بہن کے گھر نہ جانے کے بہانے - آفاق احمد

بھائی نے شادی شدہ بہن کے گھر جانا ہو توکیسی کیسی سوچیں دماغ پر دستک دیتی ہیں۔ کچھ ساتھ لے کر جانا چاہیے، اب اتنے روپے کا تو ہونا چاہیے۔ وہاں زیادہ رُکوں گا نہیں، بہن کھانے کے چکر میں نہ پڑ جائے، ایسے وقت جانا چاہیے کہ محض ٹھنڈا یا چائے ہوجائے، کھانے کا وقت نہ ہو۔ اگرگیا تو بھانجے بھانجیوں کو بھی کچھ دینا چاہیے، اب کم از کم اِتنا تو فی کس ہونا چاہیے۔ یہ سب ملا کرتو اِتنا زیادہ خرچہ بن گیا، آج کل تو حالات بھی اتنے مستحکم نہیں، جیب بھی کمزور ہے۔ بہتر ہے کہ نہیں جاتا، کہہ دوں گا کہ اس دفعہ جلدی ہے، واپس پہنچنا ہے، اگلی دفعہ سہی ان شاء اللہ۔ بس یہ ٹھیک ہے۔

آج کل یہ جمع تفریق کافی عام ہوچکی ہے اور اِس جمع تفریق میں حقیقت میں کیا نفی ہوجاتا ہے؟ ملاقات، ایک دوسرے سے مل لینا، ایک ماں باپ کی اولاد کا ایک دوسرے میں ماں باپ کا عکس دیکھ لینا۔ بہنوں کے چمکتے دمکتے چہرے دیکھنے والے ہوتے ہیں جب وہ بھائی سے مل رہی ہوتی ہیں، اُن کے چہرے کی رونق قابلِ دید ہوتی ہے۔ اور جب بھائی قریب پہنچ کر، اُسی شہر میں پہنچ کر بھی نہ آنے کا کوئی عذر بتا دے تو ایک دم خاموش سی ہوجایا کرتی ہیں۔ کبھی تو عُذر ممکن ہے لیکن ہر دفعہ یا زیادہ تر کیسے ممکن ہے؟ یہ نارمل حالات کے گھرانوں کی بات کررہا ہوں۔

اب ایک چیز ہے حقیقی اور باقی چیزیں ہیں ثانوی۔ ثانوی کے پیچھے حقیقی چھوڑ دینا دانشمندی ہے؟ اِتنا تعین کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ اِتنا کچھ ہو تو جانا ہے۔ جاتے ہوئے جتنی حیثیت ہے، اُس کے مطابق ہدیہ لے جائیں، اصل تحفہ تو ملاقات ہے، ملنا ہے، محبت ہے، باتیں ہیں، وقت دینا ہے، مالی ہدایہ تو ثانوی ہیں۔ تکلفات کے پیچھے محبت کی ملاقات چھوڑ دینا درست طرزِ عمل نہیں۔ یہ طرز، یہ سوچوں کی جمع تفریق بڑھتی ہی جارہی ہے۔ جب تک ماں باپ زندہ ہوں تو بطورِ خاص تلقین کردیتے ہیں کہ بہن سے ضرور مل کر آنا لیکن ماں باپ کی وفات کی صورت بھائیوں کی جمع تفریق بہت زیادہ بڑھ جایا کرتی ہے۔

کیا یہ ذمہ داری سے فرار تو نہیں؟ کیا یہ آنکھیں بند کرنا تو نہیں؟ کیا یہ رفتہ رفتہ بے حسی کا عادی تو نہیں بنا دے گی؟ گھر کے قریب یا شہر کے قریب پہنچ کر نہ ملنا دکھ دینا تو نہیں؟ ہم مرد گذشتہ کچھ سالوں میں بہت زیادہ اس جمع تفریق کے عادی ہوچلے ہیں، خاص طور پر جب ماں باپ زندہ نہ ہوں۔ اصلاح لازم ہے۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */