لیے آجاتے ہیں، اگر کچھ بھی نہیں تو دل جوئی کرنے والے کافی ساتھی میسر آجاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کی مشکل کو ٹینشن نہیں بننے دیتیں۔

کچھ دنوں پہلے ایک ڈاکومینٹری پروگرام دیکھا تھا، اس میں ڈپریشن سے بچنے اور اسے دور کرنے کے لیے ایک ریسرچ کا حوالہ دیا گیا تھا کہ اگر آپ اپنے اوقات میں سے کچھ وقت صرف دوسروں کی مدد کرنے، ان کی پریشانیاں دور کرنے میں صرف کریں گے تو آپ خود ڈپریشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ جب ہم صحابہ کی مثالیں دیکھتے ہیں تو یہ بات ان کی زندگیوں سے ثابت شدہ ہے۔ دور فاروقی کا وہ واقعہ تو آپ نے ضرور ہی سنا ہوگا کہ جب حضرت عمر فاروق بہت بڑی اسلامی سلطنت کےحکمران تھے تو دوسری مملکت سے ایک وفد آپ سے ملنے آیا تو دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ ایک درخت کے نیچے ایک پتھر کو تکیہ بنائے سکون سے سورہے ہیں۔ تو یہ پتھر کے تکیہ پہ سکون کی نیند اس وجہ سے آ جاتی تھی کہ انہوں نے پوری مملکت کے لوگوں کی زندگیوں سے پریشانی اور مشکلات دور کرنے میں کرنے کا بیڑہ جو اٹھایا ہوا تھا۔

بس جتنا بھی غور کریں، یہی پتا چلتا ہے کے کبھی کسی کو دکھ یا مصیبت دے کے بندہ خود چین سے نہیں رہ سکتا۔ انسان کے سکون و چین کو تو اللہ نے دوسروں کو عطا کرنے سے مشروط کردیا ہے، اب بندہ کچھ بھی کر لے سکھ چین کے حصول کا تو صرف یہی ایک سیدھا راستہ ہے، جس کے ذریعے اللہ بھی راضی ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بندہ جن لوگوں کی ٹیشن دور کرتا ہے، وہ بھی اس کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ یعنی ڈبل فائدے اور ایک تیر سے دو شکار۔ تو بھئی ہمارا تو سادہ سا اصول ہے کہ نہ ٹیشن لینے کا نہ ہی ٹیشن دینے کا بس دوسروں کی ٹیشن دور کرکے لائف انجوائے کرنے کا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */