پانی کو عزت نہ دی تو - یاسر محمود آرائیں

بچپن میں جب یہ پڑھا کہ آنے والے وقت میں جنگیں پانی کے ذخائر پر قبضے کے لیے لڑی جائیں گی، تو اس وقت بڑی حیرت سے سوچتا تھا کہ وہ دور کب آئے گا اور ایسا کیوں ہو گا؟کیونکہ اپنے بچپن اور چند سال قبل یعنی لڑکپن تک میں پانی کی قلت سے بالکل نا آشنا رہا۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب گرمیوں کی طویل اور گرم دوپہر میں پانی کا پمپ چلا کر تازہ پانی سے نہانے سے بہت سکون ملا کرتا تھا۔ سال میں صرف ہفتہ دس دن "بھل صفائی" کے دورانیے میں ایسے گزرتے تھے جب پانی کی فراہمی معطل رہا کرتی۔ اتنے دن بہرحال گھر کے ٹینک میں ذخیرہ پانی چل جایا کرتا تھا لہٰذا، پانی کی کمی کے مفہوم سے نا واقف رہا۔ لیکن بچپن کے سہانے دنوں کی طرح یہ لذت نا آشنائی بھی اب ہوا ہو چکی۔ چنانچہ آج پانی کی بوند بوند کو ترسنے والے محاورے سے پریکٹیکلی واقف ہو چکا ہوں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پچھلے پانچ ماہ سے ہمارے رہائشی علاقے کی واٹر سپلائی لائن میں اک قطرہ پانی نہیں آیا۔ ہمارے ہاں چونکہ زیر زمین پانی انتہائی کڑوا اور نا قابل استعمال ہے لہٰذا گھریلو استعمال کے لیے پانی ٹینکر کے ذریعے منگوانا پڑ رہا ہے، جس کی فی ٹینکر قیمت تقریبا بارہ سے پندرہ سو روپے کے درمیان ہے۔ پینے کے پانی پر علیحدہ روزانہ تین سے چار سو روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہمارے مالی حالات بہتر ہیں لیکن پھر بھی ہمیں پریشانی ہو رہی ہے,مگر ایسے غریب اور دیہاڑی دار مزدور جن کی روزانہ آمدن بمشکل چار پانچ سے روپے ہے وہ کیسے گزارہ کرتے ہوں گے یہ سوچ کر جھرجھری آتی ہے۔ اب بچپن میں سنی پیشنگوئی سچ لگتی ہے کہ عنقریب جنگیں پانی کے حصول کی خاطر لڑی جائیں گی، لیکن ساتھ یہ خدشہ بھی نظر آتا ہے کہ ہماری قوم یہ جنگ کسی دوسری قوم سے لڑنے کے بجائے آپس میں ہی لڑے گی۔

چند قدرتی اور بہت سے مصنوعی عوامل کے باعث ہونے والی گلوبل وارمنگ اور انسانی آبادی میں بے تحاشہ اضافے کے سبب پانی کی کمی ایک عالمگیر مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو اس خطرے سے زیادہ متاثر ہیں اور ماحولیاتی ماہرین کی جانب سے مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے کہ عنقریب انہیں قحط کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی رپورٹ کے مطابق بھی 2025 تک پاکستان کو پانی کے بدترین بحران کا سامنا ہوگا۔ ملکی معیشیت کا تمام تر انحصار زرعی شعبے پر ہے، اور ہمارے لیے یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ ہمیں صرف گھریلو استعمال کے لیے ہی پانی کی ضرورت نہیں بلکہ ہماری معیشیت کو زندہ رکھنے کے لیے بھی پانی کی فراوانی لازم ہے اور اس وقت ہمارے پانی کے ذخائر کا 90 فیصد حصہ زرعی شعبے میں ہی خرچ ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہماری کل ملکی معیشیت میں زراعت کے شعبے کا کنٹری بیوشن 21 فیصد ہے اور ہماری تمام لیبر فورس کا 46 فیصد حصہ زراعت کے شعبے سے اپنا روزگار کما رہا ہے۔ گھریلو اور صنعتی استعمال کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے پانی میں بھی کٹوتی کا سلسلہ اسی طرح بڑھتا رہا تو پھر بہت جلد ہمارے کھیت کھلیان مکمل بنجر ہو جائیں گے۔ اور خدانخواستہ یہ کیفیت اگر پیدا ہو گئی تو نہ صرف غذائی قلت کا ہمیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ زرعی پیداوار نہ ہونے کے باعث بیرونی ادائیگیوں کے ضمن میں توازن بری طرح بگڑ جائے گا۔ جسے کنٹرول کرنے کے لیے لا محالہ عالمی مالیاتی اداروں کے پاس ملکی سلامتی گروی رکھنی پڑے گی لیکن اس کے بعد جن شرائط پر رقم ملے گی اس سے ملک میں افراط زر کا ایسا خوفناک طوفان نظر آئے گا جو بھوک، پیاس سے مرتی قوم کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوگا۔

