حجاج اور معتمرین کیلیے خصوصی ہدایات - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 06 ذوالحجہ 1439 کا خطبہ جمعہ بعنوان " حجاج اور معتمرین کیلیے خصوصی ہدایات" مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ حج کی روح پرور میں حجاج کے قافلے بیت اللہ کی جانب رواں دواں ہیں، حجاج کرام بری، بحری اور فضائی راستوں میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں، تمام حجاج کی ایک ہی صدا ہے ، حجاج کرام بارگاہ الہی میں اپنی جھولیاں پھیلائے اشکبار آنکھوں کے ساتھ دعائیں کر رہے ہیں۔ نیز حجاج کو چاہیے کہ بیت اللہ کا تقدس قائم رکھیں اور کسی بھی منفی سرگرمی سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج سیاست اور مظاہروں کی جگہ نہیں ہے، اسے تنظیمی اور نظریاتی اختلافات کا اکھاڑا بنانا یکسر غلط ہے۔ حجاج کو چاہیے کہ حج شروع ہونے سے پہلے حج کا طریقہ سیکھ لیں؛ کیونکہ بہت سے حجاج غلطیاں کر کے اپنے ملکوں میں واپس چلے جاتے ہیں حالانکہ انہوں نے حج کے فرائض یا ارکان ہی ادا نہیں کیے ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حجاج کرام کو عقیدہ اور دینی اخوت نے ہی یہاں اکٹھا کیا ہے، اس لیے آپس میں شفقت اور رحمدلی کا تعلق پروان چڑھائیں۔ دھکم پیل سے یکسر دور رہیں، کمزور لوگوں کی مدد کریں، ہمیشہ نرمی اور برداشت سے آراستہ رہیں، اپنے آپ کو شرکیہ امور اور بدعات سے بچائیں، شرعی حدود کا خیال رکھیں اور اپنا ہر عمل نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بنائیں، یہاں کثرت سے دعائیں اور استغفار کریں، کیونکہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: یوم عرفہ کا روزہ غیر حجاج کیلیے مستحب ہے، اس دن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، میدان عرفات میں موجود لوگوں کو بخشش عطا کی جاتی ہے، نیز یوم عرفہ کی فجر سے لیکر ایام تشریق کے آخر تک ہر نماز کے بعد تکبیرات کہنی چاہییں، پھر آخر میں انہوں نے دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور سویرے پو پھوٹتی رہے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی سے کماحقہ ڈرو اور اس کے لیے رضائے الہی والے کام کرو اور نافرمانی سے بچو: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

مسلمانو!

مہکتی ہوئی باد نسیم و شمیم چل پڑی ہے، جو کہ نکہت و نگہت سے معمور ہے، یہ بھینی بھینی ہوا حج اور مشاعر حج کی مہک سے لبریز ہے، اس فضا میں حج کے ارکان اور فرائض آتے ہیں، اللہ تعالی کی جانب سے محترم قرار دیا گیا حرم بھی اسی میں شامل ہے، اللہ تعالی نے اسے نہایت مکرم، محترم، خوبصورت، پیارا، عظیم ، مقدس اور جلیل القدر بنایا ہے۔

حجاج جوق در جوق بیتِ عتیق کی جانب رواں دواں ہیں، تمام کھائی دار راستوں پر تلبیہ کہہ رہے ہیں، دور دراز کے علاقوں سے آ رہے ہیں، تلبیہ کہتے ہوئے حجاج فرحت سے نہال ہیں، ان پر شرح صدر کرنے والی برکھا برس رہی ہے۔

یہ اللہ کے وفود تیزی کے ساتھ پروردگار کی جانب گامزن ہیں، انہوں نے عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، ان کی آنکھیں اشکبار ہیں اور دعائیں جاری ہیں کہ:

إِلَيْكَ إِلَهِيْ قَدْ أَتَيْتُ مُلَبِّيًا

فَبَارِكْ إِلَهِيْ حَجَّتِيْ وَدُعَائِيًا

الہی! میں تیری طرف تلبیہ کہتا ہوا آ گیا ہوں۔ الہی ! میرے حج اور میری دعاؤں کو برکتوں سے نواز دے

