ڈیم اشد ترین ضرورت مگر - ارشدعلی خان

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے مختصر خطاب میں ڈیم فنڈ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام پاکستانی چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا بیرون ملک، اس فنڈ میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ انہوں نے اورسیز پاکستانیوں پر نہایت زور دے کر کہا کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے ملک کے لیے کم از کم 1000 ڈالر ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں جس سے ایک جانب ڈیم کے لیے پیسہ آئے گا تو دوسری طرف پاکستان میں ڈالرز کی کمی دور ہوجائے گی اور ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مستقل قریب یعنی 2025ء تک ملک میں خشک سالی کے اندیشے کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ ممکنہ خشک سالی سے صرف ڈیمز بنا کر ہی بچا جا سکتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025ء میں ہمارے پاس زراعت کے لیے پانی نہیں ہوگا جس سے خشک سالی اور پھر قحط کی صورتحال پیدا ہوگی۔ پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس صرف ایک مہینہ یعنی 30 دن کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کی کم ازکم صلاحیت 120دن مقرر کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے پڑوسی ملک بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 190دن ہے۔ اس موقع پر اگر وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنانے، پاکستان کو خشک سالی سے دوچار کرنے کی مذموم بھارتی کوششوں کی مذمت اور اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر مقدمے کی پیش رفت سے بھی قوم آگاہ کرلیتے تو شاید ان کی اپیل زیادہ توجہ سے سنی جاتی۔

وزیراعظم عمران خان کے خطاب سے چند لمحے قبل محکمہ موسمیات کی جانب سے موسم کی تازہ ترین صورتحال جاری کی گئی جس کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں میں اس سال معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کراچی سمیت سندھ اور پنجاب کے جنوبی علاقے خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں غذائی قلت اور خشک سالی کی وجہ سے اب تک درجنوں معصوم بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تھر میں پائے جانے والے مور بھی شدید خشک سالی کا شکار ہیں اور ان کے مرنے کی واقعات بھی درجنوں کے حساب سے رپورٹ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش قسمت کون؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان؟ آصف محمود

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈیم فنڈ قائم کرنا ایک احسن قدم سہی تاہم ڈیم بنانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کا مجوزہ تخمینہ 1400 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ بھی ہوگا۔ عمران نے اپنے خطاب میں نیلم جہلم ڈیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 80 ارب ڈالر میں بننے والا ڈیم کا خرچہ اب 500ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ 1400 ارب ڈالر کی رقم چندوں سے جمع کرنا ناممکنات میں سے ہے اور آپ کو غیرملکی ڈونر ز سے لازمی بات کرنی پڑے گی، چین چونکہ پاکستان کا آزمایا ہوادوست ہے تو ڈیمز کے حوالے سے چین سے بات کی جاسکتی ہے۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے چین سے بات چیت کرکے ڈیمز کے لیے فنڈنگ پر راضی کر لیا تھا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نئی حکومت سابق حکومت کی پالیسی پر گامزن ہو اور چین کے ساتھ اس حوالے سے مزید مذاکرات کیے جائیں۔

اگر چہ میں بذات خود چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے ڈیم فنڈ بنانے کا شدید مخالف ہوں اور وہ اس لیے کہ ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام ہی نہیں، ان کا کام انصاف کی فراہمی، زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں کمی اور عدلیہ میں نچلی سطح پر کرپشن کی روک تھام ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اگرچہ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ کو سراہا مگر ساتھ مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام نہیں، یہ کام ہم سیاستدانوں کا ہے۔ بقول وزیراعظم چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں 180 کروڑ یعنی 1ارب 80 کروڑ روپے جمع ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب حکومت کے داڈوچہ ڈیم کے حوالے سے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں بحریہ ٹاون کے ملک ریاض بھی فریق ہیں۔ جس طرح چیف جسٹس نے ایک شہری پر تشدد کرنے کے جرم میں پی ٹی ٓآئی کے ایم پی اے عمران علی شاہ کو 5لاکھ روپے کا جرمانہ کرکے پیسے ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کا حکم دیا، اسی طرح ملک ریاض سے بھی بھاری جرمانہ وصول کرکے ڈیم فنڈ میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ پنجاب حکومت کا داڈوچہ ڈیم اب تک ملک ریاض اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی وجہ سے ہی نہیں بن سکا کیونکہ ڈیم کی زمین پر ملک ریاض نے سرکار کے کرپٹ افسروں کے ساتھ مل کر بحریہ ٹاؤن اسلام آباد اور فوجی افسران نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی شاندار ہاؤسنگ سوسائٹیز کھڑی کرلی ہیں۔ دوران سماعت ملک ریاض کے وکیل اعتزازاحسن نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک سال کے اندر داڈوچہ ڈیم دوسری جگہ بنا کر دینے کو تیار ہیں۔ عدالت کو چاہیے داڈوچہ ڈیم بھی ملک ریاض سے بنوائے اور دیامر بھاشا ڈیم فنڈ کے لیے بھی ان پر بھاری جرمانہ عائد کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کہاں ہے؟ - ذوالقرنین ہندل

اگرچہ بیرون ملک پاکستانیوں سمیت ملک کے اندر بھی وزیراعظم عمران خان کے ڈیم فنڈ کو سراہا جا رہا ہے اور یہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ بیرون ملک اور اندرونی ملک پاکستانیوں نے ڈیم فنڈ میں پیسہ بھیجنا بھی شروع کر دیا ہے تاہم کیا ہی اچھا ہوتا، اگر وہ اپنی ذات سے شروعات کرتے اور بنی گالہ محل ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتے۔ یہ ان کی سادگی اپنانے کی جانب ایک عملی قدم بھی ہوتا اور ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرانے والوں کے لیے ایک زندہ مثال بھی۔ پھر مجھ جیسے لوگوں کو بھی یقین ہوجاتا کہ جی ہاں ڈیم چندوں سے بھی بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.