شعور کے مراحل اور کامیابی کا راستہ - سید قاسم علی شاہ

جس طرح انسان کے پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، اسی طرح شعور بھی وقت کے ساتھ ساتھ مختلف مراحل طے کرتا ہے۔ شعور کا پہلا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے حواسِ خمسہ کو استعمال کر کے اس دنیاکو دیکھتا ہے اور نتیجہ اخذکرتا ہے۔ انسان کے اندر سے جیسے بلوغت پھوٹتی ہے، ویسے ہی شعور پھوٹتا ہے۔ انسان کی زندگی اس دن شروع ہوتی ہے جس دن شعور اس کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اچھی قسمت یہ ہوتی ہے کہ شعور موروثی طور پر اچھا مل جائے۔ بعض اوقات انسان پر ایسی ذمے داریاں پڑ تی ہیں کہ شعور بلند ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات وقت سے پہلے انسان کی مجلس اتنی سنجیدہ ہوتی ہے کہ شعور بلند ہوجاتا ہے۔ کبھی بھی غیر فطری طریقے سے شعور نہیں آنا چاہیے۔ ہمیشہ فطری طریقے سے شعور کی بہتری ہونی چاہیے۔ یہ خیال آئے کہ کتابیں پڑھنی چاہییں، یہ خیال آئے کہ اچھی مجلس میں جاناچاہیے۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ شعور بلند ہو رہا ہے۔ اگر چھوٹی عمر میں سنجیدہ مسئلوں پرغور و خوض ہوتا ہے تو پھر یہ خوش نصیبی کی بات ہے۔ اگر ڈائری میں چیزیں نوٹ ہو رہی ہیں تویہ خوش قسمتی ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ نے صدیوں کا فاصلہ طے کر لیا ہے، کیونکہ جو لوگ زیادہ وقت میں بہت تھوڑا کام بھی نہیں کر سکتے، وہ کام آپ نے تھوڑے وقت میں کر لیا ہے۔

بعض لوگ بڑی عمر میں ہونے کے باوجود دو روپے کی خاطر لڑتے نظر آتے ہیں، پتا لگے گا کہ شعور نہیں ہے۔ بعض لوگ کم عمری میں ہی فطانت کامظاہرہ کرتے ہیں، پتا چلے گا کہ ان میں شعور ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ ’’کسی کے بڑے بڑے کاموں کو نہ دیکھو، ہمیشہ دیکھو کہ وہ چھوٹے چھوٹے کام کیسے کرتا ہے۔‘‘ انسان کے شعور کی پہچان چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہوتی ہے۔ جو شخص چھوٹے چھوٹے کاموں میں احتیاط نہیں کرتا، وہ بڑا انسان نہیں ہے۔ ایک بزرگ نے آم کھائے اور اس کے چھلکے لپیٹ کر دور کسی دوسری جگہ جاکر پھینک دیے۔ کسی نے پوچھا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا کہ اس گلی کے غریب رہائشی جب ان چھلکوں کو دیکھیں گے تو اُن کے دل میں آئے گا کہ کاش ہم بھی کھاتے۔ میں نے یہ عمل ان کو اس دکھ سے بچانے کے لیے کیا ہے۔ یہ شعور کی بلندی ہے۔ مشاہدہ سے شعور میں بہتری آتی ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں، کسی جگہ سے میرا گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک شہزادی اپنی نوکرانی کو مار رہی ہے۔ وقت گزر گیا۔ کئی سال بعد پھر اسی علاقے سے گزر ہوا تو دیکھا وہاں ایک قبرستان تھا، جہاں پر ایک قبر کھلی ہوئی تھی۔ اس میں ایک کھوپڑی نظر آرہی تھی۔ کھوپڑی کی آنکھ میں چڑیا کا بچہ تھا۔ وہ اپنا منہ نکالتا، چڑیا اس کے منہ میں دانہ ڈال دیتی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ اے مالک، اگر تو نے یہ دکھایا ہے تو پھرضرور کوئی وجہ ہے۔ اس کے بعد بابا جیؒ مراقبے میں چلے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اس شہزادی کا واقعہ سامنے آگیا کہ نوکرانی نے سرمہ پیسا تھا اور اس سرمے میں ریڑکن رہ گئی تھی۔ جب نوکرانی نے شہزادی کی آنکھ میں وہ سرمہ لگایا تو آنکھ میں ریڑکن برداشت نہ ہوسکی۔ شہزادی نے کوڑا اٹھایا اور نوکرانی کو مارنا شروع کر دیا۔ پھر باباجی فرماتے ہیں، جب میں نے آگے جا کر دیکھا تو کھوپڑی اسی شہزادی کی تھی۔ میں نے اپنے اللہ تعالیٰ کے حضور کہا کہ اے میرے مالک، جو آنکھ ریڑکن برداشت نہیں کر سکی ، آج وہ ایک چڑیا کی چونچ برداشت کر رہی ہے۔ یہ ہے، مشاہدہ!

