ہارون الرشید صاحب کی وائرل آڈیو، چند وضاحتی امور - محمد عامر خاکوانی

سینئر صحافی، کالم نگار اور اینکر ہارون الرشید صاحب کے حوالے سے ایک آڈیو کلپ وائرل ہوا، جو ایک پولیس افسر سے ان کی گفتگو پر مشتمل ہے۔ ہارون الرشید صاحب ان اخبارنویسوں میں سے ہیں، جن سے کئی حلقے شاکی اور ناراض رہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن والے ان سے سخت ناراض ہیں کہ انہوں نے شریف خاندان کے خلاف ہمیشہ بہت کھل کر سخت لکھا۔ مولانا فضل الرحمن پر ان کی تنقید سے جے یوآئی کے لوگ ناخوش رہے، ایم ایم اے میں شامل دیگر جماعتوں کےکارکن بھی ان کی بے لاگ تنقید سے زیادہ خوش نہیں۔ وہ ان اخبارنویسوں میں سے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو پر تنقید کی، پیپلزپارٹی والے یہ بات کبھی نہیں بھلا سکتے۔ تحریک انصاف کے وہ دیرینہ حامی اور سپورٹر رہے، مگر پچھلے چار پانچ برسوں میں کچھ فاصلہ پیدا ہوا، وہ عمران خان کی مختلف پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت ان سے اس درجہ ناخوش ہے کہ وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب سے لے کر سینئر صحافیوں سے عمران خان کی ملاقات میں بھی انہیں مدعو نہیں کیا گیا، اگرچہ تحریک انصاف کے حامی حلقے میں ان کی تحریروں کو آج بھی سراہا اور عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہارون الرشید صاحب کے خلاف جو بھی تحریر یا کلپ ہو، اسے ان کے مخالف سوچ رکھنے والے سیاسی حلقے زور شور سے پھیلاتے ہیں۔ اس آڈیو کو وائرل کرنے میں اس فیکٹر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہارون الرشید صاحب میڈیا کے ایک وفد کے ساتھ پچھلے تین چار دنوں سے چین ہیں، ارشاد احمد عارف صاحب، سہیل وڑائچ اور منصور آفاق اور بعض دیگر سینئر صحافی بھی اسی وفد میں ہیں۔ اسی وجہ سے ہارون الرشید صاحب کا اس آڈیو کے حوالے سے موقف سامنے نہیں آ پا رہا۔ آج شام کو ہارون الرشید صاحب کا چین سے فون آیا، انہیں کسی نے فون کر کے اس آڈیو کے بارے میں بتایا ، چین میں واٹس ایپ اور فیس بک پر پابندی ہے، اسی وجہ سے اس آڈیو کو وہ سن نہیں پا رہے، تاہم انہوں نے اس وائرل کلپ پر اپنا نقطہ نظر دیا ہے، نیچے دی گئی سطروں میں ان کا مؤقف دیا جا رہا ہے۔

ہارون صاحب کے مطابق انہیں کسی قاری نے بتایا کہ بغداد الجدید تھانہ پولیس، بہاولپور میں کسی بے گناہ شخص کو گرفتار کر کے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے نمبر لیا اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اور سے بات کی، اس نے کنفرم نہیں کیا، محرر نے بھی گریز کیا، یہ پولیس والا جس سے بات ہوئی، وہ تفتیشی تھا، ہارون صاحب نے اس پر رعب ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور سادہ سے چند الفاظ میں اپنا تعارف کرایا۔ ہارون الرشید صاحب نے وہ آڈیو ابھی سنی تو نہیں، مگر جوزبانی تفصیل انہیں بتائی گئی، اس کے مطابق ان کا خیال ہے کہ پولیس افسر نے دوران گفتگو بدتمیزی کی تھی، لگتا ہے وہ جملے دانستہ ایڈٹ کر دیے۔ ہارون صاحب کے بقول، ’’میں اس بدتمیزی پر اپنا ٹمپرامنٹ قدرے لوز کر گیا، جو کہ نہیں کرنا چاہیے تھا ، بلڈ پریشر کے مریض ہونے کی وجہ سے گاہےایسا کمزور لمحہ آ جاتا ہے جب بی پی شوٹ کر گیا اور زبان سے سخت جملہ نکل جائے۔ وہ بھی ایسا ہی کمزور لمحہ تھا، جب جھنجھلاہٹ میں اسے گدھے کا بچہ کہ دیا جو کہ ظاہر ہے نامناسب بات ہے، نہیں کہنی چاہیے تھی، اس کا افسوس ہے۔ مگر اس معاملے میں بڑی اہمیت کا حامل یہ نکتہ ہے کہ پولیس افسر نے ایک بے گناہ شخص کو بغیر پرچہ کاٹے اپنی تحویل میں رکھا ہوا تھا، جب بیلف نے چھاپا مارا، تو جیسا کہ پولیس کرتی ہے، ہنگامی طور پر پرچہ کاٹ دیا۔میں نے آئی جی پولیس محمد طاہر سے اس معاملے پر بات کی اور اسے کہا کہ اگر وہ شخص قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر وہ بے گناہ ہے تو اس ظلم کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ آئی جی نے کہا کہ یہ تو نہایت معقول بات ہے۔ ہارون صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کہا پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے کے لئے ائن سٹائن جیسا کوئی شخص چاہیے۔ اس پر آئی جی مسکرائے اور بولے کہ رفتہ رفتہ چیزیں بہتر ہوجائیں گی۔ ‘‘ ہارون الرشید صاحب کا کہنا ہے کہ تین چار دن میں چین سے واپسی ہے، واپس آ کر وہ اپنا موقف تفصیل سے بیان کر یں گے اور اس معاملے کی پیروی کریں گے، اگر وہ پولیس افسر درست ہے تو میں ہر سزا کے لئے تیار ہوں اور اگر اس نے ایک بے گناہ معصوم شخص سے زیادتی کی تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ہارون الرشید صاحب کی آڈیو کے حوالے سے ان کے مؤقف پر مبنی فیس بک پر پوسٹ کی تو اس پر آنے والے کمنٹس سینکڑوں تک پہنچ گئے۔ ان میں سے دو تین باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ رات والی پوسٹ میں صرف ہارون الرشید صاحب کا مؤقف پیش کیا۔ ان کا چین سے فون آیا اور کہا کہ وہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کر پا رہے، واپس آ کر اس پر لکھیں گے، لیکن ان کی جانب سے فیس بک پر یہ مؤقف دے دیا جائے۔ جو ہارون صاحب نے کہا، وہ میں نے دے دیا۔ اب کوئی چاہے اس سے اتفاق کرے یا اختلاف، ہر ایک کا حق ہے۔ میں نے اپنی پوسٹ میں اس ویڈیو پر تبصرہ کیا ہی نہیں تھا، البتہ تمہید میں یہ وضاحت ضرور کی تھی کہ اس ویڈیو کے وائرل کرنے میں کون سے حلقے زیادہ متحرک ہیں، یہ درست کہ ہارون الرشید صاحب کے اپنے بہت سے حامی، تحریک انصاف کے ووٹرز نے بھی اس ویڈیو کو ناپسند کیا اور ان کا مؤقف بلا وزن نہیں، مگر بہرحال گالم گلوچ کے ساتھ یہ ویڈیو وائرل کرنے والے وہی حلقے ہیں جو ہارون صاحب کے بےباک اور تیز دھار قلم سے شاکی ہیں۔ اپنی اس تمہید پر قائم ہوں۔

آڈیو میں نے پوری سنی ہے بلکہ غور سے سنی ہے۔ میرے خیال میں ہارون صاحب نے غلطی کی ہے، غلطی کا اعتراف کرنا ہی ہمیشہ مستحسن اور بہتر رہتا ہے۔ انہوں نے مس ہینڈلنگ کی، لب ولہجہ درست نہیں تھا، اس تفتیشی پولیس افسر کو درست انداز میں ہینڈل نہیں کر پائے، شروع ہی میں آئی جی کے فون کا کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، اس سے یہ تاثر ملا جیسے دھمکا رہے ہوں۔ (اگرچہ شاید ایسا نہیں تھا۔) پھر گدھےکا بچہ کہنا تو باقاعدہ غلطی بلکہ بلنڈر تھا۔ گالی دینے کا کسی بھی صورت میں کسی کو حق نہیں۔ اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے تھا۔ ان جیسے بڑے شخص سے زیادہ تحمل اور برداشت کی توقع کی جاتی ہے۔ آڈیو سننے والے تقریباً ہر شخص کا تاثر منفی ہوگا اور ہارون صاحب کے بہی خواہ، ان کے مداحوں کو بھی اس سے مایوسی ہوئی، اس آڈیو کا دفاع مشکل ہے اور بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس پر معذرت کر لی جائے۔ وہ چین میں ہیں، واپس آئیں گے تو ظاہر ہے اس پر لکھیں گے اور بات بھی کریں گے، فون پر جو بات ہوئی، اس میں انہوں نے منہ سے گالی نکل جانے پر معذرت کے الفاظ کہے۔ البتہ اس پوسٹ پر کمنٹس کرنے والے بعض احباب کی اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کہ تفتیشی کو کیوں فون کیا؟ اخبارنویسوں کا پولیس کو فون کرنا کون سی نئی یا عجیب بات ہے۔ آئے روز پولیس والے بےگناہ لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں اور پھر ان میں سے بہت سوں کو میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں ہی سے ریلیف مل پاتا ہے۔ بےشمار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے میسج کیا، فون کیا یا کسی اور ذریعے سے رابطہ کیا کہ پولیس نے ان کے کسی بچے کو بے گناہ اٹھا لیا ہے، پرچہ بھی نہیں کاٹا اور حبس بےجا میں رکھا گیا ہے، تھانے فون کر دیں۔ عام طور پر اخبارات میں اس کام کے لیے کرائم رپورٹرز سے مدد لی جاتی ہے، وہ روزانہ کی بنیاد پر تھانوں سے رابطے میں رہتے ہیں، جرائم کی خبریں، ڈاکے، قتل وغیرہ کی وارداتوں کی رپورٹنگ کے حوالے سے۔ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو بہت بار اسی واسطے سے جان چھٹ جاتی ہے، کرائم رپورٹر نے جاننے والے کسی ایس ایچ اوکو براہ راست فون کر دیا، یا کسی بے تکلف کو لعن طعن بھی کر دی کہ اتنا ظلم ٹھیک نہیں، بندے دے پتر بنو وغیرہ وغیرہ۔ کبھی ڈی ایس پی یا بعض کیسز میں ڈی پی او کے نوٹس میں وہ معاملہ لے آیا، عام طور پر اس سطح کے افسران سے بےگناہ کو ریلیف مل جاتا ہے۔

مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جنہوں نے منہ پھاڑ کر کہہ دیا کہ تفتیشی کے معاملے میں مداخلت کیوں کی گئی؟ یا حیرت؟ یہ کسی جج کی عدالت تھی کیا؟ تھانے ہمارے ملک میں ظلم کا سب سے بڑا گڑھ ہیں، جہاں بے غیرتی، بے حسی، سفاکی اور درندگی ہمہ وقت بال کھولے، دانت نکالے رقص کرتی ہے۔ کیا ان لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم یا ہارون الرشید کو رگڑا لگانے کی خواہش نے اندھا کر دیا ہے؟ ان کے کسی بے گناہ بھائی، بیٹے کو پولیس والے پیسوں کے چکر میں اٹھا کر لے جائیں اور پھر دیکھا جائے کہ یہ صاحبان کیسے مداخلت نہیں کرتے، اور خاموشی سے گھر بیٹھ کر تفتیش مکمل ہونے اور اپنے برخوردار کی لترپریڈ کا انتظار فرمائیں گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ فوراً بھاگیں گے اور آس پاس کے کسی بااثر شخص سے رابطہ کر کے پولیس کے ظالمانہ چنگل سے بچہ چھڑوانے کی کوشش کریں گے، اس کے لیے فون کرائیں گے، منت ترلا کر کے ساتھ بھی لے جائیں گے، خبر چلوانے کے لیے منتیں کریں گے وغیرہ وغیرہ۔

تاہم میرے خیال میں ہارون صاحب کو فون کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، یہ ان کی سطح کا معاملہ ہی نہیں تھا، دنیا نیوز کے کسی ڈسٹرکٹ رپورٹر کو کہتے، وہ معاملے کو دیکھ لیتا اور اگر پرچہ کاٹے بغیر بندہ اٹھایا تھا، تب ڈی پی او کو کہہ کر ریلیف دلا دیا جاتا۔ لگتا ہے کسی نے ہارون صاحب پر زیادہ زور ڈالا اور منت ترلا کر کے یا درخواست کر کے براہ راست فون کرنے پر مجبور کر دیا۔ معاملہ بہاولپور کے ایک مضافاتی تھانے کا تھا، وہاں ان کا براہ راست واقف بھی کوئی نہیں ہوگا، انھیں ایس ایچ او کا نمبر ملا، بات کی، مگر اس نے جان چھڑا لی اور انکار کر دیا، محرر یا تفتیشی سے رابطہ ہوا اور جھنجھلاہٹ، چڑچڑے پن کی کیفیت میں یہ سب گفتگو ہوئی جسے بعد میں وائرل کر دیا گیا۔ اگرچہ جھنجھلاہٹ، چڑچڑا پن، یا بلڈ پریشر شوٹ کرنا بھی تلخ کلامی کا جواز نہیں بن سکتا۔ اس بات پر میرا مؤقف واضح ہے، تاہم چونکہ ہر کام کا کچھ تناظر اور پس منظر ہوتا ہے، اس میں یہ تمام فیکٹرز آ جاتے ہیں۔ ہارون صاحب نے اگر کال کر بھی لی تھی، اس تفتیشی نے دانستہ انجان بننے اور عدم تعاون کا مظاہرہ کیا، ہارون صاحب نے اشارہ دیا کہ آئی جی تک بات جا سکتی ہے، پلسیے نے پھر بھی لچک پیدا نہیں کی تو پھر وہاں پر کال ختم ہوجانی چاہیے تھی۔ پھر آئی جی کے لیول پر بات کی جاتی، اس کے نوٹس میں یہ معاملہ لایا جاتا، جیسا کہ ہارون صاحب نے بتایا کہ بعد میں ایسا کیا گیا، آئی جی خود ہی متعلقہ تھانے بات کر کے اصل ماجرا معلوم کر لیتا اور مناسب کارروائی ہوجاتی۔

