اندیشوں کی صحافت اور صحافت کے اندیشے- ڈاکٹر سلیم خان

خبر رسانی اور صحافت میں فرق ہے۔ اول الذکر کا دائرۂ کار زمانۂ حال کے ظاہری پہلو تک محدود ہوتا ہے جبکہ صحافت حال کے ساتھ ماضی کا تناظر اور مستقبل کے امکانات پر محیط ہوتی ہے۔

ماضی اور حال کی حدتک بہت کچھ یقینی ہوتا ہے لیکن مستقل کے اندازے درست بھی نکلتے ہیں اور غلط بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً گزشتہ سال جب جسٹس دیپک مشرا منصفِ اعظم بنائے گئے تو کچھ قنوطیت پسند دانشوروں کا خیال تھا یہ فیصلہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ انہیں ہندواحیاء پرستوں کے حق میں بابری مسجد کا فیصلہ کروانے کے لیے لایا گیا ہے۔

اس سوچ کے پیچھے کچھ ٹھوس وجوہات تھیں۔ تین طلاق والے فیصلے کے سبب مسلمانوں کے اندر عدالت عظمیٰ کے تئیں بے اعتمادی پیدا ہو گئی تھی۔ ۲۰۱۹ ؁ کے انتخابات قریب آرہے تھے۔ حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہورہی تھی اور اس بات کا امکان بڑھتاجارہا تھا کہ بی جے پی اقتدار میں رہنے کے لیے رام مندر کا ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

جسٹس مشرا کا براہمن سماج سے تعلق ان اندیشوں کو تقویت دیتا تھا لیکن یہ سب نہیں ہوا بلکہ جاتے جاتے جسٹس مشرا نے عدالت عظمیٰ کی روایات کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کرنے والےجسٹس رنجن گوگوئی کا نام اپنے جانشین کے طور پر پیش کردیا جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا نہایت خوش آئند اختتام تھا۔

صدر مملکت نے اس کی توثیق کردی اور ۳ اکتوبر۲۰۱۸ ؁ کو نئے چیف جسٹس کی حلف برداری ہوجائے گی۔جسٹس مشرا کی مدت کار میں وہ اندیشے تو درست ثابت نہیں ہوئے جن کا اظہار اوپر کیا گیا لیکن اس میں شک نہیں کہ عدلیہ کے لیے یہ زمانہ خاصہ نشیب و فراز کا تھا۔

اپریل ۲۰۱۸ ؁ کے اندر ان کےخلاف۷ حزب مخالف کی جماعتوں کے ۷۱ارکان پارلیمان نے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر وینکیا نائڈو کے حضور مواخذے کی پٹیشن دائر کی جسے خارج کر دیا گیا۔ اس سے قبل جنوری میں عدالت عظمیٰ کے چار سینئر ججوں جستی چلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن لوکر اور کورین جوزف نے ایک پریس کانفرنس میں دیپک مشرا کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی اور یہ اعلان بھی کیا کہ ہندوستان کے اندر جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا اولین واقعہ تھا۔

ان دونوں معاملات میں جسٹس مشرا اپنے وقار کو بچانے میں کامیاب رہے۔منصفِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے ۱۹۹۳ ؁کے ممبئی بم دھماکوں میں یعقوب میمن کی پھانسی بحال کی تھی لیکن چیف جسٹس بن جانے کے بعد ان کی سہ رکنی بنچ نے نربھیا کے زنا بالجبر معاملے کے چار مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھی۔

دیپک مشرا کے زمانے میں قومی عدلیہ کا ایک اور منفرد واقعہ پیش آیا جس میں کلکتہ ہائی کورٹ کے جج سی ایس کرنن کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا گیا اور ۶ ماہ کی سزا سنائی گئی۔ اس جرأت کا مظاہرہ مشراجی جسٹس لویا کی مشتبہ موت کی تحقیق کی بابت نہیں کرسکے لیکن کرناٹک اسمبلی کی بابت اور شہری ماو نوازوں کے سلسلے میں جس طرح کے فیصلے اور جو تبصرے اس دوران کیے گئے وہ ہندوستانی عدلیہ کا روشن باب ہیں۔

مشرا کے پیش رو جسٹس کیہر نے گوکہ پرسنل لاء کی خوب وکالت کی لیکن ایک تو ان کے زمانے میں تین طلاق کا فیصلہ اکثریت کی رائے سے آگیا اور پھر نادانستہ انہوں نے حکومت کےسامنے قانون سازی کی تجویز رکھ کر جو موقع فراہم کیا اس سے سارے کرے کرائے پر پانی پھر گیا۔

جسٹس مشرا نے ہم جنسی کی بابت ایک نہایت شرمناک فیصلہ سناکر ہندوستان کے عدلیہ کی تاریخ کو داغدار کردیا۔ اس سے ہٹ کر ترقی منصب میں تحفظات کے مقدمے میں جسٹس مشرا نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت اترپردیش کے تحفظات فراہم کرنے کے فیصلے کوپہلے ہی مسترد کر دیا تھا لیکن جانے سے قبل وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ پر مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کرکے گویا مشرا جی نے گنگا اسنان کرلیا اور اپنے سارے پاپ دھو دیئے۔