قَصَدْتُكَ مَضْطَرًا وَجِئْتُكَ بَاكِيًا

وَحَاشَاكَ رَبِّيْ أَنْ تَرُدَّ بُكَائِيًا

میں لاچاری کی حالت میں تیرے پاس روتا ہوا آیا ہوں، میرے رب! تجھے تیرا واسطہ میرا رونا مسترد نہ کرنا

أَتَيْتُ بِلَا زَادٍ، وَجُوْدُكَ مَطْمَعِيْ

وَمَا خَابَ مَنْ يَّهْفُوْ لِجُوْدِكَ سَاعِيًا

میں خالی جھولی آیا ہوں، تیری جود و سخا میرا مطمع نظر ہے، اور تیرے فضل کی تمنا رکھنے والا کبھی خالی نہیں جاتا۔

حجاج بیت اللہ!

حرم کا احترام کرو، اس کی حرمت کی تعظیم کرو، حرم کے مقام و مرتبے کا بھر پور خیال رکھو، حرم کی ہیبت کو تحفظ دو، قوانین اور تعلیمات کی مکمل پاسداری کرو، کسی بھی ایسی سرگرمی سے بچو جس سے حج کا امن سبوتاژ ہو، یا جس سے حج کے مقاصد سے تصادم یا حج کے اہداف کی نفی ہو۔

حج لڑائی ، تنازعات اور اختلافات کی جگہ نہیں ہے۔ نہ ہی حج جلسوں، مظاہروں اور لانگ مارچ کی جگہ ہے۔ حج نعرے بازی، گروہ بندی اور تعصب کی جگہ بھی نہیں ہے۔ حج کا مقام اس چیز سے کہیں بلند ہے کہ حج کو تنظیمی ، یا جماعتی اختلافات کے نظر کیا جائے، یا حج کو سیاسی اور حزبی تنازعات کا اکھاڑا بنایا جائے۔

حجاج اور معتمرین!

اس سے پہلے کہ تم احرام کی چادریں زیب تن کرو، اور بیت اللہ کی جانب عازم سفر بنو حج کے فقہی مسائل ، حج کی شرائط اور حج کا طریقہ سیکھ لو ۔

کتنے ہی ایسے حجاج ہیں جو بڑی مشقتوں اور تکلیفوں کے بعد دیار مقدس تک پہنچتے ہیں اور مناسک حج و عمرہ ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن انہیں حج اور عمرے کے مناسک کا علم ہی نہیں ہوتا، یا انہیں کامل طور پر ادا کرنے کا طریقہ نہیں آتا اور پھر اسی طرح واپس چلا جاتا ہے حالانکہ اس نے کوئی رکن چھوڑ دیا ہوتا ہے، یا کوئی شرط پوری نہیں کی ہوتی یا کسی فریضے کو بھول گیا ہوتا ہے ، یا کسی ممنوعہ کام کا ارتکاب کر لیا ہوتا ہے۔

حجاج، معتمرین اور زائرین کرام!

اسلامی عقیدے نے آپ سب کو یہاں جمع کیا، فریضہ حج نے تمہیں ایک لڑی میں پرو دیا، دینی تعلقات نے تمہیں یہاں متحد کیا؛ اس لیے آپس میں شفقت، نرمی اور باہمی تعاون کی فضا قائم کریں۔ دھکم پیل اور مزاحمت مت کریں ۔ لڑائی سے پرہیز کریں، کمزور افراد پر ترس کھائیں، بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائیں، محتاج اور عاجز افراد کی مدد کریں۔

اپنے آپ کو نرمی، برداشت اور تحمل سے آراستہ رکھو۔ درگزر اور صرف نظر سے کام لو۔ دوسروں کیلیے سکون کا باعث بنو، خشیت کا احساس پیدا کرو۔ اپنی طبیعت میں ٹھہراؤ اور لطافت اجاگر کرو۔

اپنے آپ کو لڑائی، جھگڑا اور تکرار سے دور رکھیں۔ تنازعات، زبان درازی، اور چپقلش سے بچیں۔ فضول باتیں، بیہودہ گفتگو، اور بے حیائی سے باز رہیں۔ لغویات، گالم گلوچ اور جملے کسنے سے احتراز کریں۔ اور اپنے حج کو ہمہ قسم کے شرکیہ اور بدعتی کاموں سے محفوظ رکھیں۔

