کیا ہم جنس پرستی ٹھیک ہے؟

بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے تازہ ترین فیصلے میں کہا ہے کہ بھارت میں ہم جنس پرستی قابل تعزیر جرم نہیں رہا جس پر مغربی میڈیا اور پاکستانی سیکولر عناصر بغلیں بجانے میں سرگرم ہیں۔

آپ کہتے ہیں کہ اگر دو افراد باہمی رضامندی سے کوئی ایسا فعل سرانجام دیں جس سے کوئی تیسرا اثر انداز نہ ہو تو ایسے عمل کو جائز قرار دے دینا چاہیے۔
یہیں ایک بنیادی نکتہ ہے جسے فراموش کرنے سے ساری خرابی جنم لے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے اور کس نے اور کب ثابت کیا ہے کہ دو افراد کے باہمی رضامندی سے کسی کام کو سرانجام دینے سے اگر بظاہر کوئی تیسرا متاثر ہوتا نظر نہیں آ رہا تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ کوئی تیسرا متاثر نہیں ہو رہا؟
ہم جنس پرستی کو ہی لے لیں۔۔۔
اگر اسے جائز قرار دے دیا جائے تو کیا واقعتا ًاس سے معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ کیا یہ ثابت ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں کبھی کوئی وبائی یا جنسی امراض جنم نہیں لیں گے؟ کوئی نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پیدا نہیں ہوں گے؟ اگر سائنس اب تک ثابت نہیں کر سکی تو ہو سکتا ہے کل ہو جائے کیا تب اسے غیر قانونی قرار دیں گے تو اس درمیان سرانجام دیے جانے والے افعال کا ذمہ دار کون ہوگا۔ یہاں ایمان بالغیب کی ضرورت پتہ چلتی ہے۔ کہ ایک بالادست قوت یہ بتا رہی ہے کہ کون کون سے کام اور افعال معاشرے کے لیے مضر ہیں ان سے اجتناب ضروری ہے۔ سائنس نہ بھی بتائے ہمارا ایمان ہمیں بتا رہا ہے کہ یہ خطرناک کام ہے۔ قرآن کے مطابق جس قوم نے سب سے پہلے اس قبیح فعل کو سرانجام دیا تھا اس پر پتھروں کی بارش ہوئی تھی۔

آج بھی بٹر فلائی ایفیکٹ butterfly effect یا Chios theory یہ کہتی ہے کہ دنیا میں کسی چھوٹے سے کام کا اثر لامحدود ہو سکتا ہے۔ کوئی چھوٹا سا کام دنیا میں بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ یعنی اگر کائنات کے چلتے دھارے میں ایک معمولی رخنہ ڈال دیا جائے جو بظاہر انتہائی معمولی نظر آ رہا ہو تو اس سے بھی ایسی تبدیلیاں جنم لے سکتی ہیں جو دنیا میں بڑے طوفان پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کی عام مثال یوں دی جاتی ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے کہ اگر ایک تتلی کائنات کے ایک کونے میں اپنا پر ہلائے تو اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے فضا میں جو معمولی تبدیلی پیدا ہو گی وہ کائنات کے کسی دوسرے گوشے میں بڑے طوفان کا سبب بن سکتی ہے۔ تو کیا ہم جنس پرستی کے عمل کو چھوٹا سمجھ لیا جائے چند نفسیاتی مریضوں کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کے لیے کائنات میں اتنے بڑے رخنے کو کیسے برداشت کیا جائے؟

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.