برصغیر کے بٹوارے کے موقع پر دانستہ کی گئی کچھ بے اعتدالیوں نے وطن عزیز کو پانی کی خاطر دائمی محتاج کر ڈالا۔ تقسیم کے فورا بعد ہی نوزائیدہ مملکت کو یہ احساس ہوا کہ اس کے ہاں پانی لانے والے تمام دریائوں کا منبع کینہ پرور ہمسائے کے ہاتھ میں ہے۔ اس ہمسائے نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا آغاز کیا تو اپنے حصے کے پانی کی ملکیت محفوظ کرنے کے لیے کوشش شروع ہوئی اور 1960 میں سندھ طاس معاہدہ وجود میں آیا۔ اس معاہدے کے مطابق تین مشرقی دریائوں بیاس، راوی اور ستلج کو بھارت کے تصرف میں دیا گیا جبکہ تین مغربی دریا یعنی چناب، جہلم اور سندھ پر پاکستان کا حق ملکیت تسلیم کر لیا گیا۔ معاہدے کے بعد اپنے حصے کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اگر درست اقدامات کیے جاتے تو مذکورہ تین دریا ہماری ضرورت با آسانی پوری کر سکتے تھے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم اسی غرض سے بنائے گئے جو اسی کی دہائی تک ملکی ضروریات کو پورا کرتے رہے۔ پانی کی طلب بڑھنے اور اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد یہ ڈیمز اب ناکافی ثابت ہو رہے ہیں مگر اس تمام عرصے میں کوئی نیا ڈیم تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی۔ دنیا بھر میں ملکی ضرورت کے حساب سے اوسط 180دن کا پانی ذخیرہ کرنا لازم سمجھا جاتا ہے، بھارت تقریبا 150 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتا ہے جبکہ ہمارے ہاں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال ہمارا ملک 21 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد کرتا ہے۔ 2010ء کے سیلاب میں کم از کم ایک بلین ایکڑ فٹ پانی اسی طرح ضائع کیا گیا۔ یہ بھی درست ہے کہ سمندر کی جانب سے زمینی کٹائو روکنے کے لیے اس میں دریا کا پانی چھوڑنا لازم ہے اور اسی کو جواز بنا کر بعض لوگ نئے ڈیمز کی تعمیر روکے بیٹھے ہیں مگر، یہ بھی یاد رکھنا پڑے گا کہ ہمارے ہاں سال میں صرف 70 سے 80 دن بارش برستی ہے، اور ان دنوں ہمارے دریائوں میں طغیانی ہوتی ہے اور وہاں کا پانی سمندر کو روکے رکھتا ہے۔ لیکن بقیہ 270 دنوں میں دریائوں میں پانی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سمندر آگے بڑھتے ہوئے بڑی تیزی سے ہمارے ساحلی علاقوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ جبکہ جس کالا باغ ڈیم کو یہ جواز بنا کر متنازعہ بنایا گیا ہے کہ اس کے بننے کے بعد سندھ کی زمین بنجر ہو جائے گی اس کی کل گنجائش صرف 6.1 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اس ڈیم پر اٹھائے جانے والے اکثر اعتراضات بے بنیاد ہیں اور کالم کی تنگ دامنی ان کے رد کی متحمل نہیں ہوسکتی، مگر ان اعتراضات کے باوجود میری ناقص رائے میں ریفرنڈم کے ذریعے عوامی تائید حاصل کرنے کے بعد یہ ڈیم لازما تعمیر ہونا چاہیے۔ اس ڈیم کی متنازعہ حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے,تعمیر کے بعد اس کا کنٹرول کسی غیر جانبدار عالمی کمپنی کو یا خود اعتراض کرنے والے صوبوں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ لائق مسرت ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے دیگر بہت سی ضروری و غیر ضروری مصروفیات سے وقت نکال کر اس کام کو توجہ بخشی ہے، اور سول و فوجی حکومتوں کی اس مقصد میں ناکامی کے بعد اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کی کامیابی کی دعا کرنی چاہیے۔ یہ اتفاق رائے اگر پیدا نہ ہوا تو ایسے لیڈران کو جو یہ کہتے ہیں کہ، "یہ ڈیم ان کی لاش سے گزر کر ہی بنے گا" شاید کوئی خاص فرق نہ پڑے مگر، خاکم بدہن ان کے پیچھے چلنے والوں کی نسلیں ایک نہ ایک دن پانی کی خاطر آپس میں گلے کاٹتی نظر آئیں گی۔ عوام بیشک اپنے لیڈران اور ان کے نظریات کو عزت دیں مگر اس کے ساتھ اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اب ہر صورت پانی کو بھی عزت دینی ہوگی ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