غلو سے بچیں اور جمرات کو چھوٹی کنکریاں جو کہ چنے یا کھجور کی گٹھلی یا انگلی کی موٹائی کے برابر ہوں وہی ماریں۔

شرعی حدود سے تجاوز کرنے سے قطعی طور پر بچیں، حج اور مناسک ادا کرتے ہوئے حبیب مصطفی ﷺ کی بھر پور اقتدا کریں۔

کثرت کے ساتھ توبہ استغفار کریں، اللہ تعالی کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کریں، پشیمانی اور ناتوانی اللہ کے سامنے رکھیں، اپنی ضروریات اور مجبوریاں عیاں کریں؛ کیونکہ تم اس وقت نزول رحمت کی جگہ ہو، یہ قبولیت کی جگہ ہے، یہ دعاؤں کی تکمیل ، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مقام ہے۔

اس جگہ کا مقام اور موجودہ وقت کا شرف ذہن نشین رکھیں، اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کو یاد رکھیں: (جو شخص حج کرتے ہوئے بیہودگی اور فسق کا ارتکاب نہ کرے تو وہ ایسے واپس لوٹتا ہے جیسے اس کی مان نے جنم دیا تھا) اور (حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے)

اللہ تعالی آپ کی دعاؤں کو قبول فرمائے، آپ کے استغفار کو پسند فرمائے، آپ کے حج کو قبول فرمائے، آپ کی کاوشوں کی قدر فرمائے، گناہوں کو معاف کرے اور آپ کے حج کو مبرور بنائے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کی بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

یوم عرفہ انتہائی معزز اور شرف والا دن ہے، یہ وقوف عرفات کرنے والوں کیلیے عظیم عید ہے، اس دن میں لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے، اس دن میں دعائیں سنی جاتی ہیں اور قبول ہوتی ہیں، اس دن میں باری تعالی کی جانب سے خیر و بھلائی میں خوب اضافہ ہو جاتا ہے۔ (کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالی یوم عرفہ سے بڑھ کر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو، بیشک اللہ تعالی اس دن میں قریب آتا ہے اور پھر ان حجاج کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ کیا چاہتے ہیں؟) مسلم

برکت کے اعتبار سے افضل ترین دعا ، جس کا ثواب سب سے زیادہ ملتا ہے، اور جو بہت جلد قبول ہوتی ہے وہ یوم عرفہ کی دعا ہے، اس لیے عرفہ کے دن خوب گڑگڑا کر اور حمد و ثنا کے ساتھ دعائیں کریں۔

حجاج کے علاوہ دیگر افراد کیلیے عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے، اور اس دن کا روزہ گزشتہ اور پیوستہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

یوم عرفہ کی نماز فجر کے بعد سے لے کر ایام تشریق کے آخر تک تکبیرات کہنا مستحب ہے، اگر کوئی نمازی جماعت میں تاخیر سے شامل ہو تو وہ اپنی نماز پوری کر کے تکبیرات کہے۔ جبکہ حجاج کرام قربانی کے دن ظہر کے بعد سے تکبیرات کہیں گے۔

مسلمانو!

ہر جگہ اور ہر مکان میں تکبیرات کہو، آباد اور غیر آباد تمام علاقوں میں تکبیرات کہو، زمین اور فضا میں ہر جگہ تکبیرات کہو، صبح اور شام تکبیرات کہو، اتنی تکبیرات کہو کہ تمہاری تکبیریں آسمان کو چھونے لگیں۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، اور تمام مسلم ممالک کو مستحکم، مضبوط اور امن و امان کا گہوارہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں پر مامور ہماری افواج اور مجاہدین کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، قیدیوں کو رہا فرما، اور ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! حجاج کرام کا حج اور ان کی عبادت کیلیے جد و جہد قبول فرما، یا اللہ! ان کے حج کو مبرور بنا، ان کی کاوشوں کو قبول فرما، ان کے گناہوں کو بخش دے، یا اللہ! ان کی جد و جہد کو قبول فرما، ان کے درجات بلند فرما، اور ان کی تمام تر تمنائیں پوری فرما، یا اللہ! انہیں ڈھیروں خیر و بھلائی عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا رحیم! یا عظیم!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں پرنٹ یا ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.