عمران خان ، بہت خوب - آصف محمود

بھات نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اس پر حیرت کیسی؟ حیرت مگر عمران خان کے ٹویٹ پر ہے اور خوشگوار حیرت۔ عمران کہتے ہیں:
’’ مذاکرات کی بحالی کی میری دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور متکبر رویہ باعث افسوس ہے۔ اپنی پوری زندگی میں نے ادنی لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض دیکھا ہے۔ یہ لوگ بصارت سے عاری اور دور اندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں‘‘۔
ایک طالب علم کے طور پر سفارتی نزاکتوں سے آگہی کے باوجود میں عمران کی تحسین پر مجبور ہوں۔ برسوں کے اندیشوں اور خوف نے ہمیں فکری طور پر اپاہج کر دیا تھا۔ اس عارضے سے نجات کے لیے وہی راستہ بچا تھا جو عمران نے اختیار کیا ہے۔

میں کسی جذباتی لمحے کے زیر اثر عمران خان کی تحسین نہیں کر رہا۔ ایک طالب علم کے طور پر یہ میرا مطالعہ ہے جو اس تحسین پر مجبور ہے۔ پاک بھارت مذاکرات محض اقوال زریں نہیں ہوتے، یہ ایک پوری داستان ہے۔ اس داستان سے آگہی کے لیے ضروری ہے کہ ان مذاکرات کی بنیاد کو سمجھ لیا جائے۔ کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کی تجویز پہلی مرتبہ کس نے پیش کی تھی؟ اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر فرینک پی گراہم وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے کہا تھا پاکستان اور بھارت اپنے مسائل دو طرفہ مذاکرات سے حل کریں۔ انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا ، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے اور اہم ترین نکتہ بھی۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ بھارت ہی تھا جو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ سری نگر میں فوجیں اتارنے کے باوجود مجاہدین کی پیش قدمی روک نہ سکا تو اقوام متحدہ جا پہنچا۔ چنانچہ اقوام متحدہ نے مسئلے کے حل کے لیے 20 جنوری 1948ء کو ایک کمیشن بنایا اور ایڈمرل ٹمز کو ناظم رائے شماری مقرر کیا۔ لیکن بھارت اتنا ہی چاہتا تھا کہ اقوام متحدہ جنگ بندی کروا دے اور اس دوران وہ اپنا قبضہ مستحکم کر لے۔ رائے شماری کرانے میں وہ سنجیدہ نہ تھا چنانچہ ایڈمرل ٹمز اس رویے سے دل برداشتہ ہو کر مستعفی ہوگئے۔

17دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ نے میکناٹن کو اپنا خصوصی ایلچی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے تین ماہ میں اپنی تجاویز تیار کیں کہ کس طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے اور رائے شماری کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن بھارت نے ان کی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا اور وہ بھی بھارت کے رویے پر مستعفی ہو کر واپس چلے گئے۔

میکناٹن کے بعد اقوام متحدہ نے سر اوون ڈکسن کو اپنا خصوصی نمائندہ بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بھی کئی فارمولے پیش کیے مگر بھارت نے ان کا کوئی ایک فارمولا بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے بھی یہ کہہ کر استعفی دے دیا کہ ’’ بھارتی وزیر اعظم کسی بھی تجویز پر رضامند نہیں ہوتے، اس لیے کشمیر میں رائے شماری کا کوئی امکان نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے بھارتی رویے کی روشنی میں یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ - آصف محمود

اوون ڈکسن کے استعفے کے بعد اقوام متحدہ نے ڈاکٹر فرینک پی گراہم کو بھیجا۔ انہوں نے بھی فوجوں کے انخلاء کے بارے میں متعدد تجاویز پیش کیں اور بھارت نے حسب روایت تمام تجاویز کو رد کر دیا۔ ڈاکٹر فرینک پی گراہم نے جب ساری کوششیں کر کے دیکھ لیں تو آخر میں مایوسی کے عالم میں23 مارچ 1952ء کو انہوں نے کہا کہ ہم سے تو یہ معاملہ حل نہیں ہوتا۔ پاکستان اور بھارت اب اسے دو طرفہ مذاکرات سے حل کر لیں۔ یعنی جو ڈھول اقوام متحدہ نہ بجا سکا، وہ پاکستان کے گلے میں ڈال دیا گیا کہ لو مذاکرات مذاکرات کا پنڈال سجا کر اب یہ ڈھول تم خود بجا لو۔ پاکستان کی قیادت تب سے اب تک یہی ڈھول بجاتی آ رہی ہے۔

اگلے ہی سال یعنی اگست 1953ء میں محمد علی بوگرہ کی خواہش پر دہلی میں مذاکرات ہوئے۔ چار روزہ ان مذاکرات کے اختتام پر ایک مبہم سا اعلامیہ جاری فرما دیا گیا کہ ’’تمام مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے گا‘‘۔ محمد علی بوگرہ نے مگر کمال کر دیا ۔ ارشاد فرمایا: ’’بڑا بھائی ( بھارت) بہت فراخدل ثابت ہوا ہے۔ آئندہ ہم دفاع اور امور خارجہ میں مشترکہ پالیسیاں ترتیب دیں گے‘‘۔ محمد علی بوگرہ کا یہ ارشاد گرامی پاکستانی حکمرانوں کی بصیرت کا ایک خلاصہ ہے۔ جس ملک کے ساتھ آپ جنگ کر چکے اور کشمیر جیسا مسئلہ سلگ رہا ہے، اس ملک کو بڑا بھائی اور فراخ دل کہہ کر دفاع اور امور خارجہ میں مشترکہ پالیسیاں ترتیب دینے کی بات کرنے والے کو کسی نفسیاتی معالج کے پاس ہونا چاہیے تھا، صاحب مگر وزیر اعظم ہاؤس میں براجمان تھے۔ یہ راز آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ بوگرہ صاحب بھارت کے ساتھ مل کر کس دشمن کے خلاف مشترکہ دفاعی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرنا چاہتے تھے، البتہ بوگرہ صاحب کو اگلے ہی سال یعنی ستمبر 1954ء میں بڑے بھائی کی جانب سے ایک خط ملا جس میں بھارت نے رائے شماری کے کسی بھی امکان کا انکار کر دیا۔ یہ خط بھارت کی اس پالیسی کا اعلان تھا کہ اب سے کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔

چند سال اور گزرتے ہیں۔ 1962ء میں بھارت اور چین کا سرحدی تنازعہ شروع ہو جاتا ہے۔ خطرہ تھا کہ کہیں پاکستان چین یا روس کے ساتھ مل کر کمیونسٹ بلاک سے وابستہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ 29 اکتوبر 1962ء کو دولت مشترکہ کے سیکرٹری ڈنکن سینڈیز اور امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ ایورل ہیریمن پاکستان پہنچے، صدر ایوب خان سے ملاقات کی اور نہرو اور ایوب کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک دستاویز ایوب خان کے سامنے رکھ دی۔ صدر ایواب نے اس پر دستخط کر دیے اور ڈنکن سینڈیز یہ دستاویز لے کر بھارت روانہ ہو گئے اور وہاں نہرو کے دستخط کروا لیے۔ ایوب خان نے اس اہم پیش رفت پر امریکہ اور برطانیہ کا شکریہ ادا کیا۔ لیکن جیسے ہی چین کے ساتھ بھارت کا تنازعہ کچھ تھما، نہرو نے لوک سبھا میں کھڑے ہو کر کہ دیا: ’’حالات کے پیش نظر وہ معاہدہ صرف ایک رسمی کارروائی تھی۔ کشمیر کے متعلق ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔ یہاں تک کہ ایک وقت وہ بھی آیا جب بھارت نے اعلان کر دیا: ’’ایوب خان اور پنڈت نہرو میں ملاقات نہیں ہو سکتی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   بلیک یا گرین فرائیڈے - شہاب رشید

یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا کہ نائن الیون ہو گیا۔ نائن الیون کے بعد بھارت کی پالیسی تبدیل ہو چکی ہے۔ اب وہ مزید جارحانہ ہوگئی۔ جب جب مذاکرات کی بات چلتی، بھارت پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر مذاکرات سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پاکستان کو گویا کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ ہم یقین دہانیاں کراتے رہتے ہیں اور وضاحتیں کرتے رہتے ہیں کہ نہیں نہیں یہ دیکھو ہم تو دہشت گردی کے خلاف یکسو ہیں۔ جب ہم خوب ناک رگڑ لیتے ہیں اور بھارت کا سفارتی مقصد پورا ہو جاتا ہے، تب جا کر وہ بے مقصد مذاکرات کے ایک دو سیشنز پر رضامند ہو جاتا ہے۔ اس دوران اس کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے اور دہشت گردی سے اس کی مراد تحریک آزادی کشمیر ہوتی ہے۔ ہمارا رویہ دفاعی ہوتا ہے اور ہم اکثر وضاحتیں پیش کرتے پائے جاتے ہیں۔ ہم بھول ہی گئے تھے کہ سفارتی جارحیت بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے۔

ابھی بھی یہی ہونا تھا۔ دنیا بھر میں یہی زیر بحث آنا تھا کہ بھارت نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ پھر بھارت سے پوچھا جاتا اس نے انکار کیوں کیا اور اس کے سفارت کار پاکستان کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کر دیتے۔ اس کے بعد اگلے چند ماہ ہم وضاحتیں پیش کرتے رہتے۔

عمران خان کے اس ٹویٹ نے سارا منظر نامہ بدل دیا ہے۔ اب ہم نہیں بھارت کٹہرے میں ہے۔ ہم نے مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ ہماری پوزیشن کمزور نہیں۔ بھارت نے انکار کیا اور عمران نے اسے کامیاب شٹ اپ کال دے دی۔ رہ گئی یہ بات کہ عمران خود کیوں بولے، یہی بات دفتر خارجہ کے کسی اہلکار سے کہلوا دی ہوتی تو جناب اگر ڈپلومیٹک آفینسو کا فیصلہ کر لیا گیا تھا تو دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم امن کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں بھارت نہیں چاہتا، یہ بات اعلی ترین منصب ہی پر بیٹھے آدمی کو کہنی چاہیے تھی۔

این جی اوز کے قلمی کارندوں اور مغرب کے فکری رضاکاروں کی دانش گردی سے یہاں فکر کی دنیا میں ایسا ملامتی طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو ہر کام میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے معاملات کو اپنی اپنی این جی او، اپنے اپنے ڈونر اور امریکہ اور برطانیہ کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ تو عمران کے خلاف اب اودھم مچائیں گے لیکن جو پاکستان کے معاملات کو پاکستان کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور مغرب کے ان فکری رضاکاروں کی مہم کا حصہ ہیں نہ اس سے مرعوب، وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان بہت خوب۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.