عبرت سرائے دہر ہے - اوریا مقبول جان

مجھے صرف اور صرف حسن صہیب مراد کا نوحہ لکھنا ہے۔ اس لیے کہ حکمرانوں کی افسردگی ان لاتعداد لوگوں کو گھیر لیتی ہے جو ان کی عنایاتِ خسروانہ کے امین ہوتے ہیں اور جن کی عمریں ان کے تبسمِ دلاویز کی چمک سے روشن رہی ہوتی ہیں۔ حکمرانوں کی کسمپرسی، بے وطنی اور لاوارثی کی موت کا نقشہ کھینچ کر رونے والوں کی بھی تاریخ میں کوئی کمی نہیں۔ میرے سرہانے جو چند کتابیں مستقل اپنا ٹھکانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک خواجہ حسن نظامی کی کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ بھی ہے۔

میں جب کبھی کارسرکار کے رعونت زدہ ماحول سے واپس لوٹتا تو اس کتاب کے چند ورق ضرور پڑھتا۔ اس کتاب میں انگریزوں کے ہاتھوں دلی کے لُٹ جانے کے بعد مغل شہزادوں اور شہزادیوں کی کسمپرسی کی تاریخی کہانیاں ہیں۔ مؤرخ کس قدر ظالم اور بے رحم ہوتے ہیں۔ وہ اگر بے کسی،مجبوری اور مظلومیت کی داستانیں تحریر بھی کرتے ہیں تو حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کی عام آدمی پر جوبیتتی ہے اسے چند فقروں اور دکھ بھرے تاثر پر ٹرخا دیتے ہیں۔

1857ء میں جو دلی کے باسیوں پر بیتی، جیسے کئی دنوں تک بیاکے گھونسلوں کی طرح ہزاروں انسانوں کی لاشیں درختوں سے لٹکتی رہیں اور کس طرح توپ کے دہانے پر باندھ کر لوگوں کو قتل کیا جاتا رہا۔ یہ سب تاریخ کے ذخیرے میں چند سطروں کے تذکرے سے زیادہ جگہ نہ پا سکے، لیکن خواجہ حسن نظامی کی اس ایک کتاب میں وہ جن کا کاروبار سلطنت سے بھی کوئی تعلق نہ تھا، وہ اس لیے نامور تھیں کہ بادشاہ کے گھر پیدا ہو گئیں یا بادشاہ سے بیاہی گئیں۔

ان کے بارے میں اس کتاب میں بیس سے زیادہ تذکرے ملتے ہیں۔1۔شہزادی کی بپتا،2۔دکھیا شہزادی کی کہانی،3۔مرزا مغل کی بیٹی،4۔غدر کی زچہ، 5۔غمگین شہزادی،6۔نرگس نظر کی عصبیت، جیسے قصے اس دنیا کی بے ثباتی اور اقتدار کے زوال میں صاحبان اقتدار کی حالتِ زار کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے یہ تاریخی واقعات بارہ حصوں پر مشتمل کتاب میں تحریر کئے ہیں۔ لیکن بیگمات کے آنسو سب سے زیادہ مقبول ہوا۔

پہلے انہوں نے اس کا نام ’’آنسو کی بوندیں‘‘ رکھا تھا جس میں صرف چند قصے شامل تھے، لیکن اپنے دوست اور سرسید احمد خان کے پوتے سر رامس مسعود کی فرمائش پر انہوں نے چند اور تاریخی قصے شامل کئے اور یہ کتاب چھپوائی جس کے ان کی زندگی میں ہی دس ایڈیشن شائع ہو چکے تھے۔

بادشاہوں کے خاندانوں کی مصیبت زدہ زندگی کی فرمائشی تاریخ لکھنے والے خواجہ حسن نظامی اس کے دیباچے میں ایک پتے کی بات کہہ گئے، ’’یہ مجموعہ ایک حد تک اس قابل ہو گیا ہے کہ اردو لائبریری کے کسی نیچے کے خانہ میں اس کو جگہ دی جائے، میں نے تو درحقیقت یہ کتاب مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ لکھنے کے لیے تیار کی تھی، مرثیہ کی لائبریری سے کیا تعلق۔ حسن نظامی، 15اکتوبر 1930ئ‘‘۔

خواجہ حسن نظامی کی یہ کتاب مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہ عبرت کا سامان ہے، ورنہ لکھنے والے جب اگر حکمرانوں کے زوال کے قصے بھی تحریر کرتے ہیں تو ان میں ان کی شانِ کجکلاہی کا تذکرہ ایسے کرتے ہیں جیسے وہ موت کی خوبصورت رتھ پر سوار ہو کر عوام الناس کو درشن کروانے نکلے ہوں۔

پڑھو کہ دیدۂ عبرت نگاہ رکھتے ہو اور ماتم کرو دنیا کی بے ثباتی کا اور ذکر بلند کرو اس حّی و قیوم کا جس کی بادشاہت ازل تا ابد قائم ہے اور جو جسے چاہتا ہے حکومت بخشتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ پڑھو’’دلی شہر میں ایک جامع مسجد ہے جس کو ہمارے دادا شاہ جہاں نے بنایا۔