تصویر کا ایک رخ اس نکے تھانے دار یا تفتیشی کی سمارٹ نیس بھی ہے۔ آڈیو سننے سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ پولیس والا دانستہ کال ریکارڈ کر رہا ہے۔ اسے کال ریکارڈ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کون سی بینک یا موبائل سروس ہے، جس میں ٹیپ شدہ آواز سنائی دیتی ہے کہ سروس کی کوالٹی کے لیے کال ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ پلسیے نے ہوشیاری سے کوئی ایسا سخت جملہ منہ سے نہیں نکالا، جس پر اس کی بعد میں گرفت ہوسکے۔ اس نے دانستہ تحمل ظاہر کیا اور ہارون صاحب کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ ہارون صاحب کو ٹاک شوز میں سننے والا ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ بسا اوقات تکرار سے بھڑک اٹھتے ہیں، پلسیے نے سمارٹ نیس دکھائی، انہیں ٹمپر لوز کرنے پر مجبور کیا اور پھر یہ کال ریکارڈ کر کے وائرل کر دی۔

* جس طرح اسے ہارون صاحب کے خلاف ایک منظم کمپین کی شکل دی جا رہی ہے۔ ہر واٹس ایپ گروپ میں یہ آڈیو شیئر کی جا رہی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کو سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ یہ سب اوور ڈوئنگ اور ٹو مچ لگ رہا ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے جھاڑیوں میں چھپے تمام بھیڑئیے اچانک ہی چھلانگ مار کر باہر آ گئے اور اب وہ چیر پھاڑ کر رکھ دینا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے میرا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں جو اس حوالے سے پہلے سے کسی تعصب، بغض ، کینہ یا نفرت کا شکار نہیں اور وہ اس آڈیو کو سننے کے بعد جینوئنلی منفی رائے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ نہیں۔ انہیں اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن وہ ظاہر ہے اس حق کو بھی تسلیم کریں گے جو ہر آدمی کو اپنے موقف کی وضاحت کے لئے حاصل ہے۔ کسی کانقطہ نظر ٹھنڈے دل ودماغ سے سن لینے سے اس کا پورا تناظر واضح ہوجاتا ہے اور پھر آپ کو حق حاصل ہے کہ جومرضٰی رائے اخذ کریں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ہارون رشید صاحب سے غلطی ہوئی۔ اور غلطی ماننا اعلی ظرفی ہے۔۔۔ اپکے معلومات کیلئے چائینہ میں wechat ایپ استعمال ہوتی ہے جو وٹس ایپ ہی کی طرح ہے

  • السلام و علیکم۔۔محترم، آپ نے بہت معتدل لکھنے کی کوشش کی پر معذرت کے ساتھ جانبداری سے اپنی تحریر کا دامن نہ بچا سکے،، یہ تو ایک آڈیو ہے، ایسے بے شمار واقعات ہر سطح پر ہورہے ہیں، سب ہی کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہی ہیں،مگر ہارون رشید صاحب تو صحافی ہیں نا۔۔یعنی چار نوبل پروفیشنز میں سے ایک کے حامل، پھر؟ اور سفید کپڑے پر داغ دور سے ہی نظر آ جاتا ہے،آپ کے ممدوح کو یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی صحافتی پوزیشن کو یوں استعمال کرتے، وردی کی عزت کرنا چاہیئے نا چاہے وہ کسی اور محکمے کی ہی کیوں نہ ہو۔۔ بہرحال آپ نے یہ درست لکھا کہ ہارون صاحب سے غلطی ہوئی۔۔اب انہیں چاہیئے کہ وہ جس دنیا ٹی وی کا رعب جھاڑ رہے تھے اسی پر سب کے سامنے اس پولیس آفیسر سے معذرت کریں۔۔ کہ یہی ان کی بڑائی ہوگی۔۔ والسلام خرم علی راؤ۔۔۔ عفی عنہ