یہ رہی تمھاری تلاش - ابوبکر قدوسی

کم کم ہوں گے کہ جو رات کو نکلتے تھے، دبے پاؤں چلتے تھے، کبھی غصہ جو کھا جاتے تھے اور گاہے مسکرا کے بات کرتے تھے۔ تاریخ نے ان کو سب سب لکھ لیا، وہ بھی ایسے ہی تھے۔

حکمران ایسے کہ آدھ دنیا کی حکومت پاؤں تلے دھری رہتی تھی اور خود کسی پتھر کو سرہانہ بنا سو رہتے تھے۔ اس دن بھی تو ایسا ہی ہوا تھا کہ دور سمندروں سے دورپار کا پردیسی آیا۔ پہلے تو مدینے کو دیکھ کے حیران تھا کہ یہ وہ کچی بستی ہے کہ جس کے مکین ہم پر راج کرتے ہیں، جس کے ہم باج گزار ہیں۔ پھر پوچھتا پوچھتا مسجد نبی تک آن پہنچا۔ آدھی دنیا کے حاکم کا پوچھا کہ دربار کہاں ہے؟ اکھیاں پھٹ نہ جاتیں تو کیا کرتیں؟
اس کو عادت کہ قیصر کے دربار کو دیکھ دیکھ عمر گذری، یہاں یہ جواب کہ کون سا دربار، کہاں کا دربار؟؟
کوئی دربار وربار نہیں بھائی ادھر ... جب نماز کو آتے ہیں تو ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور تم لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔
"اچھا ملیں گے کہاں؟" حیرتوں کے بیچ اس نے پوچھا۔
"مدینے کے جوار میں نکل جاؤ، دوپہر ڈھل رہی ہے، کسی دیوار کے سائے میں آرام کرتے مل جائیں گے۔"
پردیسی بستی کو دیکھنے اور خلیفہ کو کھوجنے نکلا۔ ایک دیوار تلے پتھر کو سرہانہ بنائے ایک طویل القامت، بہت خوب صورت سا انسان آرام کر رہا تھا۔ ایک گذرنے والے نے ہولے سے اشارہ کیا کہ یہ رہی تمھاری تلاش۔
.................

بڑھیا کی عمر بیت چلی تھی، مسافر نے احوال پوچھے، رو دی، بڑھاپے کا سیاپا کرنے لگی۔ کچھ حالات کی خرابی اور کچھ شکوے کرنے کی عمر، سب جگ سے ناراض بڑھیا داستان لے بیٹھی۔ مسافر نے تحمل سے داستان سنی، واپس مدینے آیا اور مقدور بھر سامان خورد و نوش لیا، کندھے پر رکھا ، ساتھ غلام چلا، اصرار کہ "سامان مجھے دے دیجیے، اٹھائے لیتا ہوں"
ادھر اک جملہ اور خاموشی کہ:
"قیامت کے روز بھی میرا بوجھ اٹھا لو گے؟"
سامان بڑھیا کے سامنے جا ڈھیر کیا۔ تشکر کے آنسو لفظ بن کے بڑھاپے کے منہ سے نکلے، دامن پھیلا کے بول اٹھی کہ کاش تو عمر کی جگہ ہمارا خلیفہ ہوتا۔ مسافر کی آنکھیں چھلک اٹھیں، بس یہی کہا اور چل دیے کہ کل آپ خلیفہ کے پاس آنا، مجھے ادھر ہی پائیں گی۔
بڑھیا نے اگلے روز تجسس کے مارے تلاش کی تو مسافر کو عمر بنا دیکھا، دل نے کہا کہ یہ رہی تمھاری تلاش۔
.................

دور دیا ٹمٹما رہا تھا، شاید کسی کی آس کا دیا کہ گاہے جلے، بجھے اور پھر روشن ہو جائے۔ خیمے کے باہر مسافر اداس اور تنہا بیٹھا، تنہائی سی تنہائی، سوچیں کہ کیوں سفر کو نکلا۔ اندر خاتون درد زہ میں مبتلا، بچے کی ولادت کا وقت، نہ کوئی ساتھی خاتون نہ مددگار، اجنبی بستی کے جوار میں بیٹھا ، بستی کی دور ہوتی رشنیوں کو تکا کیے لیکن بےکار۔ سوچیں کہ عمر کی بستی ہے لیکن اس کو کیا خبر ہمارے حال کی۔
اندھیرے میں ایک سایہ ابھرا، قریب آیا۔ گو شفقت بھرا لہجہ تھا لیکن تنہائی نے مزاج کی شگفتگی بھی چھین لی۔ سوال کے جواب میں بھی الجھ بیٹھا کہ جاؤ بھائی اپنی راہ لو۔ ممکن ہے اجنبی کے ساتھ کوئی خاتون ہوتی تو وہ یوں نہ الجھتا، لیکن ایک اکیلا خالی ہاتھ کا اجنبی مرد اس کی ایسے میں کیا مدد کر سکتا تھا، سو الجھتا نہ تو کیا کرتا؟
اجنبی بھی مگر تکرار پر مصر تھا، اسے بتاتے ہی بنی، اجنبی خاموشی سے واپس ہو لیا، اسے عجیب سا لگا، کچھ تو کہا ہوتا۔
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
مایوسی نے امید کے ساتھ مل کے عجیب رنگ کر دیا تھا۔
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
کچھ ہی دیر میں دو سائے اندھیرے کی دیوار سے پھوٹے۔ قریب آئے تو اجنبی کے ساتھ خاتون بھی تھی۔ ساتھ میں سامان ضرورت۔ آنے والی خاتون نے آتے ہی چولہا چڑھا دیا، ہوا میں پکتے روغن کی ہلکی ہلکی خوش بو اور ویرانے میں ملنے والے ساتھ نے اس کو پرسکون کر دیا۔ اس کے دماغ میں کچھ دیر پہلے خیال آیا تھا کہ کاش بستی کے حکمران ہمارے خلیفہ کو خبر ہوتی کہ کوئی اجنبی اس اجنبی دیار میں، حد نگاہ تک کے غبار میں، اس کو یاد کر رہا ہے۔
اب مگر سب بھول گیا تھا، بس ہلکا سا شکوہ کہ ان سے تو یہ اجنبی اچھا، بس ہلکا سا خیال کہ جو نوک زبان تک نہ آیا، دماغ میں آیا اور چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں اندر سے خاتون کی آواز آئی :
"امیر المؤمنین! ساتھی کو خوش خبری دیجیے کہ اللہ نے بیٹا دیا ہے۔"
امیر المؤمنین؟
امیر المؤمنین؟
بیٹا بھول گیا، خوش خبری کی کچھ خبر نہ رہی، گبھراہٹ نے آن لیا۔
اجنبی مگر شفقت بھری مسکان سے کہہ رہا تھا،
" ساتھی! گھبرا کیوں رہے ہو، عمر کو تم نے نوکر اسی لیے تو رکھا ہوا ہے کہ تمھاری خبر گیری کرے۔"
دور اندر سے آواز آ رہی تھی
...... یہ رہی تمھاری تلاش
رضی اللہ عنہ