دور دور کی خلقت اس کو دیکھنے آتی ہے مگر اس کو کوئی نہیں دیکھتا کہ مسجد کی سیڑھیوں کے سامنے پھٹے ہوئے برقعے کے اندر، ناتواں بچے کو گود میں لیے، پیوند لگا پاجامہ اور گھٹی ہوئی کنے لگی جوتی پہنے، کون عورت بھیک مانگتی ہے، یہ غریب دکھیا شہزادی ہے‘‘۔

پڑھو کہ تاج و تخت کیسے الٹتے ہیں اور شاہی بالا خانوں پر بیٹھنے والوں پر کیا بیتتی ہے! پڑھو! ’’غریب عورتوں نے چلنا شروع کیا۔ والدہ صاحبہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی تھیں اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی تھیں اور جب وہ یہ کہتیں ’’تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلواتی ہے جو تاج وروں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔ قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بے کسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل ہیں جس کی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔

ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں اور شہریاروں کا شاہ تھا۔ ہم شاہ جہان کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جواہر نگار، بہار دکھادی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دلی کے اندر بنا دی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبے سے ہیں۔ ہم عزت والے تھے، زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانہ نہیں ملتا، وہ کیوں سرکشی کرتی ہے، آج ہم پر مصیبت ہے، آج ہم پر آسمان روتا ہے‘‘۔ عبرت سرائے دہر میں عروج و زوال کی کہانیاں لکھنے والے بہت ہیں۔ جنہیں اس دنیا سے محبت ہوتی ہے وہ اس میں کامیاب و کامران ہونے والوں کے قصیدے بھی تحریر کرتے ہیں اور اسی دنیا کے چھن جانے کا نوحہ بھی تحریر کرتے ہیں۔ تاریخ کے سرد خانے میں ان گرد آلود قصوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

اسی لیے مجھے صرف اور صرف حسن صہیب مراد کا نوحہ لکھنا ہے۔ ایک عظیم باپ کے عظیم بیٹے کا مرثیہ۔ جن کی زندگیوں کی مشعلوں سے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ جن کے نقش قدم دنیا ہی نہیں آخرت کی منزل کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ کس قدر خوش نصیب تھا حسن صہیب مراد جس نے خرم مراد جیسے صالح باپ کے گھر میں جنم لیا۔ خرم مراد نے اپنی موت سے قبل جو وصیت تحریر کی، جی چاہتا ہے اس پر دستخط کر کے اپنی اولاد کو بھی دیتا جائوں کہ شاید اس سے بہتر تحفہ نہیں ہو سکتا، اس سے شاندار ورثہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔

لوگ اولاد کے ورثے میں مال و زر، محلات، سیاسی میراث اور فیکٹریاں چھوڑتے ہیں لیکن حسن صہیب مراد کے والد نے ورثے میں خوفِ الٰہی اور توکل علی اللہ کی میراث چھوڑی۔ خوش نصیب باپ تحریر کرتا ہے’’تم سب کے بارے میں جو آرزوئیں اور تمنائیں رہی ہیں، وہ عموماً دعا کے قالب میں ڈھل کر بیان ہوتی رہی ہیں۔

تعلیم و تربیت کا کام تو میں بہت کم ہی کر سکا ہوں۔ اس لحاظ سے اپنی کوتاہیوں کا شدید احساس ہے اور امید ہے کہ تم میں سے کوئی بھی قیامت کے دن میرا دامن گیر نہ ہو گا۔ ساتھ ہی اللہ کے اس عظیم الشان احسان کا شکر میرے بس سے باہر ہے کہ اس نے تم سب کو میری آرزوئوں اور میرے اعمال سے بڑھ کر نیک اور صالح بنایا اور اپنے دین کے لیے کام کرنے والا بنایا‘‘…دنیا کی حد تک میں نے سب سے پہلے جو چیز مانگی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تمہیں غنائے قلب کی دولت عطا کرے، دل کو دنیا سے بے نیاز رکھے…

اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کرنا اور خالص رکھنے کی کوشش میں لگے رہنا،یہ مختصر اور آسان نسخہ ہے، خلاصہ ہے، سارے دین کا، اور ساری زندگی و دین کے مطابق بنانے کا‘‘۔ ایسے خوش نصیب باپ کا صالح بیٹا حسن صہیب مراد جس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اللہ یاد آتا تھا، جس کی عمر علم اوڑھتے گزری اور جس کی مسکراہٹ اور لہجے کی نرماہٹ دلوں کو سکون بخشتی تھی۔ ایسے لوگ تاریخ کے چہرے کی رونق اور اس کے گرد آلود خزانوں میں چمکتے آفتاب ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیاں نور ہدایات کی لوریوں سے طلوع ہوتی ہیں اور بے داغ جوانیاں اللہ کے فضل کی امین ہوتی ہیں اور ان کی موت جیسے مٹی میں آفتاب دفن کر دیا ہو۔

ایسے لوگ محتاج و بے نوا، غریب و بے آسرا بھی ہوں تو کوئی حسن نظامی ان کی عبرت بھری داستان رقم نہیں کرتا۔ اس لیے کہ ان کی دولت تاج و تخت نہیں علم ہوتا ہے اور علم کے تخت پر بیٹھنے والے کو نہ زمانے کی بے مروتی پریشان کرتی ہے اور نہ ہی موت انہیں اس تخت سے اتار سکتی ہے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے زمین میں اترنے سے لحد روشن ہو جاتی ہے۔