دیسی لبرل کے خدوخال اور علامات - جویریہ صدیق

آج ہم جعلی سستے دیسی لبرلز کے خدوخال پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ لوگ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ اس پر تفصیل سے بات ہوگی۔

دیسی لبرل گورا کمپلکس کا مارا ہوا ہے، اس کو اندر ہی اندر اپنے ماں باپ اور گندمی رنگت پر شدید غصہ ہے۔ رنگ تو خیر فیئر اینڈ لولی سے گورا کر لیتے ہیں لیکن شناحت تبدیل کرنا قدرے مشکل کام ہے، اس کے لیے لباس بول چال اور نک نیم رکھ کر کام چلایا جاتا ہے۔ رب نواز، کریم بخش، درخشاں، عابدہ سے پومی، موتی، سونی، سویٹی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان میں غریبوں کے ساتھ تصاویر بنانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، بار بار سوشل میڈیا پر بولتے ہیں اوگاڈ پاکستان کیوں بنایا؟ اس کے لیے کہ لوگ یہاں غریب ہوں۔ پاکستان بھارت اگر ایک ملک ہوتا تو ان کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا۔ غریب عوام کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر خود کو سماجی کارکن کہا جاتا ہے۔ اگلے ٹرپ میں دیسی لبرل ان غریب عوام کے لیے کچھ پرانے کپڑے اور سستے برانڈ کے جوس بانٹ کر تصاویر ڈونرز کو بھیج دیتے ہیں، ان کے نام پر امداد بھی سمیٹ لیتے ہیں، ایوارڈ بھی اور فارن ٹرپ بھی۔

کچھ لوگ جنھیں کہیں سے بھی توجہ نہیں مل رہی ہوتی، وہ یکدم بہت ساری فوٹو شاپ تصاویر اٹھا کر سوشل میڈیا پر بین ڈال دیتے ہیں۔ دیکھو! بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں زیادتی ہو رہی ہے۔ نیچے لوگ آ کر اصلی تصاویر بھی لگا دیں، لیکن یہ جھوٹا پروپیگنڈا پورے زور سے کرتے ہیں، پھر آپ کچھ عرصے بعد دیکھتے ہیں کہ لوکیشن میں یورپ یا امریکا لکھا نظر آتا ہے۔ دیسی لبرل صبح شام فوج اور آئی ایس آئی کا ورد کرتے ہیں، ان کا دودھ والا دودھ میں پانی ملائے یا ان کے گھر کی چھت ٹپکنے لگے، اس کا الزام فوری طور پر فوج پر لگ جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی دیسی لبرل دو دن ٹویٹ نہ کرے تو شور ڈالتے ہیں کہ فلاں سماجی کارکن اغواء ہوگیا، چاہے وہ کسی مشروب کے زیر اثر مست پڑا ہو۔

یاد رکھیں سارے دیسی لبرل اپنی ذات میں دانشور، کالم نگار، سماجی کارکن اور آزادی رائے کے خودساختہ چمپیئن ہیں، لیکن اگر آپ ان کے ساتھ بحث کریں تو یہ علاقائی زبانوں کی گالیوں کا کھلا استعمال کریں گے اور اگر آپ جواب دیں تو یہ انگریزی میں ریپلائی لکھ کر دس اداروں اور سفارت خانوں کو ٹیگ کرکے کہیں گے کہ یہ دہشت گرد مجھے دھمکا رہا ہے۔ دیسی لبرل جب تک ملک میں ہوتا تو صرف فوج عدلیہ کے خلاف ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی باہر نوکری ویزا یا اسائلم مل جائے تو اس کے منہ سے جھاگ نکالنا شروع ہو جاتی ہے، اور یہ مذہب کو متنازع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دیسی لبرل ہر حکومت کا ہم نوالہ ہم پیالہ بن جاتا ہے اور کرپشن کو کھل کر سپورٹ کرتا ہے۔ ان کے نزدیک آمریت کی کرپشن حرام اور جہموریت کی کرپشن حلال ہے۔ ہر دیسی لبرل کی کوئی نہ کوئی تنظیم یا این جی او ضرور ہوتی ہے جس سے وہ صرف پاکستان کے منفی پہلو سامنے لے کر آتا ہے۔ لنڈے کا لبرل پاکستان کی اکثریت کو دہشت گرد گردانتا ہے اور اقلیت کے مسائل کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حادثات اور سانحات کی صورت میں انھیں لسانی اور فرقہ وارنہ رنگ دینے کہ کوشش کرتا ہے۔ دیسی لبرل پاکستان دشمنوں کو کھل کر سپورٹ کرتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ملک کے لیے کسی اچھے کام آغاز ہو، یہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔ حال میں ہم نے دیکھا کہ یہ کالا باغ ڈیم کے بعد دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بھی مخالف بن گئے۔ آرٹیکل لکھ رہے ہیں، ٹویٹس کر رہے ہیں، بال نوچ رہے ہیں، ڈیم مت بناؤ۔ یہاں تک کہ درخت لگانے تک کے مخالف ہوگئے۔

اگر کسی پرو پاکستانی صحافی کو مشکل پیش آئے تو دیسی لبرل منہ پر ٹیپ لگا لیتے ہیں لیکن کسی آوارہ اور پاکستان مخالف ٹرول کو کانٹا بھی چبھ جائے تو کرہ ارض کے ہر بڑے اخبار کی سرخی لگ جاتی ہے اس فسادی کو کالم نگار اور آزادی کا متوالا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک طرف جعلی لبرلز اور دیسی فیمنسٹ کہتی ہیں کہ ہمارا جسم ہماری مرضی، دوسری طرف خاتون اول کے پردے کا مذاق اڑاتی ہیں۔‏ طنز و مزاح کے نام پر دیسی لبرلز کے پاس ہر کسی کا مذاق اڑانے کا لائسنس ہے اور اگر کوئی انھیں کوئی جواب دے تو می ٹو ہوجاتا ہے اور آزادی صحافت خطرے میں آجاتی ہے۔

‏دوسرے ملکوں کی شہریت لے کر بیٹھے ہوئے جعلی لبرل پاکستان کے خلاف دن رات ٹویٹ کرسکتے ہیں لیکن اسلام آباد کراچی میں بیٹھے لوگ ملکی معاملات پر بات نہ کریں۔
رینٹ اے لبرل اور لنڈے کے دانشور وقت کے ساتھ وفاداری بدل لیتے ہیں اور اپنی منافقانہ صلاحیتوں اور خوشامدی رویے سے آہستہ آہستہ اپنے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے: ''مجھے ڈالر دکھا اور پاکستان کے خلاف لکھوا۔''

رینٹ اے لبرل مافیا کو پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ سے اختلاف ہے، اسے آئین کی اسلامی شقوں سے اختلاف ہے۔ اتنے خونی لبرل آپ نے دنیا میں نہیں دیکھے ہوں گے جتنے پاکستان میں ہیں اور اصلی بھی نہیں دونمبر۔ پاکستانی جعلی دیسی لبرل جب اپنے ماں باپ کے گھر پیدا ہوا تو نرس نے افسوس سے کہا کہ آپ کے گھر دھوکے بازی اور غداری پیدا ہوئی ہے