یہ بھی پڑھیں:   مستقل مزاجی کامیابی کی ضمانت - محمد عنصر عثمانی

بے شمار لوگ ناکام ہو رہے ہیں۔ سمجھداری یہ ہے کہ ناکام لوگوں کی غلطیوں سے سیکھاجائے تاکہ ناکامی کاسامنا نہ کرنا پڑے، یہ مشاہدہ ہے۔ ایک غلطی میں بڑے سبق ہوتے ہیں۔ سمجھ دار وہ ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، جبکہ زیادہ سمجھ دار وہ ہوتا ہے جو دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ جب بندہ مشاہدہ کرنے والا بن جاتا ہے، پھر دنیا کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ پھر ہر چیز بولتی ہے، ہر چیز بتاتی ہے، ہر چیز سمجھاتی ہے۔ پہاڑ اپنی عظمت بتاتا ہے کہ میں کھڑا ہوں، مجھے جس نے کھڑا کیا ہے اس کھڑا کرنے والے کو دیکھو۔ صوفیا کرام مسافر ہوتے ہیں۔ سفرکے دوران وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ والا اگرجنگل میں بھی ڈیرہ لگا لے تو پگڈنڈیاں خود بن جایا کرتی ہیں۔ شعور کی بہتری میں علم کا بہت زیادہ کردار ہوتا ہے۔

سید سرفراز شاہ صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک شخص نے جنگل میں چلہ کاٹا۔ کئی دن کی ریاضت تھی۔ اس کے استاد نے اس سے کہا تھا کہ جب تمہارا چلہ مکمل ہوگا اور تم جنگل سے باہر آؤ گے تو تمہیں ایک فرشتہ ملے گا اور وہ فرشتہ پوچھے گا کہ تمھیں کیا چاہیے۔ تم اس وقت اس سے علم مانگ لینا۔ جب اس کا چلہ مکمل ہو ا اور وہ جنگل سے باہر آیا تو اسے فرشتہ ملا۔ اس نے کہا، آپ نے اتنی ریاضت کی ہے، حکم کریں میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔ اس شخص نے سوچا، اس وقت میرا نفس جو تقاضا کر رہا ہے وہ کچھ اور ہے، جبکہ جو مجھے کہا گیا ہے وہ کچھ اور ہے۔ اس نے نفس کی خواہش کے بجائے علم مانگ لیا۔ اس نے علم دے دیا اوروہ علم لے کر اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ایک بستی آگئی۔ رات ہو چکی تھی، اس نے ایک دروازے پر دستک دی اور گھر والوں کو کہا کہ میں مسافر ہوں، مجھے ایک رات کے لیے اپنے ہاں ٹھہرا لیں۔ انھوں نے اسے ٹھہرا لیا۔ رات کا جب پچھلا پہر ہوا تو اس نے رونے اور آہ و بکا کی آوازسنی۔ وہ اٹھا اور دروازہ کھولا تو دیکھا کہ چارپائی پر کوئی میت کے انداز میں لیٹا ہوا ہے اور لوگ اسے لے جا رہے ہیں۔ اس نے گھر کے میزبان سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جواب ملا کہ یہ اس علاقے کے سردار کا بیٹا ہے۔ یہ بیمار ہے، مرا نہیں ہے، لیکن یہاں پر یہ رواج ہے کہ جب بھی کوئی اتنی تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کو لے کر پورا گاؤں پھرتے ہیں کہ ہے کوئی ایسا جو اس کے لیے کچھ کر سکے اور اس کی مشکل آسان ہو جائے۔ وہ چو نکہ علم والا تھا، کہنے لگا، بات سنو، تمھار ے گاؤں کے باہر ایک جڑی بوٹی ہے، اسے لاؤ اور اسے پیس کر اس کے منہ میں ڈالو، یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ حسب ہدایت وہ جڑی بوٹی لائی گئی، اسے پیس کر اس کے منہ میں ڈالا گیا اور وہ لڑکا ٹھیک ہوگیا۔ چند دن بعد اس قبیلے پر دوسرے قبیلے کا حملہ ہوا۔ علم والا دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے قبیلے والوں کو مشورہ دیا کہ آپ فلاں حربہ استعمال کریں گے تو جنگ جیت جائیں گے۔ انھوں نے وہی حربہ استعمال کیا اور جنگ جیت لی۔ جنگ جیتنے کے بعد قبیلے کے سردار نے اسے بلایا اور کہا کہ آج سے اس قبیلے کے سربراہ تم ہو۔ جیسے ہی وہ سردار بنا، اسے اپنے استاد کی بات یاد آگئی کہ اگر میں بادشاہت قبول کرتا تو شاید علم رہ جاتا۔ میں نے علم کا انتخاب کیا اور بادشاہت میرے قدموں میں آگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا زندگی جینا مشکل لگ رہا ہے؟ 5 آزمودہ باتیں - میاں جمشید

انسان کا کسی دوسرے انسان سے مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کامقابلہ اپنی ذات کے ساتھ ہوتا ہے۔ اپنی ذات کے خلاف کامیابی ہی اصل کامیابی ہے اور یہ کامیابی شعور سے حاصل ہوتی ہے۔