یوگی ادیتیہ ناتھ پر مقدمہ چلانے کا حکم اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ بی جے پی والوں کے دماغ میں فی الحال بلا کی رعونت سرائیت کر گئی ہے۔ اس کا صدر امیت شاہ ہجومی تشدد کی بابت عدالت عظمیٰ کی ساری ڈانٹ پھٹکار سے بے نیاز راجستھان کے اندر سینہ ٹھونک کر کہتا ہے کہ محمد اخلاق کے قتل اور اس کے بعد ہونے والی ایوارڈ واپسی کی تحریک کے باوجود ہم لوگ کامیاب رہے تھے اور اب پھر انتخاب جیت جائیں گے۔

یعنی پہلو خان اور دیگر لوگوں کی مآب لنچنگ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایسے میں ہجومی تشدد پر حکومت کی نیند حرام کردینے والے جسٹس دیپک مشرا کا یوگی جی کے خلاف جرأتمندانہ فیصلہ قابلِ تحسین ہے اور اس کے لیے انہیں یاد کیا جائے گا۔اس فیصلے میں ان کے الفاظ کہ ’’ ٹرائل کورٹ پھر سے اس معاملہ پر غور کرے اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حکم صادر کرے‘‘۔ اپنے اندر معنیٰ و مفہوم کا ایک خزانہ سموئے ہوےہے۔جسٹس مشرا کی جا نشین جسٹس گوگوئی اپنے عہدے کو داوں پر لگا کر دیگر تین ججوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں شرکت کرکے کمال جرأتمندی کا ثبوت دے چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی مخالفت کے اندیشے جتائے جارہے تھے لیکن حکومت نے جسٹس جوزف کے معاملے میں اپنی رسوائی سے سبق سیکھ کر عقلمندی کی۔ ماہ جولائی میں جسٹس گوگوئی کو رام ناتھ گوئنکا لکچر دیا تھا۔ اس میں گوئنکا کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ’’زور دار حریت‘‘ اور ’’ خوف یا طرفداری سےپاک تحقیق و تفتیش ‘‘ پر زور دیا۔ یہ دونوں چیزیں فسطائی قوتوں کے لیے زہر ہلاہل سے کم نہیں ہیں۔

جسٹس گوگوئی نے انڈین ایکسپریس کے ایک مضمون بعنوان ’دم توڑتی جمہوریت‘ کا حوالہ دیاکہ ’’آزاد ججس اور پرشورصحافی جمہوریت کی دفاع کا ہراول دستہ ہے‘‘۔نیز آج کے حالات میں یہ اضافہ کیا کہ نہ صرف آزاد ججس اور پرشور صحافی بلکہ آزاد صحافی اور کبھی کبھار پرشور مچانے والے ججس بھی (ہر اول دستہ) ہیں۔

ان الفاظ سے جسٹس گوگوئی کے تیور کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آپ نے فرمایاکمزور نظام حکومت کو مدافعت کاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اپنی تقریر میں جسٹس گوگوئی نے کیرالہ میں قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کرنے والے عیسائی خاندان کی قربانیوں کو سراہا اور بنیادی حقوق کی بابت عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا ذکر کیا جس میں کہا گیا تھا’ ’ حقیقی جمہوریت کا اصلی امتحان وہ ہے ایک مختصر سی اقلیت کے تشخص کو بھی قومی دستور کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔ فیصلے میں آگے کہا گیا کہ ہماری روایت رواداری سکھاتی ہے، ہمارا فلسفہ رواداری کی تلقین کرتا ہے، ہمارا دستور رواداری پر عمل کرتا ہے اس لیے اسے کمزور نہ کیا جائے۔

آپ نے عدلیہ کے پیش قدمی کر اقدامی پوزیشن میں آنے پر زور دیا۔ جسٹس گوگوئی نے یاد دلایا کہ ہندوستان کی جیلوں ۶۷ فیصد لوگوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ انگلستان میں یہ تعداد صرف ۷ فیصد اور بدنام ِ زمانہ امریکہ میں بھی ۲۲ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ان مستظعفین میں ۴۷ فیصد کی عمر ۱۸ تا ۳۰ سال کے درمیان ہے جو الزامات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیئے گئے ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا کہ جسٹس گوگوئی عدلیہ کے چیلنجس سے واقف ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ادارہ عوام کے امید کی آخری کرن اور دستور کے تحفظ کا محافظ و سرپرست ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اقتدار پر دوبارہ قابض ہونے کا خواب دیکھا جارہاہے جسٹس دیپک مشرا کی جگہ جسٹس رنجن گوگوئی کا منصف اعظم بن جانا بی جے پی کی نیند حرام کرنے کے لیے کافی ہے۔